538

ایک پودے کی آپ بیتی

تحریر شئیر کریں

ایک پودے کی آپ بیتی

بنت قریشی مکیہ

عمومی طور پر یہ ضرب المثل انسانوں کے لیے سننے میں آتی ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے
اور کبھی اللہ کی دوسری مخلوق جیسے جانوروں وغیرہ کے لیے بھی بولی جاتی ہے لیکِن پودے بھی اس کا مصداق ہیں
آج میں اپ کو اپنی کہانی سنانے جا رہا ہوں کہ کیسے اللہ نے مجھے نئی زندگی دی
میں ایک ایسا پودا تھا جو حسن و جمال میں اپنی مثال آپ تھا
میں نے اس گھر میں پرورش پائی جہاں میرے اور بھی ساتھی پودے تھے لیکن میرا ایک منفرد مقام حاصل تھا مجھے بالکل الگ قدرے بلند جگہ پر رکھا گیا تھا – کیونکہ میری شاخیں نیچے کی طرف پھیلی ہوئی تھیں – الگ ہونے کے باوجود گھر میں آنے والے ہر شخص کی نظر مجھ پر ضرور ٹھہرتی اور میرے بارے میں سوال ہوتے کہ یہ کون سا پودا ہے؟

یہ کیسے لگے گا ؟ کہاں سے لیا؟ بہت سے تو مجھے ساتھ لے جانے کے تمنائی اور شائق بھی تھے – لیکن میرے محافظ انکار کرتے – میں دل ہی دل میں خوش ہوتا اور اس تعریف پر پھولے نہ سماتا – گھر والوں سے ملی اہمیت ہر سرشاری سے جھوم جاتا


دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے لیکن خوشیاں دائمی نہیں ہوتیں اور میری بہار ، یہ خوشی ، یہ شادابی عارضی ثابت ہوئی کہ جب اچانک مجھے اپنی جڑیں کمزور ہوتی محسوس ہوئیں اور مجھے لگا کہ میرا تنا میری شاخوں کا بوجھ نہیں سہہ سکتا کیونکہ جڑ اور تنے کا رابطہ کٹتا محسوس ہو رہا تھا – بظاہر میں ہرا بھرا اور ویسے ہی صحت مند دکھتا – اس لیے کسی کی توجہ میری طرف نہیں گئی –

گھر والوں نے ایک تبدیل دیکھی کہ مجھے جس گملے میں لگایا گیا تھا اس میں پانی جمع رہنے لگا
لیکن ان کی کسی تدبیر سے پہلے میں کھوکھلی جڑوں کو خیر آباد کہہ کر ہری شاخوں سمیت زمین پر آن پڑا- سب دکھی تھے کوئی مجھے اٹھا کر باہر پھینکنے کو تیار نہیں تھا اور میں دو تین دن اسی جگہ پڑا رہا –


گھر والوں نے سوچا کہ مجھے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کی نذر کر دیا جائے لیکن پھر ان کی ہمت ساتھ نہیں دیتی لیکن کب تک وہ میرا بوجھ اٹھاتے اور ایک ناکارہ چیز سنبھال کر رکھتے

یہ بھی پڑھیے

چائے کے فائدے اور نقصانات


ایک دن کوڑا اٹھانے والوں کے حوالے کیا دروازے تک پہنچنے تک میری جدائی کا غم ان کی زبان پر تھا -قدرت کو کچھ اور منظور تھا، میری ایک شاخ کو ہاتھ سے لے لیا گیا اور ایک نئے گملے میں لگا دیا گیا – پہلے سے زیادہ مجھ پر محنت ہوئی

چھوٹے بچے کی طرح میری دیکھ بھال ہوتی اور میں پھر سے زندگی کی طرف لوٹ آیا –
اب میں پھر وہاں ہی ہوں لیکن ساتھی شاخوں کے بچھڑنے کی وجہ سے میرے چہرے کی شادابی ماند پڑ گئی – میری مسکراہٹیں خزاں کی نذر ہو گئیں – اب میں زندہ ہوں لیکن لوگوں کے لیے بھی پر کشش نہیں رہا، دوبارہ اس مقام تک پہنچنے میں وقت لگے گا –

حسن و جمال پر اتراہٹ مجھے لے ڈوبی – میرا مسکن ،ساتھی سب بدل گئے
اب میں باقی پودوں کے بیچ ایک عام زندگی گزار رہا ہوں-
لیکن شکر گزار ہوں کہ مجھے نئی زندگی ملی –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں