اللہ کا فون نمبر
رات کے گہرے سناٹے میں علی اپنے نرم بستر پر لیٹا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کمرے میں ہلکی ہلکی خوشبو بکھیر رہے تھے، اور علی آسمان کو دیکھتے دیکھتے نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
علی نے خواب دیکھا کہ اس کا بستر آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگا۔ پہلے تو وہ حیران ہوا، مگر جلد ہی اس نے خود کو بادلوں کے اوپر پایا۔ ہر طرف چمکتے ستارے تھے، اور چاند اپنی روشنی سے دنیا کو نکھار رہا تھا۔ علی کا بستر اڑتا ہوا ایک خوبصورت وادی میں پہنچا، جہاں سبزے سے ڈھکی زمین اور چمکتے جھرنے تھے۔
علی بستر سے اترا اور اس حسین منظر کو دیکھنے لگا کہ اچانک اذان کی آواز سنائی دی۔ علی کو یاد آیا کہ یہ نماز کا وقت ہے، مگر جیسے ہی اس نے جائے نماز تلاش کرنا چاہی، اسے احساس ہوا کہ وہ تو اپنے بستر پر ہی رہ گئی! علی پریشان ہو گیا۔ “اب میں نماز کیسے پڑھوں؟” وہ سوچنے لگا۔
اسی پریشانی میں علی کی آنکھ کھل گئی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے اپنے بستر کے پاس دیکھا، اور واقعی، جائے نماز وہاں تہہ کر کے رکھی ہوئی تھی۔ علی مسکرایا اور خود سے کہا، “اگر میرا خواب کبھی سچ ہو گیا تو؟ میں ہمیشہ جائے نماز اپنے ساتھ رکھا کروں گا۔”
اگلی صبح علی نے امی سے اپنا خواب شیئر کیا۔ امی ہنس پڑیں اور بولیں، “یہ بہت اچھا خواب تھا! تمہیں ہمیشہ نماز کا خیال رکھنا چاہیے، چاہے تم کہیں بھی ہو۔”
اس دن سے علی نے عادت بنا لی کہ وہ اپنی جائے نماز ہمیشہ اپنے ساتھ رکھے۔ اس کے ابو بھی ہمیشہ وضو کرنے اور جائے نماز ساتھ رکھنے کی تاکید کرتے تھے۔ علی نے ان کی باتوں کو اور زیادہ سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا۔
امی نے علی کو نماز کے اوقات یاد رکھنے کا آسان طریقہ بھی بتایا۔ “دیکھو علی، یہ اللہ کا فون نمبر ہے: **24434**۔”
فجر کے دو فرض، ظہر کے چار، عصر کے چار، مغرب کے تین، اور عشاء کے چار۔
“جو یہ نمبر پانچ بار ڈائل کرے گا، وہ اللہ سے ملاقات کرے گا!”
نتیجہ
علی نے اس “فون نمبر” کو یاد کیا اور وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی کوشش کرے گا۔ اب وہ اپنی جائے نماز کے ساتھ نماز پڑھتا، چاہے وہ گھر میں ہو، اسکول میں، یا کسی اور جگہ۔
علی کے خواب نے اس کے دل میں نماز کی محبت پیدا کی اور اسے سکھایا کہ نماز ہر حال میں اہم ہے۔ یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بچوں کی تخیلی دنیا کو سمجھتے ہوئے انہیں اچھے کاموں کی طرف مائل کرنا نہایت ضروری ہے۔