افسانہ: سنو مین 300

افسانہ: سنو مین

تحریر شئیر کریں

افسانہ: سنو مین

افسانہ: سنو مین

وہ جنوری کی خاموش شام تھی۔
کھڑکی کے باہر برف آہستہ آہستہ گر رہی تھی، جیسے آسمان تھکن اتار رہا ہو۔
کچن میں چائے ابل رہی تھی اور ڈرائنگ روم میں وہ… حسبِ معمول خاموش، کرسی پر بیٹھا، لیپ ٹاپ کھلا، مگر نظریں اسکرین پر نہیں تھیں۔
میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کی خاموشی میں اب سردی نہیں، تھکن تھی۔
وہ میرا شوہر تھا۔
ہماری شادی کو دس برس ہو چکے تھے۔
وہ جذبات میں محتاط، لفظوں میں کنجوس اور محبت میں حد درجہ کفایت شعار۔
اور میں؟
میں سوالوں سے بھری، باتوں کی شوقین، زندگی کو آواز دے کر جینے والی۔
شادی کے بعد آہستہ آہستہ میں بھی خاموش ہونا سیکھ گئی تھی۔
کیونکہ ہر سوال کا جواب “بعد میں” اور ہر شکایت کا حل “سمجھو” ہوتا تھا۔
وہ کبھی چیختا نہیں تھا،
بس جم جاتا تھا…
بالکل سنو مین کی طرح۔
اس شام میں نے چائے اس کے سامنے رکھی تو اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔
جیسے مجھے پہلی بار دیکھ رہا ہو۔
کہنے لگا:
“تم تھک تو نہیں جاتیں؟”
یہ جملہ چھوٹا تھا،
مگر میرے اندر کہیں برف چٹخ گئی۔
میں نے مسکرا کر کہا:
“تھک جاتی ہوں، مگر رکتی نہیں۔”
اس رات پہلی بار ہم نے بات کی۔
کوئی شکوہ نہیں، کوئی الزام نہیں۔
بس اعترافات۔
اس نے بتایا کہ ذمہ داریوں نے اسے احساسات سے ڈرا دیا تھا۔
اور میں نے مان لیا کہ میں نے خود کو منوانے کے بجائے خود کو مٹانا سیکھ لیا تھا۔
کھڑکی کے باہر برف بدستور گر رہی تھی،
مگر کمرے میں سردی کم ہو چکی تھی۔
صبح فجر کے وقت اس نے مجھے آواز دی۔
کہا:
“چلو، تھوڑی واک کر لیتے ہیں۔”
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
سنو مین حرکت میں آ گیا تھا۔
برف پگھل نہیں رہی تھی،
مگر اب وہ جماؤ نہیں رہی تھی۔
اور میں جان گئی تھی—
محبت کبھی شور نہیں کرتی،
بس جب جاگتی ہے
تو موسم بدل دیتی ہے۔

افسانہ: سنو مین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں