535

انتہا پسندی کے اسباب اور تدارک

تحریر شئیر کریں

از ہاجرہ عمران خاں

انتہا پسندی کے اسباب اور تدارک جابنیے قلم کتاب پر

انتہا پسندی منفی سوچ سے جنم لیتی ہے اور جہالت اور لاعلمی کی گود میں پرورش پاتی ہے۔ البتہ اس کا خمیر معاشرتی ناانصافی،  عدم توازن اور ناہمواری سے اٹھتا ہے۔
کسی معاشرے میں انتہا پسندی کا مطلب سمجھنے کیلئے معاشرے کو بغور دیکھنا ہوگا کہ وہاں وسائل کی تقسیم کس قدر منصفانہ ہے۔


انتہا پسندی کسی بھی معاشرتی نا انصافی یا وسائل کے عدم توازن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انتہائی سوچ اور روّیے کا نام ہے۔ کسی معاشرے میں جب افراد کو تعلیمی، سیاسی اور انصاف پر مبنی یکساں مواقع میسر نہیں آتے تو ایسا معاشرہ بے چینی کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کا عمومی رجحان انتہا پسندی کی طرف چلا جاتا ہے۔ معاشرتی تقسیم اور ناہمواری افراد بالخصوص نوجوان طبقے کو راہِ راست سے ہٹا دیتی ہے اور ایسے نوجوان انتہا پسند قوّتوں کے ہاتھوں باآسانی یرغمال بن جاتے ہیں۔ نوجوانوں کے زرخیز ذہنوں کو منفی قوّتیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرکے انہیں معاشرے کے خلاف آلہ ء کار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

اس لئے کسی معاشرے کو انتہاپسندی سے بچانے کیلئے سب سے پہلے اس کے وسائل میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ برابری کی سطح پر وسائل کی تقسیم، یکساں نظامِ تعلیم ،سیاسی و معاشی ترقی کے مواقع مہیا کرنے سے انتہا پسندی کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔ سب سے خطرناک مذہبی انتہا پسندی ہے جس کے نتیجے میں کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھنے والا فرد کسی دوسرے مذہب یا فرقے کے لئے رواداری برتنے کو تیار نہیں ہوتا اور اپنے سوا کسی دوسرے کا نقطہء نظر سننے کا روادار نہیں ہوتا۔


اکیسویں صدی میں دنیا جس طرح ایک دوسرے کے قریب آچکی ہے اور ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کرچکی ہے اس میں ایک دوسرے کے نظریات کے احترام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ گلوبل ولیج میں احترام کے تقاضوں کی مسلمہ اہمیت کے باوجود بعض شر پسند عناصر کی جانب سے آزادی ء اظہارِ رائے کے نام پربعض مذاہب کے دینی عقائد کو مجروح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں انتہا پسند سوچ اور عزائم کو پروان چڑھنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ آزادی ء اظہارِ رائے کے نام پر لوگوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی سرپرستی کے بجائے اس مذموم فعل کی  روک تھام ہونی چاہئے۔ کیونکہ ایسی کسی ایک غلطی سے پورے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ پوری دنیا جو ایک گاؤں کی شکل اختیار کر گئی ہے اس کا امن خطرے میں پڑسکتا ہے۔ اس کی ایک مثال ہولو کاسٹ ہے۔

جس کی رو سے اس گلوبل ولیج کے ایک چھوٹے سے طبقے کی دل آزاری کے ڈر سے ہولو کاسٹ کا ذکر دنیا بھر میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شانِ اقدس میں یا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام یا کسی بھی پیغمبر کی شانِ مبارک میں گستاخی کو جرم قرار دیا جانا ضروری ہے اور اس کیلئے بین الاقوامی قوانین کا اجراء بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اس طرح کی گستاخیاں دنیا کی آبادی کے ایک بہت بڑے حصے کی دل آزاری کا باعث بنتی ہیں اس سلسلے میں سب سے اعلیٰ اور بہترین مثال بھی دینِ اسلام کی ہے

جس میں ایک مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اللہ کے تمام نبیوں اور ان پر اتاری گئی کتابوں پر ایمان نہ لے آئے۔ اسلام میں کسی بھی مذہب یا کسی بھی دینی و مذہبی کتاب کی بے حرمتی کی سختی سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو اپنے خلاف کئی بار اقوامِ عالم کی جانب سے اسی قسم کا معتصبانہ روّیہ
سہنا پڑتا ہے جو کہ ان کے اندر مذہبی انتہا پسندی کے جذبات کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کمزور ریاستیں انتہا پسندی کا فروغ روکنے میں ناکام رہتی ہیں۔ بہت سی معصوم انسانی جانیں اس انتہا پسندی کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھتی ہیں۔
انتہا پسندی معاشرے میں دراڑ ڈال کر اسے چھوٹے چھوٹے طبقوں میں تقسیم کردیتی ہے۔

انتہا پسندی کے اسباب اور تدارک أپ نے پڑھیں اسے أگے شیر کیجے


انتہا پسندی کے تدارک کیلئے مثبت سرگرمیوں کے فروغ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ملک میں کھیل اور صحت مند تعلیمی مقابلوں کے فروغ کے ذریعے نوجوان نسل کے ذہنوں کو مصروفِِ عمل رکھا جاسکتا ہے۔ کسی بھی قوم کو پڑھے لکھے جاہلوں ، نیم حکیم خطرہ جان دانش وروں اور پیروں کے حوالے کرنے کے بعد کسی بہتری کی امید رکھنا عبث ہے۔ بعض منفی قوتیں قوم کے جذبات کو اپنے پسندیدہ دھارے کی طرف موڑ کر پورے معاشرے کو بارود کے ڈھیر پر بٹھا دیتی ہیں۔ خام جذبات سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ جو کسی بہتے ہوئے لاوے کی طرح سلگتے رہتے ہیں ۔ کسی چھوٹے سے واقعہ کی ایک سلگتی تیلی اس لاوے میں آگ بھڑکا دیتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک ایسی آگ میں جلنے کو تیار رہتے ہیں۔


انتہا پسندی کے تدارک کیلئے عقل اور شعور کی مناسب ماحول کے زیرِ اثر تربیت بہت ضروری ہے۔ منبر و محراب پر لوگوں کے اندر مذہبی رواداری بیدار کرنے کیلئے استعمال کیا جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ منبر کے سرکردہ افراد مل کر متفقہ رائے سے اپنا لائحہ عمل تیار کریں اور معاشرے کا رخ اہم مثبت دھارے کی جانب موڑنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جمعہ کے خطبات میں مروجہ خطوط پر معاشرے کی تربیت کا انتظام کیا جائے ۔ کسی بھی معاشرے کو جب بے نتھے بیل کی طرح کھلا چھوڑ دیا جائے گا تو وہ خود بہ خود اپنی کئی ایک سمتیں متعین کرلے گا۔ یہ مختلف سمتیں معاشرے میں نفرت، فرقہ واریت اور تقسیم پیدا کرتی ہیں ۔ معاشرے سے رواداری ، برداشت، اور مروّت ختم ہوجاتی ہے۔ جس سے معاشرہ اپنے پورے قد سمیت زمیں بوس ہوجاتا ہے ۔ اسی لئے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ عوامی جذبات  کو علمائے دین کی متفقہ رائے سے ترویج شدہ اصولوں کے تحت مروّج کیا جائے اور انہیں معاشرے میں رائج کرکے اسے انتہا پسندی کی طرف جانے سے روکا جائے۔ ریاست معاشرے کی تعلیم و تربیت کی خود اپنے طور پر سرپرستی کرے۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں