الٹی دنیا کا موسم
قلیلہ و دمنہ جدید حکایاتِ ای بک
تحریر: روبینہ شاہین
تاریخ: 10 جون 2025
—
راوی: قلیلہ
صبح کے سناٹے میں جب پرندے بھی سایہ ڈھونڈ رہے تھے، دمنہ چبوترے پر اکیلا بیٹھا آسمان کو تکتا پایا گیا۔ سورج کی تپش ایسی تھی جیسے آسمان نے آگ کے شعلے زمین پر انڈیل دیے ہوں۔ قلیلہ جو قریب کے درخت تلے بیٹھا، پیاس کی شدت سے بےچین تھا، دمنہ کے پاس آیا اور بولا:
“اے دمنہ! تُو آسمان کو ایسے کیوں دیکھتا ہے جیسے وہ کوئی گمشدہ پیغام دے رہا ہو؟”
دمنہ نے آہ بھری، اور کہا:
“اے قلیلہ! یہ آسمان اب وہ نہیں رہا جو کبھی بادلوں سے ڈھکا ہوتا تھا، برکھا کی امید دلاتا تھا، خوشبو دار ہواؤں کا پیامبر ہوتا تھا۔ اب یہ ایک انگاروں کی چھت بن چکا ہے۔”
قلیلہ نے حیرانی سے پوچھا:
“یہ کیسا زمانہ آیا ہے؟ ہم نے تو اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ ہر موسم کی ایک ترتیب ہوتی ہے، بہار کے بعد گرما، اور برسات کے بعد خزاں۔ اب یہ ترتیب کیوں بگڑ گئی؟”
دمنہ نے سنجیدگی سے جواب دیا:
“اے دوست، دنیا کے ایک کونے میں، جہاں عرب کی ریت کبھی بارش کو ترستی تھی، اب بادل کھیلتے ہیں، اور یہاں، ہمارے پاکستان میں، جہاں کبھی مون سون جشن منایا کرتا، وہاں سورج آگ برساتا ہے۔ درخت مرجھا گئے، ندیاں سوکھ گئیں، اور انسان چھاؤں کو ترس گئے۔”
قلیلہ نے سر جھکا کر کہا:
“یقیناً یہ کوئی فطری چال نہیں، ضرور ہم نے کچھ غلط کیا ہوگا۔”
دمنہ نے گرد و پیش پر نظر ڈالتے ہوئے کہا:
“انسان نے ترقی کے نام پر فطرت کو زخم دیے۔ درخت کاٹے، پہاڑوں کو کھودا، دریاوں کا بہاؤ روکا، اور فضاؤں میں زہر بھر دیا۔ ہم نے زمین کو گرم کر دیا ہے، اور اب موسم ہمارے خلاف ہو چکے ہیں۔”
پھر اس نے ایک آیتِ قرآنی تلاوت کی، جس میں ساری حقیقت سمٹ آتی ہے:
> “ظَهَرَ ٱلْفَسَادُ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ ٱلَّذِى عَمِلُوا۟ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ”
“خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کے سبب، تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔”
(سورۃ الروم، آیت 41)
قلیلہ نے آہستگی سے کہا:
“کیا واقعی انسان اتنا اندھا ہو چکا ہے کہ اسے قدرت کی صدائیں بھی سنائی نہیں دیتیں؟”
دمنہ نے جواب دیا:
“ہاں، وہ اندھا بھی ہے اور بہرا بھی۔ جب دریا شور مچاتے ہیں، پہاڑوں سے پانی پگھلتا ہے، اور ہوائیں سانس لینا دوبھر کر دیتی ہیں، تب بھی انسان نفع اور نقصان میں الجھا رہتا ہے۔”
قلیلہ نے گہری سانس لی اور کہا:
“تو لازم ہے کہ ہم رجوع کریں، نہ صرف اپنے اعمال سے بلکہ فطرت سے بھی۔ ہر درخت جو ہم لگائیں، ہر بوند جو ہم بچائیں، ایک امید کا بیج ہے۔”
دمنہ مسکرایا، اور بولا:
“آؤ ہم اپنے جنگل میں ایک نیا قانون نافذ کریں — درخت کاٹنا ممنوع، پانی ضائع کرنا جرم، اور فضا کو آلودہ کرنا گناہ۔”
قلیلہ نے اثبات میں سر ہلایا، اور دونوں نے اس دھرتی کے لیے ایک نئے عہد کی بنیاد رکھی۔
جو فطرت سے روگردانی کرتا ہے، وہ خود پر قہر کو دعوت دیتا ہے۔ موسم کبھی دشمن نہ تھے، مگر ہم نے انہیں بگاڑا۔ اب بھی وقت ہے — واپس پلٹ آؤ، کہ یہی رجوع ہے، یہی نجات۔
الٹی دنیا کا موسم
پڑھیں پچھلی کہانی