211

الوداع ماہِ رمضان 2025

تحریر شئیر کریں

میرے بچو! کچھ مہینے روشنی جیسے ہوتے ہیں، جو دل کی زمین کو زرخیز کر دیتے ہیں۔ رمضان انہی میں سے ایک تھا، جو گزر گیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس کی روشنی سنبھال لی؟ یا پھر وہ لمحوں کی طرح ہاتھوں سے پھسل گیا؟ یاد رکھو! نیکی کی تڑپ کو بیدار رکھنا ورنہ روح کی زمین بنجر ہو جائے گی۔

روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں، یہ دل کے زخم بھرنے اور معاف کرنے کا ہنر سکھانے آیا تھا۔ تکبر اور حسد کے بوجھ کے ساتھ کوئی دعا آسمان تک نہیں پہنچتی۔ جو معاف کرنا جان لیتے ہیں، وہی رمضان کی اصل روح پاتے ہیں۔ اعمال کے چراغ صرف دعا اور نیکی کے تیل سے جلتے ہیں۔ اگر رمضان میں بھی دل صاف نہ ہوا، تو کب ہوگا؟

یہ دنیا ایک سرائے ہے، اور رمضان اس میں ایک پاکیزہ چشمہ تھا۔ کچھ نے اس سے خوب سیرابی حاصل کی، کچھ نے محض ہاتھ دھوئے اور کچھ پیاسے ہی رہ گئے۔ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے کہ تم کون ہو؟ رمضان گیا، مگر تمہیں رحمت، مغفرت اور بخشش کا راستہ دکھا کر گیا۔ اس روشنی کو مت بجھنے دینا۔

اللہ سے اپنا تعلق دعا اور امید کا رکھو، کیونکہ جو اللہ کو پکارے، وہ کبھی بے سہارا نہیں رہتا۔ اگر زمین پر عذاب مقدر ہوتا تو یہاں مدینہ نہ بستا۔ رمضان رخصت ہوا، مگر تمہیں وہ راستہ دکھا کر گیا جو مدینہ کو جاتا ہے— صراطِ مستقیم کا راستہ۔ **الوداع رمضان! ہم نے تجھے پایا، مگر کیا ہم نے تجھے سنبھالا؟

الوداع ماہِ رمضان 2025

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں