
احمد لیبارٹری کی کرسی پر بیٹھا اپنی ریسرچ فائلز دیکھ رہا تھا۔ باہر کی پراسراریت ایک طرف، مگر اس کے پاس موجود ڈیٹا کچھ اور ہی کہانی سنا رہا تھا۔ وہ جو ‘برفیلے قدموں’ کی چاپ تھی، اس کا معمہ پچھلی شام ہی حل ہو گیا تھا جب اس نے دور بین سے ایک دیو ہیکل قطبی ریچھ کو بستی کے کناروں پر منڈلاتے دیکھا تھا۔
“خوف انسان سے کیا کچھ نہیں کروا دیتا،” احمد نے خود کلامی کی۔ “میں ایک پی ایچ ڈی سکالر ہو کر اسے نادیدہ وجود سمجھ بیٹھا، جبکہ وہ محض ایک بھوکا جانور تھا۔”
اس نے اپنی ریسرچ ڈائری میں نوٹ لکھا: “قطبی رات (Polar Night) میں انسانی حواس دھوکا کھا سکتے ہیں، مگر ڈیٹا کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔”
احمد کا اصل کام آرکٹک کے بدلتے ہوئے درجہ حرارت اور اس کے زمین کی مقناطیسی لہروں پر اثرات کا مطالعہ تھا۔ اس نے لیپ ٹاپ پر گراف چیک کیے تو اسے ایک عجیب و غریب تبدیلی نظر آئی۔ Utqiagvik کے اس مخصوص حصے میں میگنیٹک فیلڈ غیر معمولی طور پر ‘فلکچوئیٹ’ (Fluctuate) کر رہی تھی۔
“اگر یہ مقناطیسی لہریں اسی طرح تبدیل ہو رہی ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ زمین کے نیچے کچھ ہے جو بدل رہا ہے،” اس نے سوچا۔ اس کا سائنسی تجسس اب جاگ چکا تھا۔ ایلا کے دادا کی ڈائری، جسے وہ ‘فضول’ سمجھ کر چھوڑنے والا تھا، اب اسے ایک نئی روشنی میں نظر آنے لگی۔ اس میں کسی ‘خفیہ کمرے’ یا ‘سائے’ کی بات شاید کوئی میٹافزیکل کہانی نہیں تھی، بلکہ کسی ایسی جگہ کا حوالہ تھا جہاں شاید مقناطیسی لہروں کا اثر زیادہ ہو۔
اسی دوران مایا لیب میں داخل ہوئی۔ اس کے چہرے پر فکرمندی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
احمد! تم ابھی تک یہاں ہو؟ طوفان بڑھ رہا ہے، اور وہ ریچھ دوبارہ بستی کے قریب دیکھا گیا ہے۔”
احمد نے اسکرین سے نظریں ہٹائے بغیر کہا، “مایا، میں نے ان قدموں کے نشانات کا تجزیہ کر لیا ہے۔ وہ ریچھ کے ہی تھے۔ لیکن میری ریسرچ اب ایک نئی سمت میں جا رہی ہے۔ تمہارے دادا کی ڈائری میں جس ‘تہہ خانے’ کا ذکر ہے، وہ کوئی وہم نہیں ہے۔ وہاں میگنیٹک ریڈنگز بہت ہائی ہیں۔ مجھے وہاں دوبارہ جانا ہوگا، مگر اس بار ٹارچ کے ساتھ نہیں، بلکہ میگنیٹومیٹر (Magnetometer) کے ساتھ۔”
مایا خاموش رہی۔ پھر اس نے دھیمے سے کہا، “احمد، تم ہر چیز کو مشین سے ناپنا چاہتے ہو۔ مگر یاد رکھنا، کچھ چیزیں صرف ‘احساس’ سے سمجھی جا سکتی ہیں۔”
احمد نے وضو کیا اور نمازِ عشا کے لیے مصلے پر کھڑا ہوا۔ اسے یاد آیا کہ وہ یہاں صرف ایک ڈگری لینے نہیں آیا۔ اس کا مقصد اللہ کی بنائی ہوئی اس کائنات کے اسرار کھولنا بھی تھا۔
نماز کے دوران اسے ایک عجیب سکون محسوس ہوا۔ اسے احساس ہوا کہ سائنس اور ایمان ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ اگر سائنس اسے ‘کیسے’ (How) بتاتی ہے، تو ایمان اسے ‘کیوں’ (Why) بتاتا ہے۔ اس نے دعا مانگی: “اے اللہ! میرے علم کو میرے لیے نفع بخش بنا، اور مجھے اس دنیا کی کامیابی کے ساتھ ساتھ اس دائمی زندگی (آخرت) میں بھی سرخرو کر جس کی تیاری میں اکثر اس مادی دنیا کی دوڑ میں بھول جاتا ہوں۔”
اگلے دن، احمد اپنے سائنسی آلات لے کر دوبارہ اسی پرانے مکان کی طرف روانہ ہوا۔ اس بار اس کے پاس خوف نہیں تھا، بلکہ ایک ریسرچر کا عزم تھا۔ جیسے ہی اس نے تہہ خانے کی سیڑھیوں پر قدم رکھا، اس کے میگنیٹومیٹر کی سوئی تیزی سے گھومنے لگی۔
کمرے کے ایک کونے میں، جہاں مچھلی کی ہڈیاں لٹک رہی تھیں، اسے دیوار میں ایک دراڑ نظر آئی۔ یہ دراڑ قدرتی نہیں تھی، بلکہ ایسا لگتا تھا جیسے اسے چھپانے کی کوشش کی گئی ہو۔ احمد نے جب وہاں اپنا آلہ رکھا تو ریڈنگ ‘آؤٹ آف رینج’ ہو گئی۔
اچانک، زمین لرزنے لگی۔ یہ زلزلہ نہیں تھا، بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے برف کی تہوں کے نیچے کوئی بہت بڑی مشین یا کوئی قدرتی طاقت بیدار ہو رہی ہو۔
اسی لمحے احمد کی جیب میں رکھا اس کا فون بجا—یہ پاکستان سے اس کے ایک پرانے استاد کی کال تھی، جو خود ایک بڑے سائنسدان اور صوفی منش انسان تھے۔
“احمد! بیٹا، تم جہاں ہو وہاں کے جغرافیائی حالات بدل رہے ہیں۔ مجھے ابھی سیٹلائٹ ڈیٹا ملا ہے۔ تم وہاں سے فوراً نکل آؤ، وہ جگہ محفوظ نہیں ہے!”
اگلی قسط میں:
کیا احمد اپنی ریسرچ کو ادھورا چھوڑ کر بھاگ جائے گا؟ وہ کیا چیز ہے جو زمین کے نیچے سے اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہے؟ اور کیا ایلا کے خاندان کا کوئی قدیم راز اس سائنسی تبدیلی سے جڑا ہوا ہے؟
کیا آپ چاہیں گے کہ اگلی قسط میں احمد اس سائنسی معمہ کو حل کرنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالے، یا وہ پہلے اپنے ایمان کی مضبوطی سے اس ‘خوف’ پر قابو پائے؟
اندھیرے کے مکین: قسط 6