663

بچوں کا نام رکھنے میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

تحریر شئیر کریں

بچوں کے نام رکھنے میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟جانیے قلم کتاب پر

نام شخصیت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں بچوں کے اچھے نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
“باپ پر بچہ کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اوراس کو حسنِ ادب سے آراستہ کرے”
آج کل نت نئے نام تجویز کئے جاتے ہیں خصوصا جنہیں جدت پسندی کا بخار چڑھا ہوتا ہے کسی ایسے انوکھے نام کی تلاش میں ہوتے ہیں جو پہلے کسی کا نہ ہو بلکہ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ناموں کے معانی پوچھتے ہیں جن کا نہ کوئی مادہ ہوتا ہے اور نہ ماخذ پھر ایسے مہمل الفاظ کے معانی لغت میں کیسے مل سکتے ہیں؟؟؟
کچھ لوگ قرآن کریم سے نام تجویز کرنا باعث برکت سمجھتے ہیں اور معانی سے صرف نظر کرتے ہوئے ایسے نام رکھتے ہیں۔
منسیا،معارج،من تشاء اور وریشا
اسی طرح ایک خاتون کے بارے میں سنا کہ اس نے اپنی تین بیٹیوں کے نام سورت کوثر سے باالترتیب اس طرح منتخب کئے کوثر، وانحر اور ابتر کوثر اور وانحر کے معنی تو بحیثیت نام کسی حد تک درست بھی ہیں لیکن آخری لفظ” ابتر” کے معانی ہیں “بہت بدتر” ایک عقلمند انسان اس نام کو کسی بھی طرح مناسب خیال نہیں کرتا۔پھر اگر ایسے کم علم لوگوں کو بتایا جائے کہ بھئی اس کا معنی درست نہیں تو بتانے والوں کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگتے ہیں۔کہ ہم نے قرآن سے نام رکھا ہے یہ اس کو غلط کہنے والا نعوذ باللہ پتہ نہیں مسلمان بھی ہے یا نہیں۔


یاد رکھیں! قرآن کریم سے نام تجویز کرنے کی بات علی الاطلاق درست نہیں ہوسکتی اس لئے کہ قرآن کریم میں حمار، کلب، خنزیر، فرعون، قارون اور ابلیس جیسے نام بھی مذکور ہیں۔ اہل علم کی یہ ذمہ داری ہے کہ جہاں تک ہوسکے عوام کو اس کے بارے میں آگاہی دیں۔


دور حاضر میں بچوں کے نام ایکٹرز اور ہیروز کے نام پر رکھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے اسے روکنے کی کوشش کریں۔والدین ناولز اورافسانوں سے متاثر ہوکر اپنے بچوں کے نام منتخب کرتے ہیں۔ پھر فخریہ انداز میں بتاتے ہیں کہ ہم نے فلاں ایکٹر اور فلاں ہیرو کے نام پہ بچے کا نام رکھا ہے۔ جبکہ حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:”انبیاء کے ناموں پراپنے نام رکھو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نام عبداللہ و عبدالرحمن ہیں اور سب ناموں سے سچے نام حارث وہمام ہیں اور سب سے بُرے نام حرب اورمُرہ “


نبی کریمﷺ اچھے ناموں کو پسند فرماتے اور برے ناموں پر ناگواری ظاہر فرماتے۔جب کوئی شخص ایمان لاتا تو اس سے نام پوچھتے اگر اس کا معانی درست ہوتا تو ٹھیک ورنہ آپ نام تبدیل فرمادیتے۔عاصیہ (نافرمانی کرنے والی) کا نام بدل کر آپ نے جمیلہ رکھا اور یثرب کا نام بدل کر مدینہ
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کے نام کیسے رکھنے چاہئیں جو نئے بھی ہوں اور اپنے مطلب اور معانی کے اعتبار سے بھی درست ہوں۔


اس کا ایک آسان جواب تو یہ ہے کہ اپنے بچوں کے نام انبیاء اور صحابہ کے نام پہ رکھیں۔بہت سے نام ایسے ہیں جو غیر معروف ہیں۔چند ایک کا ذکر یہاں بطور مثال پیش کردیتے ہیں۔
ذوالکفل، خضر، دؤود، ہود اور لوط، اقراش، حنظلہ، خزیمہ، نافع اور عدی اسی طرح خولہ، خنساء، امامہ، سودہ وغیرہ زبان پر بھی ہلکے پھلکے ہیں اور فی زماننا نئے بھی ہیں۔

طالب دعا: ام عبداللہ بن عمر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں