اندھیری حویلی کا راز
سردیوں کی ایک دھند بھری رات تھی۔ آسمان پر گھنے بادل چھائے ہوئے تھے، اور ہوا کے جھونکے ہر طرف عجیب سی خاموشی پیدا کر رہے تھے۔ شہر کے مضافات میں ایک پرانی اور ویران حویلی موجود تھی، جسے لوگ “اندھیری حویلی” کہتے تھے۔ یہ حویلی کئی دہائیوں سے سنسان پڑی تھی، اور لوگوں کا کہنا تھا کہ وہاں سے رات کے وقت عجیب آوازیں آتی ہیں، جیسے قدموں کی چاپ یا کسی کے قہقہے۔
یہ معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب دو نوجوان، ندیم اور ساجد، جو شکار کے شوقین تھے، حویلی کے قریب جنگل میں غائب ہو گئے۔ ان کا کوئی سراغ نہ ملا، اور آخری بار انہیں حویلی کے قریب دیکھا گیا تھا۔ پولیس نے کئی دن تلاش کی، مگر بے سود۔ شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور لوگوں نے اندھیری حویلی کو ان واقعات کا مرکز قرار دیا۔
تفتیشی افسر رافع کو یہ کیس سونپا گیا۔ وہ غیر معمولی واقعات کے ماہر تھے اور اپنی بہادری اور ذہانت کی وجہ سے مشہور تھے۔ رافع نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس پراسرار حویلی کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے ساتھ زبیر، ایک تجربہ کار سپاہی، اور عالیہ، ایک ذہین تجزیہ کار، بھی شامل تھے۔
حویلی کے قریب پہنچتے ہی ٹیم کو ایک عجیب گھٹن کا احساس ہوا۔ ہوا میں نمکین نمی اور کسی پراسرار خوشبو کی آمیزش تھی۔ حویلی کے دروازے پر ایک زنگ آلود تالہ لگا ہوا تھا، جسے زبیر نے توڑا۔ دروازہ کھولتے ہی ایک تیز سرد ہوا کا جھونکا ان کے چہرے سے ٹکرایا، جیسے کوئی ان کا استقبال کر رہا ہو۔
حویلی کے اندر اندھیرا تھا، اور ہر چیز دھول اور جالوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ دیواروں پر پرانی تصاویر آویزاں تھیں، جن میں سے زیادہ تر کے چہرے مٹائے گئے تھے۔ ماحول میں پراسراریت کے ساتھ ایک انجانا خوف محسوس ہو رہا تھا۔ رافع نے کہا، “چوکنا رہو، یہ جگہ عام نہیں لگتی۔”
حویلی کے اندر ایک کمرے میں ٹیم کو ایک پراسرار صندوق ملا، جو پرانی لکڑی کا بنا ہوا تھا اور اس پر عجیب و غریب نشان کندہ تھے۔ عالیہ نے بتایا کہ یہ نشان کسی قدیم زبان سے مشابہ ہیں، مگر ان کا مطلب سمجھنا مشکل تھا۔ رافع نے صندوق کو کھولنے کا فیصلہ کیا، مگر جیسے ہی انہوں نے اسے چھوا، ایک زور دار آواز کے ساتھ دروازے بند ہو گئے، اور کمرہ لرزنے لگا۔
صندوق کھولنے پر اندر ایک پرانا خط ملا، جس پر لکھا تھا:
*”یہ حویلی ایک لعنت کا شکار ہے۔ جو کوئی بھی یہاں آئے گا، وہ یہاں کے قیدیوں میں شامل ہو جائے گا۔ اس لعنت سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے: روشنی تلاش کرو اور سچائی کو قبول کرو۔”*
یہ پڑھتے ہی ماحول میں عجیب سی تبدیلی آ گئی۔ ہوا بھاری ہو گئی، اور کمرے میں ایک سایہ حرکت کرتا ہوا محسوس ہوا۔ زبیر نے ٹارچ کا رخ اس طرف کیا، مگر کچھ نظر نہ آیا۔
تفتیش کرتے ہوئے ٹیم کو حویلی کے تہہ خانے کا راستہ ملا۔ وہاں جانے کے لیے ایک خستہ حال زینہ تھا، جو نیچے کی طرف جاتا تھا۔ تہہ خانے میں پہنچتے ہی ایک عجیب بو محسوس ہوئی۔ دیواروں پر پرانے خون کے دھبے اور زنجیریں لٹکی ہوئی تھیں۔ وہاں ایک چھوٹا دروازہ موجود تھا، جس کے پیچھے کراہوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
جب دروازہ کھولا گیا، تو اندر دو لاپتہ نوجوان، ندیم اور ساجد، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ان کی حالت نہایت خراب تھی، اور وہ بار بار ایک ہی بات دہرا رہے تھے:
*”یہاں سے بھاگ جاؤ، وہ تمہیں جانے نہیں دے گا۔”*
اچانک تہہ خانے میں ایک قد آور سایہ نمودار ہوا۔ یہ سایہ انسانی نہیں تھا بلکہ ایک خوفناک بدروح کی شکل میں تھا، جس کی سرخ آنکھیں اور لمبے نوکیلے ناخن تھے۔ بدروح نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور ٹیم کی طرف بڑھنے لگی۔ زبیر نے اپنی بندوق سے فائر کیا، مگر گولی بدروح پر اثر نہیں کر سکی۔
بدروح نے زبیر پر حملہ کر دیا، اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ رافع نے فوراً عالیہ کو سچائی تلاش کرنے اور روشنی کا مطلب سمجھنے کا کہا۔ عالیہ نے جلدی سے تہہ خانے میں موجود اشیاء کا جائزہ لینا شروع کیا اور ایک پرانی شمع دیکھی، جس پر کسی مقدس عبارت کا ذکر تھا۔
رافع نے شمع کو روشن کیا، اور بدروح کی چیخوں سے تہہ خانہ گونج اٹھا۔ بدروح نے شمع کو بجھانے کی کوشش کی، مگر روشنی کے سامنے کمزور پڑ گئی۔ شمع کی روشنی جیسے ہی پھیلی، بدروح دھیرے دھیرے غائب ہو گئی، اور تہہ خانے کا ماحول پرسکون ہو گیا۔
لاپتہ نوجوانوں کو آزاد کر کے حویلی سے باہر نکالا گیا۔ رافع اور ان کی ٹیم نے جان لیا کہ یہ حویلی کسی قدیم جرم کی گواہ تھی، اور بدروح اس جرم کا بدلہ لے رہی تھی۔ حویلی کو سرکاری طور پر بند کر دیا گیا، اور لوگوں کو اس کے قریب جانے سے منع کر دیا گیا۔
رافع کے دل میں اب بھی سوال تھا کہ یہ بدروح کون تھی اور اس کا جرم کیا تھا؟ وہ جانتے تھے کہ کچھ کہانیاں ہمیشہ ادھوری رہتی ہیں، اور یہ ان میں سے ایک تھی۔
—