ایک انمول کہانی
صبح کا وقت تھا۔ اسکول کی پرانی عمارت کی دیواروں پر دھوپ کی کرنیں ایسے برس رہی تھیں جیسے کسی نے سنہری رنگ سے چھڑکاؤ کر دیا ہو۔ گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی مجھے بچوں کے قہقہوں، قدموں کی چاپ اور بستوں کے ٹکراؤ کی آوازوں نے گھیر لیا۔ ہر طرف معصومیت اور زندگی کا شور تھا۔ لیکن میرے دل میں ایک عجیب سی بےچینی تھی۔ یہ میرا نیا اسکول تھا، اور آج سے میرا ایک نیا سفر شروع ہو رہا تھا۔
پرنسپل صاحب نے دفتر میں بلایا۔ وہ عمر کے لحاظ سے ادھیڑ مگر جلال دار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی نگاہ میں سختی بھی تھی اور اعتماد بھی۔ انہوں نے کاغذات میز پر رکھتے ہوئے کہا:
“استاد صاحب، سیدھی بات کرتا ہوں۔ ہمارے اسکول میں تیسری جماعت کی تین کلاسیں ہیں۔ دو میں بہترین بچے ہیں۔ لیکن جو کلاس آپ کو ملی ہے… وہ بچوں سے زیادہ مسائل کی فہرست ہے۔ والدین بھی مانتے ہیں کہ یہ بچے ناکام ہیں۔ اگر آپ ان میں سے تین چار کو بھی بہتر بنا لیں تو بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ ورنہ فکر نہ کریں، کوئی الزام نہیں آئے گا۔”
میں نے سر ہلا دیا مگر دل میں ہلچل مچ گئی۔ ناکام؟ کیا بچے بھی کبھی ناکام ہوتے ہیں؟ یا ہم بڑے انہیں ناکامی کے خانے میں ڈال دیتے ہیں؟
کلاس کا دروازہ کھلا۔ سب بچے چونک کر مجھے دیکھنے لگے۔ کچھ کے چہروں پر شریر مسکراہٹ تھی، کچھ کی آنکھوں میں سوال، اور کچھ ایسے بیٹھے تھے جیسے وہ پہلے ہی ہار مان چکے ہوں۔
میں نے تختہ سیاہ پر اپنا نام لکھا اور نرمی سے کہا:
“بتاؤ بچو، تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟”
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک چھوٹے قد کا بچہ جو ہمیشہ سب سے آگے بیٹھا تھا، جھٹ سے بولا: “فوجی افسر!”
ایک دبلا پتلا سا بچہ بولا: “ڈاکٹر!”
پیچھے سے ہنسی کی آواز آئی: “انجینئر!”
میرے دل میں جیسے خوشبو بھر گئی۔ الحمدللہ! ان کے خواب ابھی زندہ ہیں۔ بس کوئی ہے جو انہیں جگا دے۔
اگلے دن میں نے ان کی نشستیں بدل دیں۔ فوجی افسر ایک ساتھ بیٹھ گئے، ڈاکٹر اپنی صف میں، اور انجینئر اپنی قطار میں۔ پھر میں نے ہر بچے کی کتاب پر اس کے خواب کا لقب لکھ دیا۔
افسر محمد!
ڈاکٹر عبداللہ!
انجینئر خالد!
کلاس کا ماحول یکدم بدل گیا۔ اب یہ صرف ایک جماعت نہیں تھی، یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا جہاں ہر کسی کے پاس اپنی پہچان اور خواب تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ پڑھائی شروع ہوئی۔ کبھی کوئی ہوم ورک بھول جاتا، کبھی کوئی کھیل کود میں مصروف رہتا۔ اب سزا دینے کی باری تھی۔ مگر میں نے طے کیا تھا کہ میں انہیں ماروں گا نہیں، بلکہ ان کا خواب چھینوں گا۔
“ڈاکٹر عبداللہ!” میں نے ایک دن پکارا، “آج تم نے سبق یاد نہیں کیا۔ تمہارا لقب واپس!”
عبداللہ کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ میں نے اس کی کتاب سے “ڈاکٹر” کا لفظ کاٹ دیا اور اسے ایک الگ کونے میں بھیج دیا جسے ہم نے سب نے مل کر “گلی” کا نام دیا تھا۔
وہ لمحہ بچوں کے دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ خواب کھو جانا ان کے لیے ایسی سزا تھی جو جسمانی تکلیف سے کہیں بڑھ کر تھی۔
اب ایک نیا دور شروع ہوا۔ بچے روز ہوم ورک کرنے لگے۔ وہ محنت کرنے لگے تاکہ دوبارہ اپنا لقب حاصل کر سکیں۔ “گلی” اب سب کے لیے ایک خوفناک جگہ تھی، جہاں بیٹھنے کا مطلب خواب سے محرومی تھا۔
کچھ دنوں بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ نہ صرف پڑھنے لگے ہیں بلکہ خوابوں کے محافظ بھی بن گئے ہیں۔ ایک دوسرے کو یاد دلاتے:
“کل تکلیف نہیں اٹھانا! دیکھنا اپنا لقب چھن نہ جائے۔”
کلاس کے اندر اب ایک میٹھی سی مسابقت تھی۔
میں نے کبھی کبھار انہیں چھوٹے تحفے بھی دینے شروع کر دیے۔ افسر محمد کو کھلونا تلوار، ڈاکٹر عبداللہ کو ننھا سا اسٹیتھو اسکوپ، اور انجینئر خالد کو چھوٹا سا مکینک سیٹ۔ بچوں کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھتیں۔
یہ تحفے ان کے خوابوں کو حقیقت کے قریب لے آتے تھے۔
پہلا سمسٹر ختم ہوا۔ امتحان کے بعد جب پرچے چیک ہوئے تو پرنسپل حیران رہ گئے۔ وہی بچے، جنہیں ناکام کہا جاتا تھا، اب شاندار نمبر لے رہے تھے۔
انہوں نے کہا:
“یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ تو وہی کلاس ہے نا جسے ہم بیکار سمجھتے تھے؟”
میں نے مسکرا کر کچھ نہ کہا۔
اب “گلی” خالی رہنے لگی۔ بچے خود ہی محنت کر کے اپنے خواب بچاتے۔ کبھی کبھی کوئی بچہ شرارت میں پکڑا جاتا تو خود ہی کہتا:
“سر! بس ایک دن کی مہلت دے دیں، میں وعدہ کرتا ہوں دوبارہ غلطی نہیں کروں گا۔”
ان کی آنکھوں کی سچائی دیکھ کر میرا دل پگھل جاتا۔
ایک دن انجینئر خالد نے بڑے اعتماد سے کہا:
“سر! جب میں بڑا انجینئر بنوں گا نا، تو آپ کے لیے ایک اسکول بناؤں گا۔ اس سے بھی بڑا، اور ہر کلاس میں خوابوں کی کرسی ہوگی۔”
میں نے اسے گلے لگا لیا۔ یہ وہی خالد تھا جس کے والدین کہتے تھے کہ یہ کچھ نہیں کر سکتا۔
سال کے آخر میں نتیجہ سب کے سامنے تھا۔ میری کلاس نے باقی دونوں “بہترین” کلاسوں کو بڑے فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔ پرنسپل اور دوسرے اساتذہ حیرت میں ڈوبے تھے۔
پرنسپل نے پوچھا:
“خدا کے لیے بتاؤ، یہ کون سا جادو ہے؟”
میں نے مسکرا کر کہا:
“طریقۂ تدریس تو آپ ہی جیسا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں نے ہر بچے کو اس کے خواب کا محافظ بنا دیا۔”
یہ کہانی کسی ایک استاد کی نہیں، بلکہ ہر اس استاد کی ہے جو یہ مان لیتا ہے کہ کوئی بچہ کمزور نہیں ہوتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم ان کے خوابوں کو زندہ رکھتے ہیں یا انہیں دفنا دیتے ہیں۔
مصنف: Robina Shaheen