253

انصاف کی تلاش

تحریر شئیر کریں

۔۔۔

ایک دفعہ کا کر ہے کہ جنگل کے تمام جانوروں نے ایک عظیم جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس جلسے کا مقصد جنگل کے جانوروں کے حقوق کے بارے میں بات کرنا اور ان کے مسائل حل کرنا تھا۔ جلسے کا اہتمام شیر نے کیا تھا جو جنگل کا بادشاہ تھا، لیکن سب کو معلوم تھا کہ اصل قائد لومڑی (قلیلہ) تھی، جو ہمیشہ انصاف اور سچائی کے لیے لڑتی تھی۔ اس جلسے میں شرکت کے لیے تمام جانور پرجوش تھے، خاص طور پر ہاتھی (پی ٹی آئی)، جس کی عوام میں کافی مقبولیت تھی۔

ہاتھی نے جلسے کی تیاری زور و شور سے شروع کی۔ جنگل کے مختلف کونوں سے جانور شرکت کے لیے آنے لگے، لیکن حکومت یعنی بندر (حکومتی جماعت) نے رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ہاتھی کا جلسہ کامیاب ہو، کیونکہ اس کے بعد جنگل کے عوام میں ہاتھی کی مقبولیت اور بھی بڑھ جاتی۔ بندر نے چالاکی سے مختلف حربے استعمال کیے تاکہ جلسہ ناکام ہو جائے۔

سب سے پہلے، بندر نے جلسے کی اجازت منسوخ کر دی اور جلسے کی جگہ پر بڑی چٹانیں اور کانٹے بچھا دیے تاکہ کوئی وہاں تک نہ پہنچ سکے۔ ہاتھی نے مایوسی کے عالم میں قلیلہ یعنی لومڑی سے مدد کی درخواست کی۔ لومڑی نے جنگل کے عقل مند جانور دمنہ (چیتا) سے مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے۔

دمنہ نے کہا، “یہ ناانصافی ہے۔ ایک طرف بندر خود اپنے جلسے آزادی سے کرتا ہے اور دوسری طرف ہاتھی کو روکا جا رہا ہے۔ ہمیں یہ جنگ چالاکی سے جیتنی ہوگی۔”

لومڑی نے ہاتھی کو تسلی دی اور کہا، “ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ جلسہ کریں گے، اور کوئی بھی ہمیں انصاف سے نہیں روک سکتا۔”

دمنہ نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے جنگل کے سب چھوٹے پرندوں اور خرگوشوں کو پیغام بھیجا کہ وہ جلسے کے دن سب جانوروں کو ایک خفیہ راستے سے جلسہ گاہ تک پہنچائیں۔ یہ خفیہ راستہ وہ تھا جس کے بارے میں بندر کو علم نہیں تھا۔

جلسے والے دن، بندر نے ہر ممکن کوشش کی کہ جلسہ نہ ہو۔ مگر جانور چھوٹے گروپوں میں خفیہ راستے سے پہنچنے لگے۔ جب بندر کو اس بات کا علم ہوا، تو وہ حیران رہ گیا۔ لومڑی اور ہاتھی نے جلسہ گاہ میں آ کر عوام کو اپنے مسائل بتائے اور جنگل میں انصاف کے نظام کی بحالی کے لیے آواز اٹھائی۔

جلسہ کامیاب ہوا، اور جانوروں کو معلوم ہوا کہ ناانصافی جتنی بھی طاقتور ہو، اگر عزم اور اتحاد ہو تو حق کی آواز کو کوئی نہیں دبا سکتا۔

آخر میں، ہاتھی نے لومڑی اور دمنہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا، “یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر آج ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم انصاف کے لیے لڑنا جانتے ہیں، چاہے راستے میں کتنی بھی رکاوٹیں ہوں۔”

انصاف کی تلاش

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں