اندھیرے کے مکین قسط 18 از روبینہ شاہین 157

اندھیرے کے مکین قسط 18

تحریر شئیر کریں

اندھیرے کے مکین قسط 18 از روبینہ شاہین

کائنات کا نظام بھی عجیب ہے۔ کبھی ریگستان کی تپتی ریت پر سجدہ کرنے والے تاریخ رقم کرتے ہیں، تو کبھی الاسکا کی منجمد برف تلے چھپی مسجدیں ایمان کی گواہی دیتی ہیں۔ اندھیرے کے مکین قسط 18 محض ایک کہانی نہیں، بلکہ اس کشمکش کا بیان ہے جو انسان کے اندر اور باہر صدیوں سے جاری ہے۔ جب حق ظاہر ہوتا ہے، تو مصلحتوں کے تمام بت ٹوٹنے لگتے ہیں۔
ماضی کی بازگشت: احمد کا بچپن اور وہ پرانی لائبریری
برفانی طوفان کی شدت میں جب باہر نکلنا ناممکن تھا، احمد قدیم مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھا ماضی کے دریچوں میں کھو گیا۔ اسے اپنا وہ بچپن یاد آیا جب وہ لاہور کی ایک پرانی لائبریری میں گھنٹوں بیٹھا تاریخ کی کتابیں چھانتا تھا۔ اسے یاد تھا کہ اس کے استاد محترم کہا کرتے تھے، “احمد! علم وہ نہیں جو تمہیں ڈگری دلائے، علم وہ ہے جو تمہیں تمہارے رب سے ملوا دے۔”
آج الاسکا کی اس گمنام بستی میں، جہاں جدیدیت کا شور تھم چکا تھا، احمد کو محسوس ہوا کہ اس کے اسلاف نے یہاں کی برف میں صرف مسجد نہیں، بلکہ اپنی روحیں وقف کر دی تھیں۔ اس نے دیوار پر کندہ “کوفی” رسم الخط کو چھوا، تو اسے محسوس ہوا جیسے وہ صدیوں پرانے کسی مکالمے کا حصہ بن گیا ہے۔
جدیدیت کا تضاد: ڈاکٹر ملر اور مغربی منافقت
دوسری طرف، یونیورسٹی کے بند کمرے میں ڈاکٹر ملر اپنے لبرل ازم کے غرور میں چور، سازشوں کا جال بن رہا تھا۔ یہ وہی مغرب ہے جو ‘آزادیِ اظہار’ کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، لیکن جب بات اسلام کی تاریخی سچائیوں کی آئے، تو ان کا ‘سائنسی تعصب’ جاگ اٹھتا ہے۔
ملر کے لیے یہ مسجد ایک دریافت نہیں بلکہ ایک خطرہ تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ الاسکا کے قدیم باشندے ‘حیا’ اور ‘توحید’ کے علمبردار تھے، تو اس کا وہ سارا فلسفہ ڈھیر ہو جائے گا جس پر جدید بے راہ روی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ یہ تضاد کتنا واضح ہے کہ جو لوگ قدیم تہذیبوں کے تحفظ کے دعویدار ہیں، وہی ایک قدیم مسجد کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔
مایا کا اضطراب اور ضمیر کی دستک
مایا، جو اس قسط میں ایک بالکل نئے روپ میں سامنے آئی، مسجد کے ستون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ اس کے ذہن میں یونیورسٹی کے وہ لیکچرز گھوم رہے تھے جہاں اسے سکھایا گیا تھا کہ ‘حیا’ ایک قدیم بوجھ ہے۔ لیکن آج اس پر سکون جگہ میں، اسے محسوس ہوا کہ اصل بوجھ تو وہ ‘آزادی’ تھی جس نے اسے سکون سے محروم کر رکھا تھا۔
“احمد،” مایا نے دھیرے سے کہا، “کیا تم نے کبھی سوچا کہ تمہارے مذہب میں اتنی کشش کیوں ہے کہ یہ برف کی تہوں میں بھی زندہ رہتا ہے؟”
احمد نے مسکرا کر جواب دیا، “مایا، یہ مذہب نہیں، یہ فطرت ہے۔ اور فطرت کو جتنا دبایا جائے، وہ اتنی ہی قوت سے ابھرتی ہے۔ یہ اندھیرے کے مکین قسط 18 کا وہ موڑ ہے جہاں تمہارا ضمیر تمہیں ایک فیصلے کی طرف بلا رہا ہے۔”
ہلکا پھلکا لمحہ: فاطمہ کی چائے اور ایک مسکراہٹ
جذبات کی اس شدت کے درمیان فاطمہ نے ماحول کو تھوڑا ہلکا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے کیمپ کے چھوٹے سے چولہے پر چائے بنائی جس کی خوشبو نے مسجد کے سرد کمرے میں زندگی بھر دی۔
“اگر ڈاکٹر ملر کو پتہ چل جائے کہ ہم یہاں اتنے سکون سے چائے پی رہے ہیں، تو شاید اس کا بلڈ پریشر مزید بڑھ جائے،” فاطمہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
احمد نے لقمہ دیا، “وہ سائنسی ثبوت ڈھونڈ رہا ہے، اور ہم یہاں ایمان کی تپش بانٹ رہے ہیں۔ جیت ہمیشہ اسی کی ہوتی ہے جس کے پاس دل کا سکون ہو۔”
سائنسی حقیقت اور ایمانی دلیل
ناول کے اس حصے میں ریسرچ بتاتی ہے کہ گیارہویں صدی میں مسلمانوں کے بحری بیڑے مختلف سمتوں میں نکلے تھے۔ الاسکا میں ملنے والے یہ آثار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسلام تلوار سے نہیں، بلکہ اپنے بلند اخلاق اور حیا دار طرزِ زندگی سے پھیلا۔ احمد نے اپنے کیمرے سے ان تمام قرائن کی ویڈیو بنا لی تھی تاکہ سائنسی تعصب کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔
اللہ کی طرف رجوع
رات کا آخری پہر تھا جب احمد نے مسجد کے صحن میں کھڑے ہو کر آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے منجمد فضا میں چمک رہے تھے۔ اس نے محسوس کیا کہ اصل کامیابی یونیورسٹی کی بحالی یا دنیاوی واہ واہ میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ انسان کا ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے ہو۔
اندھیرے کے مکین قسط 18 کا اختتام اس دعا پر ہوتا ہے کہ اے اللہ! ہمیں حق پر قائم رکھ اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو آخرت کی کامیابی کو دنیا پر ترجیح دیتے ہیں۔ اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، سحر کی پہلی کرن اسے مٹانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

…….

موسم کی نئی شدت اور الاسکا کی موجودہ زندگی
الاسکا کی فضا میں اس وقت ایک عجیب سا سکوت ہے، وہ سکوت جو کسی بڑے طوفان سے پہلے ہوتا ہے۔ روس سے آنے والی سرد لہروں نے قطبی علاقوں میں درجہ حرارت کو منفی 45 ڈگری تک پہنچا دیا ہے۔ وہاں کی زندگی اب گھروں کے اندر سمٹ گئی ہے؛ گاڑیاں برف کے تودوں میں تبدیل ہو چکی ہیں اور لوگ باہر نکلنے کے لیے کلہاڑیوں سے برف کاٹ کر راستے بنا رہے ہیں۔ ایسے میں احمد اور اس کے ساتھیوں کا اس قدیم مسجد میں موجود ہونا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔
احمد اور ڈاکٹر ملر کا مکالمہ: سائنسی ضد بمقابلہ حقیقت
باہر طوفان کی گھن گرج بڑھ رہی تھی جب احمد کے سیٹلائٹ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف ڈاکٹر ملر تھا، جس کا لہجہ برف سے زیادہ سرد تھا۔
“احمد! تم وہاں خود کو خطرے میں ڈال رہے ہو۔ یہ طوفان تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ وہ جگہ سائنسی لحاظ سے غیر محفوظ ہے، اسے ہمارے حوالے کر دو،” ملر نے کبر و غرور سے کہا۔
احمد نے فون کے اسپیکر پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر کی سفید دھند کو دیکھا۔ “ڈاکٹر ملر! جس قدیم مسجد کو آپ ‘غیر محفوظ’ کہہ رہے ہیں، اس نے گیارہ سو سال سے ان طوفانوں کا سامنا کیا ہے۔ یہ مسجد ہمیں بچانے کے لیے کافی ہے۔ آپ کی تشویش سائنسی نہیں، سیاسی ہے۔ آپ ڈر رہے ہیں کہ اگر میں نے اس مسجد کے کتبات کی لائیو ویڈیو دنیا کو دکھا دی، تو آپ کی ‘آزاد خیال’ تاریخ کے جھوٹے مینار گر جائیں گے۔”
حیا اور جدیدیت: مایا کی بدلی ہوئی سوچ
اس گفتگو کے دوران مایا مسجد کے ایک ستون کے پاس خاموش بیٹھی تھی۔ اس نے اپنے سر پر ایک اونی چادر لی ہوئی تھی، جو کسی حد تک حجاب کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ الاسکا کی اس کڑاکے کی سردی نے اسے یہ سبق سکھا دیا تھا کہ ‘ستر’ اور ‘حجاب’ صرف حکمِ الٰہی نہیں، بلکہ انسانی بقا اور وقار کی بنیاد بھی ہے۔
“احمد،” مایا نے فون بند ہونے کے بعد کہا، “باہر کی اس سفیدی نے میری آنکھوں سے جدیدیت کا وہ رنگ اتار دیا ہے جو مجھے اندھا کیے ہوئے تھا۔ ڈاکٹر ملر کی ‘سائنس’ اس طوفان میں بے بس ہے، لیکن آپ کا ‘ایمان’ اسے ایک موقع سمجھ رہا ہے۔”

قسط کا اختتامیہ اور ضمیر کی پکار

اندھیرے کے مکین قسط 18 میں اب ایک نیا موڑ آ چکا ہے۔ ایک طرف فطرت کا بے رحم طوفان ہے اور دوسری طرف انسانی انا کا زہریلا وار۔ احمد نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اسی طوفان کے دوران دنیا کو اس مسجد کی حقیقت دکھائے گا۔ اس نے اپنا کیمرا سیٹ کیا اور بسم اللہ پڑھ کر ریکارڈنگ شروع کی۔
حق کا سفر کبھی آسان نہیں ہوتا، لیکن جب اللہ کی مدد شامل ہو، تو الاسکا کی منجمد وادیاں بھی راستہ دینے لگتی ہیں۔

اگلی قسط کے لیے تجاویز:
* کیا احمد کی لائیو ویڈیو سٹریمنگ کے دوران ڈاکٹر ملر کے بھیجے ہوئے لوگ وہاں پہنچ جائیں گے؟
* کیا مایا اس قسط کے آخر میں کلمہ پڑھ کر اپنی نئی زندگی کا باقاعدہ آغاز کرے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں