رات کی تاریکی میں علی کی آنکھوں سے نیند غائب تھی۔ ہاتھ میں موبائل تھا اور ذہن میں ہزاروں خیالات۔ اسکرین پر یورپ کی چمکتی سڑکوں، بلند عمارتوں اور خوشحال زندگی کے خواب دکھانے والے ویڈیوز گردش کر رہے تھے۔ لیکن ساتھ ہی ایک سوال اس کے دل کو جکڑ رہا تھا: *”کیا واقعی یورپ میں زندگی اتنی آسان ہے جتنی دکھائی دیتی ہے؟”*
علی نے سوچا کہ وہ اپنے دوست احمد سے بات کرے، جو چند سال پہلے یورپ گیا تھا اور وہاں اپنی زندگی کا حال سناتا تھا۔ اگلی صبح احمد کا فون آیا، اور علی نے فوراً پوچھا، *”بھائی، یورپ کی زندگی کیسی ہے؟ وہاں سب کچھ سستا اور آسان ہے نا؟”*
*”یار علی، تمہیں ایک مزے کی بات بتاتا ہوں۔ یہاں 12 انگور کے دانے 2 یورو میں ملتے ہیں، جو پاکستانی روپوں میں تقریباً 600 بنتے ہیں۔ اور پاکستان میں 350 روپے میں تمہیں ایک کلو انگور مل جاتے ہیں جس میں تقریباً 500 دانے ہوں گے۔ یہ سستا یا مہنگا تم خود فیصلہ کرو۔”*
علی حیران رہ گیا۔ احمد نے بات جاری رکھی:
*”دیکھو، یہاں جو کماتا ہوں وہ سارا کرایوں، ٹیکس، کھانے اور دوسرے اخراجات میں نکل جاتا ہے۔ مہینہ ختم ہونے تک بچتا کچھ نہیں۔ جتنا یہاں 5-6 لاکھ روپے کماتا ہوں، اتنا خرچ بھی ہوجاتا ہے۔ یہاں کوئی 20-25 ہزار پر گزارہ نہیں کر سکتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی 5-6 لاکھ بھی وہی کام کرتی ہیں جو پاکستان میں تمہارے 25 ہزار کرتے ہیں۔ فرق صرف اعداد کا ہے، زندگی کی مشکلات کا نہیں۔”*
علی نے سوچتے ہوئے کہا، *”تو پھر یورپ جانے کا فائدہ؟”*
احمد نے گہری سانس لی اور کہا:
*”یہی تو مسئلہ ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں دولت کے پہاڑ ہیں، لیکن وہ نہیں دیکھتے کہ ان پہاڑوں پر چڑھنا کتنا مشکل ہے۔ جتنے پیسے تم یورپ جانے کے ویزے، ٹکٹ، اور دیگر اخراجات پر خرچ کرتے ہو، اگر وہی پیسے تم پاکستان میں کسی چھوٹے کاروبار میں لگاؤ تو یقین کرو، تم یورپ مزدوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ سیر و تفریح کے لیے جاؤ گے۔*”
یہ الفاظ علی کے دل میں گہرائی تک اتر گئے۔ اس نے احمد سے مزید مشورہ لیا کہ کس طرح وہ پاکستان میں ایک کاروبار شروع کر سکتا ہے۔
احمد نے مشورہ دیا:
*”پاکستان میں مواقع کم نہیں، بس ہمیں اپنی صلاحیتوں پر یقین اور محنت کرنی ہوگی۔ جو محنت تم یورپ کی فیکٹری میں مزدوری کرتے ہو، اگر وہی اپنے دیس میں کرو تو نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی بھی بہتر بنا سکتے ہو۔*”
علی نے وہ رات جاگ کر گزاری، لیکن اس بار وہ یورپ کے خواب نہیں بلکہ اپنے دیس میں کچھ کرنے کا عزم لے کر سویا۔
کیونکہ اصل کامیابی زمین بدلنے میں نہیں، بلکہ اپنی زمین پر قدم جمانے میں ہے۔
*”یورپ سیر کے لیے اچھا ہے، لیکن اپنے دیس میں عزت سے جینا اصل زندگی ہے۔”*
اپنا دیس کہانی