تحریر:حاجرہ عمران
ایثار ، اخلاص اور قربانی ایک ہی جذبے کے جیسے تین نام ، تین روپ اور تین چہرے ہوں۔ قربانی ان کی اعلیْ ترین صورت ہے۔ دنیا میں قربانی کی روایت کچھ یوں پڑی کہ آدم علیہ سلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل نے نذر مانی اور اپنی قربانی مخصوص جگہ پر رکھ دی۔آسمانِ خداوند سے بجلی سی لپکی اور ایک بھائی کی نذر قبول ہوگئی، یوں قربانی کی رِیت چل پڑی۔ قربانی کی رسم ہر دور اور ہر مذہب کا حصًہ رہی ہے، اسے کوئی بدل سکتا ہے نا بدل پایا ہے۔ یہاں تک کہ چند ناعاقبت اندیش اور مغربی افکار کے دلدادہ قربانی کی رسم کے خلاف دلائل دینے لگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رب تعالیْْ کو خوش کرنے کے لیے صدقہ و خیرات کرنا چاہیے نہ کہ کسی جاندار کی قربانی کی جائے۔ ایسے لوگ چکن برگر ، عریبین شوارما ، اور چکن فجیتا پزاء کو انجوائے کرتے ہوئے فیس بک پر جانوروں کے مظلوم ہونے کی پوسٹیں لگاتے ہیں۔ کیا چکن جاندار نہیں ہے ؟ سائنس کی رو سے تو پیڑ پودے بھی جاندار ہیں،سانس لیتے ہیں ، بڑھتے ، پھلتے اور پھولتے ہیں ۔ تو کیا انہیں کھانا جائز ہے؟کیا ان کا دکھ , درد اور تکلیف بے اثر ہے؟
١٠ ذوالحجہ کی قربانی ہمیں اللہ کے اس جیْد پیغمبر حضرت ابراہیمؑ علیہ اسلام کی یاد دلاتی ہے جن کی اللہ سے محبت کی اس سے زیادہ عظیم مثال نہیں ملتی۔ دوسری طرف ان کے فرزند ہیں حضرت اسماعیلؑ، آپؑ کا جذبہ ء ایثار عظیم الشّان ، بے لاگ اور الوہی تھا۔ والد سرشارِ محبتِ خداوندی ہے، تو بیٹا اللہ اور اپنے والد دونوں کی محبت میں سرشار جان قربان کردینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے فرزند کو خانہ کعبہ کے رخ کر کے لٹا لیا، آنکھوں پر پٹی باندھ لی کہ کہیں عین آخری لمحے ان کی پدری شفقت غالب نہ آجائے اور وہ اپنے فرض سے کوتاہی برت لیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انسانیت اپنے معراج تک پہنچی، انسان کی سربلندی اور اشرف المخلوقیت اس کائنات کی ہر شے نے اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کی۔ اسی لمحے محبتِ خدا وندی جوش میں آئی اور جنت سے ایک دنبہ حضرت اسماعیل کی جگہ قربان ہو گیا۔ اللہ نے اپنے بندے کی نیت اور اخلاص کو پسند فرمالیا۔ اس کی قربانی کی جگہ اس کےایثار کو قبول فرما لیا۔ اللہ یہی اپنے ہر بندے سے چاہتا ہے۔ نیت کی بلندی انسان کو مقامِ ابراہیمی کے نزدیک تر کردیتی ہے۔ ایک عام بندہء خدا کے لیے اس سے بڑھ کر کیا سعادت ہوگی۔
قربانی کے روحانی فوائد کے علاوہ دنیاوی فوائد بھی موجود ہیں۔ جیسا کہ
ایک آدمی سارا سال مویشی پالتا ہے،عید الاضحٰی کے موقع پر اسے بیچ کر منافع حاصل کرتا ہے، اس سے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے رزق کا بندوبست کرلیتا ہے۔
اسی طرح جانوروں تک چارہ پہنچانے والے افراد کے گھر کا چولہابھی اسی قربانی سے وابستہ ہوتا ہے۔
بڑے پیمانے پر چمڑے کا کاروبار فروخ پاتا ہے۔ جس سے سینکڑوں افراد روزگار حاصل کرتے ہیں۔
مدرسے اور دیگر فلاحی ادارے کو کھالیں مفت دی جاتی ہیں جس سے ان اداروں سے وابستہ افراد کی کفالت کا بندوبست ہوتا ہے۔
قیمتی برانڈڈ کپڑے پہن کرشادی بیاہ اور دوسری دعوتوں میں شرکت کرتےوقت کسی کو صدقہ وخیرات یاد نہیں رہتا۔ اس وقت ہم کیوں نہیں سوچتے کہ دعوت کو چھوڑیں اور صدقہ و خیرات کردیں ، یہ نادر خیال صرف قربانی کے وقت ہی کیوں آتا ہے، درحقیقت اللہ کو دس ذوالحجہ پر قربانی کے خون سے زیادہ عزیز شے کوئی نہیں۔ ہر صاحبِ حیثیت مسلمان پر قربانی کا فریضہ لاگو ہوتا ہے، ایسا صاحبِ نصاب زکوْة و صدقات کی ادائیگی بھی ضرور کرتاہوگا۔ اس کے لیے عید الفطر اور سال کے دوسرے دن موجود ہیں۔
ایک بہت بڑی بیماری ہمارے معاشرے کی رگوں میں رچ بس گئی ہے اور وہ بیماری دکھاوے کی بیماری ہے۔ جس طرح دوسری عبادات، نماز، روزہ اور حج میں ریاکاری سے بچنے کا حکم ہے اسی طرح رسمِ قربانی کے وقت، نیک نیتی، اخلاص، ایثار اور خلوص کی زیادہ ضرورت درپیش ہے۔ اللہ تعالیْ انسان کی نیت کو پسند فرماتا ہے۔ اور قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے قربانی کرنے والے کے تمام گناہ معاف فرمادیتا ہے۔ قیامت کے روز قربانی کے گوشت کو ستر گنا زیادہ کرکے ترازو میں ڈالا جائے گا۔
یہ زمانے کا چلن بنتا چلا جا رہا ہے کہ مسلمان قوم کو کمزور سے کمزور تک کیا جائے۔ پہلے انہیں ایک خلافت کے جھنڈے سے نکال کر سرحدی لکیروں میں قید کیا گیا اس کے بعد انہیں ایک ایک کرکے معاشی بیڑیاں پہنائی گئیں ، باقی کسر جنگ کے ذریعے ان کا خون بہا کر کی گئی۔ فلسطین ، شام اور کشمیر اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اب ان کے لیے مسلمانوں کے نظریات اور ان کی عبادات پر حملہ کرنا آسان ہے اور یہی کیا جارہا ہے، نام نہاد مغرب پسند افراد کی طرف سےسوشل میڈیا کے ذریعے مسلمان بچوں کو بہکایا جارہا ہے۔ قربانی کو قتل و غارت گری کا شاخسانہ بتایا جا رہا ہے ۔ایسے موقع پر قلم کی طاقت آزمانے اور عقل کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی نئی نسل کواس یلغار سے بچاسکیں۔ اس کے لیے لکیر پیٹنے کے بجائے بروقت درست اقدام کی ضرورت ہے کیونکہ اگر سوشل میڈیا ان کے پاس ہے تو ہمارے ہاتھ بھی خالی نہیں۔ ہم اپنے گھروں سے تربیت کا وہ اعلْی انتظام کریں کہ ہمارے بچے خود ہی دشمن کے ہر حملے اور بودی دلیلوں کا جواب اعلیْ ترین حکمتِ عملی سے دے سکیں۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے اندر پوری طرح عقلی و سائنسی دلائل رکھتا ہے اس کا ہر اصول اور نظریہ نسلِ انسانی کی بقا و فلاح کے لیے ہے۔ اسے ہم نے صرف رائج کرنا ہے، قلمکاروں کو جمع کرنا ہے اور اپنے قلم کا حق ادا کرنا ہے۔ اپنی نئی نسل کو من گھڑت اور دجالی نظریات کی یلغار سے بچانا ہے اور اسلام کو اس کی روح سمیت اپنانا ہے، تاکہ اسلام کا ہی بول بالا ہوسکے کیونکہ اسلام کا مطلب ہی سلامتی اور امن ہے۔