عنبرین مہناز
شادی کے بعد میں نے اہلیہ سے پوچھا، شادی سے پہلے تو آپ بڑی سیدھی سادی معصوم سی لڑکی تھیں، لیکن اب آپ اتنی شاطر، اور خطرناک کیسے ہوگئیں ؟،،
اہلیہ جھوٹے برتن مجھے دیتے ہوئے فرمانے لگیں، دراصل ہم لڑکیاں شادی سے پہلے اپنی ہٹلر ماؤں کے سائے تلے رہتی ہیں
اور شادی کے بعد آپ جیسے آخری
مغل شہنشاہوں کے سائے تلے آجاتی ہیں، جو ہر حال میں خوش رہتے تھے- اپنی یہ تعریف سن کر میرے کالر کھڑے ہوگئے، پتیلے کو دل سے مانجنے لگا –
اتنے میں ایک سوال اور دماغ میں وارد ہوگیا، اچھا ایک بات اور سمجھ نہیں آئی آج تک، وہ یہ کہ آخر بیویاں ہٹے کٹے چھ فٹ کے مسٹنڈے شوہر سے تو
بالکل بھی نہیں ڈرتیں، بلکہ انہیں الٹا ڈراتی ہیں، لیکن کاکروج جیسے ننھے سے کیڑے سے کیوں ڈرتی ہیں؟،، میرا یہ سوال سن کر اہلیہ مسکراتے ہوئے بولیں،
دراصل چوہے چھپکلی اور کاکروج گندے ہوتے ہیں اور شوہر تو آپ جیسے اچھے اور مہربان ہوتے ہیں تو اچھے لوگوں سے ڈرا تھوڑی جاتا ہے –
اہلیہ کی اپنے لیے اتنی محبت دیکھ کر میری آنکھوں سے خوشی کے پورے ساڑے گیارہ آنسو نکل آئے، اور برتن دھونے کے بعد پورے کچن کی صفائی بھی کردی،
اور پھر یہ روزانہ کا معمول بن گیا، بلکہ اہلیہ کی تعریفیں سن کر میں نے ہر اتوار کو کھانا بنانے اور کپڑے دھونے کی بھی ذمہ داری لےلی-
اب اہلیہ اسی طرح میری تعریفیں کرکے میرا سینہ چوڑا کرتی جاتیں اور میں مزید اپنی تعریفیں سننے کے لئے اہلیہ کو آرام دیتا جاتا –
ڈیڑھ سال بعد جب میری لاڈلی اس دنیا میں آئی تو اہلیہ نے اسے میری گود میں دیتے ہوئے بڑے پیار سے کہا، میں بہت بری ہوں اور آپ بہت ہی اچھے ہیں،
میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کی ذمہ داری لےلیں تاکہ اس پر آپ کے اچھے اثرات پڑیں اور یہ آپ جیسی پیاری اور اچھی بن جائے -،، اہلیہ کی اس بات پر میرے دل
میں محبت کے جذبات پھوٹ پھوٹ کر باہر آنے لگے، اور ایسے باہر آئے کہ اپنے آنے والے بچوں کی بھی ذمہ داری لینے کا اعلان کردیا –
لاڈلی کی حد تک تو میں نے اپنی ذمہ داری پورے دل سے نبھائی کیونکہ اس میں میری جان تھی، لیکن جب میرے بیٹے ہوئے اور انہوں نے اس دنیا میں
آتے ہی مجھے جو تنگ کرنا شروع کیا، اگلے پچھلے سارے گناہ یاد آگئے ، کمبخت جب بھی پیمپر بدلتا اسی وقت “تیل” کی دھار مارتے، جب روتے تو ایسے
حلق پھاڑ کر روتے کہ گھر کے درودیوار ہلنے لگتے، معاویہ تو آلو کا اتنا دیوانہ تھا کہ پوٹی کرتا جاتا، آلو کھاتا جاتا، میں ہاتھ میں آلو لیے اس کی پوٹی کی مہک
سونگھ سونگھ کر درد بھرے مرثیے پڑھتا رہتا اور کڑھتا رہتا
اہلیہ سے جب بھی فریاد کی کہ عالیجاہ پلیز بچوں کی یہ پیمپر پوٹی والی ذمہ داری سے مجھے
سبکدوش کردیجیے،تو بڑی محبت بھرے لہجے میں فرماتیں، میرے پیارے شوہر یہ میں آپ کے فائدے کے لیے ہی کررہی
ہیلن کیلر ایک نابینا خاتون یہ بھی پڑھیے
ہوں، بلکہ یہ تو میں آپ کے خاطر
قربانی دے رہی ہوں، میں ہونق بنا انہیں دیکھتا تو نم آنکھوں سے یوں وضاحت فرماتیں؛؛ دیکھیے میں اور ماؤں کی طرح خودغرض نہیں کہ اولاد کو
اپنے سے قریب کروں بلکہ میں تو بچوں کو آپ سے قریب کرکے اپنی ممتا کی قربانی دے رہی ہوں، اور بچے اسی طرح تو قریب آتے ہیں،
دیکھنا یہ بڑے ہوکر آپ کی طرح فرمانبردار اور خوبصورت انسان بنیں گے- اہلیہ کی یہ باتیں سن سن کر میری چھاتی چوڑی ہوتی رہی، اور بچے بڑے ہوتے رہے-
جب بچے بڑے ہوگئے اور اسکول میں داخلہ کرانے کا وقت آیا تو سوچا، چلو اب مجھے آرام مل جائے گا، لیکن جب پہلے دن مجھے صبح چھ بجے اہلیہ نے جگایا،
اور بڑی محبت سے یہ کہا، میرے حضور، میں چاہتی ہوں کہ یہ تعلیمی ذمہ داری بھی آپ اپنے سر لےلیں، کیونکہ آپ تو جانتے ہی ہیں میں نقل مار کر ہمیشہ پاس
ہوا کرتی تھی، اور آپ تو لیجنڈ تھے، بلکہ آپ تو میٹرک سے پہلے ہی بارہویں جماعت کی کتابیں حفظ کرچکے تھے تو آپ جیسے ذہین اور اعلیٰ دماغ کے باپ
جب اپنے ہاتھوں سے بچوں کو تیار کرکے اسکول بھیجیں گے تو یقیناً ہمارے بچے نیوٹن اور آئن اسٹائن سے بھی دو ہاتھ آگے نکلیں گے –
اہلیہ کی یہ بات سن کر ایک بار پھر سے میری چھاتی چوڑی ہوگئی، تو یوں یہ تعلیمی فریضہ بھی میں سرانجام دینے لگا
بائیس سال ہوچکے ایسے ڈھیروں
فریضے سرانجام دیتے ہوئے، جب جب تھکن طاری ہوتی،اہلیہ
میری تعریفیں کرکے میرے دل میں ایک جوش پیدا کردیتیں،
لیکن ایک سوال میرے دل میں ہمیشہ
سے اٹکا ہوا تھا، لیکن پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی، آخرکار کل میں نے پوچھ ہی لیا، بیگم آخر مجھے اپنی ذمہ داریوں سے کب ریٹائرمنٹ ملے گی اور کب مجھے
اپنے شوق پورے کرنے کو ملیں گے؟،، یہ سوال سن کر اہلیہ نے مجھے بڑی محبت سے اپنے ہاتھوں سے چائے بناکر دی، اور مسکراتے ہوئے کہنے لگیں،
میں بہت خوش نصیب ہوں، جو آپ جیسا “جئینس” چاہنے والا شوہر ملا، اور جئینس آخری سانس تک اپنوں کے لیے قربانی دیتے رہتے ہیں-
اہلیہ کی محبت بھری تعریف سن کر اس بار میری چھاتی چوڑی نہیں ہوئی، بلکہ میرے کان کھڑے ہوگئے،
معلوم نہیں کیوں –