498

بھید

تحریر شئیر کریں

بھید بھری کہانی جو پردہ اور بے پردگی کے بھید عیاں کر رہی ہے

دن کی روشنی دھیرے دھیرے ڈھلنےلگی یوں لگتا تھا دن رات کے پیچھے جانے کو بےتاب ہے اور پھر وہ گھڑی آن پینچی جب رات کی تاریکی نے دن کی روشنی پر غلبہ حاصل کر لیا۔اب رات محو سفر تھی رات بھید ہے جو بہت سے بھیدوں کو چھپا لیتی ہے اور رات کیا پوری کائنات بھید ہے اس پیدا کرنے والی کی طرف سے جو حق عیاں کرنے کے لیے پیدا کی گئ ہے جو ایک دن ہو کر رہے گا۔


رات کی اس تاریکی میں ایک کمرے میں دو نفوس بیٹھے ہیں دونوں کو میاں بیوی کہتے ہیں بیوی اپنے بال سلجھا رہی تھی سامنے بیٹھا اس کا شوہر ہنس پڑا اور کہنے لگا تو بہت خوبصورت ہو شکر ہے تم نے نقاب اتار پھینکا آخر کیا فرق پڑتا ہے اس سے جبکہ اب ہمارے تین بچے ہیں جو بڑے ہو چکے ہیں جوان بچوں کی ماں کو پردے کی کیا ضرورت ہے شوہر بولے چلا جا رہا تھا جبکہ بیوی کے کنگھی کرتے ہاتھ تھم چکے تھے لگتا وہ سو چکی تھی جسے شوہر کے ان فقروں نےجھنجھوڑ ڈالا تھا۔پھر اس نے شوہر کو سمجھانے کی ٹھان لی اور کنگھی رکھ کر شوہر کے پاس چلی آئی اور کہنے لگی سرتاج آپ جاننا چاہتے ہیں کہ پردے اور بے پردگی میں کیا فرق ہے ؟شوہر نے سر ہلا دیا۔

اگلا منظر شروع ہوتا ہے رات بیت چکی تھی دن نے اپنی کرنوں سے ہر طرف اجالا بکھیر دیا تھا دن نے ایک بار پھر تاریکیوں کو شکست دے کر مایوس اور غمزدہ لوگوں کو پیغام دیا تھا کہ اندھیرے زیادہ دیر نہیں رہیں گے صبح طلوع ہو کر رہے گی یہ قانون فطرت ہے


دن کی اس روشنی میں بیوی بال بکھیرے رو رہی ہے جب کہ شوہر پردے کے پیچھے بیٹھا پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھنے کی۔کوشش کر رہا تھا خیر ماں کو روتا دیکھ کر بڑا بیٹا آتا ہے اور پوچھتا ہے ماں کیا ہوا ماں کہتی ہے تیرے باپ نے مجھے مارا ہے وہ غم کے مارے نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پھر ماں کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے بابا نے اچھا تو نہیں کیا مگر وہ آپ سے پیار بھیبتو کرتا ہے یہ کہہ کر چلا جاتا ہے اس کے بعد دوسرا بیٹا آتا ہے اور کہتا ہے ماں کیا ہوا؟ماں اسے بھی وہی کہتی جو پہلے سے کہا ۔۔وہ غصے آجاتا اور باپ کو برا بھلا کہہ کرچلا جاتا ہے اس کے بعد تیسرا بیٹا آتا ہے ماں اسے بھی وہی رام کہانی سناتی ہے اس کے بعد جو آگ بگولا ہو کر ڈنڈا اٹھاتا ہے اور باپ کو مارنے کے لیے لپکتا ہے

تیسرا منظر شروع ہوتا ہے بیوی شوہر سے کہتی ہے تو اب سنیں میری بات پہلا بیٹا تب پیدا ہوا جب میں پردے کی حالت میں رہتی تھی تو اس نے تیرا پردہ رکھا دوسرے بیٹے کی دفعہ میں تھوڑا بے پردہ ہو چکی تھی اس لیے اس نے بد تمیزی کی مگر تھوڑی جبکہ تیسرے بیٹےکی دفعہ میں فل بے پردہ تھی اس لیے اس نے تیرا کوئء لحاظ نا رکھا اور تجھے مارنے کے در پہ ہو لیا۔بیوی کی بات ختم ہوچکی تھی اب سرجھکانے اور سوچنے کی باری شوہر کی تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں