تراویح: فضائل و مسائل اور احادیث کی روشنی میں مکمل رہنما
تحریر: روبینہ شاہین (قلم کتاب ڈاٹ کام) | شائع کردہ: مارچ 2025

تعارف
رمضان المبارک کی راتیں عبادت، رحمت اور برکتوں سے بھرپور ہوتی ہیں۔ ان راتوں میں اہم ترین عبادت نماز تراویح ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جس شخص نے رمضان میں (رات کے وقت) ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
آج کل سوشل میڈیا پر #Taraweeh ٹرینڈ کر رہا ہے، اور لوگ تراویح سے متعلق بہت سوالات پوچھ رہے ہیں۔ آئیے مستند حوالوں سے جانتے ہیں کہ تراویح کیا ہے، اس کی کتنی رکعات ہیں، اور اس کے مسائل کیا ہیں۔
تراویح کا معنی اور حکم
لغوی معنی: تراویح “تَروِيحَة” کی جمع ہے، جس کا معنی ہے آرام کرنا۔ صحابہ کرام ہر دو سلام کے بعد تھوڑا آرام کیا کرتے تھے، اسی لیے اسے تراویح کہا گیا۔
شرعی حیثیت: جمہور علمائے کرام کے نزدیک تراویح سنت مؤکدہ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“نبی کریم ﷺ نے رمضان میں (باجماعت تراویح) پڑھی، پھر لوگوں نے زیادہ تعداد میں آنا شروع کیا تو آپ ﷺ نے پڑھنا چھوڑ دیا۔ پھر صبح کی نماز میں فرمایا: میں نے دیکھا کہ تم لوگ جمع ہو گئے تھے، لیکن مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے۔”
تراویح کی کتنی رکعات ہیں؟
یہ مسئلہ اہم ترین ہے اور اس میں مختلف روایات ہیں۔ آئیے ہر قول کو مستند حوالوں سے دیکھتے ہیں:
پہلا قول: 20 رکعات
یہ جمہور صحابہ و تابعین اور چاروں ائمہ کرام کا مسلک ہے:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کو 20 رکعات تراویح پڑھانے کا حکم دیا۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “لوگوں نے مدینہ منورہ میں 20 رکعات پڑھیں۔” امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “میں نے لوگوں کو مدینہ میں 20 رکعات اور مکہ میں 20 رکعات پڑھتے دیکھا۔”
دوسرا قول: 8 رکعات
یہ قول بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں 11 رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے (3 وتر سمیت)۔ (صحیح بخاری: 1147) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں 8 رکعات تراویح اور 3 وتر پڑھائے۔ (صحیح ابن خزیمہ: 1070)
تیسرا قول: 36 رکعات
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک مدینہ والوں کا طریقہ 36 رکعات کا تھا، لیکن یہ طواف کے وقفے کی وجہ سے تھا۔ (المغنی لابن قدامہ: 2/124)
راجح مسلک
راجح مسلک یہ ہے کہ 20 رکعات زیادہ صحابہ کا عمل ہے، اور 8 رکعات بھی سنت سے ثابت ہے۔ دونوں پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “یہ دونوں عدد سنت سے ثابت ہیں، اور دونوں پر عمل جائز ہے۔” (مجموع الفتاوی: 23/113)
تراویح کا طریقہ
تراویح عام نماز کی طرح دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے:
نیت: “میں نیت کرتا ہوں دو رکعت نماز تراویح کی، اللہ اکبر”
قراءت: ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی بھی سورۃ پڑھی جا سکتی ہے
تسلیم: ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیا جاتا ہے
آرام: ہر چار رکعت کے بعد تھوڑا آرام کیا جاتا ہے
قراءت کی مقدار
بہتر یہ ہے کہ قرآن مجید ختم کیا جائے، جیسا کہ صحابہ کا عمل تھا: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو رمضان میں 20 رکعات پڑھانے کا حکم دیا، اور وہ ایسی لمبی قراءت کرتے تھے کہ لوگ لاٹھیوں پر ٹیک لگا لیتے تھے۔” (الموطأ: 1/115)
وتر اور دعائے قنوت
تراویح کے بعد عام طور پر 3 رکعات وتر پڑھی جاتی ہیں۔ وتر کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب صبح ہونے لگے تو ایک رکعت پڑھ لو۔” (صحیح بخاری: 990)
دعائے قنوت وتر کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے:
“اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ”
تراویح کی فضیلت
1. گناہوں کی معافی: حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “رمضان کی راتوں میں قیام کرنے والے کو میں بخش دوں گا۔” (مسند احمد: 10367)
2. جنت میں بلند درجات: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “رمضان میں نفل پڑھنے والا فرض پڑھنے والے کی طرح ہے، اور فرض پڑھنے والا ستر فرضوں کے برابر ہے۔” (صحیح ابن خزیمہ: 1887)
3. شب قدر کی تلاش: تراویح کا اہتمام شب قدر پانے کا ذریعہ ہے، کیونکہ یہ راتوں میں قیام ہے۔
تراویح سے متعلق عام سوالات
عورتوں کے لیے گھر میں انفرادی طور پر تراویح پڑھنا افضل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “عورتوں کے لیے ان کے گھروں کی نمازیں مسجد کی نمازوں سے افضل ہیں۔” (مسند احمد: 26587) اگر عورت مسجد میں جانا چاہے تو بغیر خوشبو لگائے، پردے کے ساتھ جا سکتی ہے۔
سوال 2: تراویح میں جلدی کرنا کیسا ہے؟
تراویح میں طمانیت اور سکون ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے۔” صحابہ نے پوچھا: نماز میں چوری کیسے؟ فرمایا: “جو رکوع اور سجدے پورے نہیں کرتا۔” (مسند احمد: 23407)
سوال 3: قرآن ختم کرنا ضروری ہے؟
قرآن ختم کرنا سنت ہے، لیکن اگر کوئی تھوڑی سی تلاوت کرے تو بھی تراویح ادا ہو جاتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “مسلمان صحابہ اور تابعین سب تراویح پڑھتے تھے، خواہ تھوڑی قراءت کریں یا زیادہ۔” (فتح الباری: 4/251)
خلاصہ اور عملی ہدایات
تراویح سنت مؤکدہ ہے – اسے معمولی نہ سمجھیں۔
20 یا 8 رکعات – دونوں پر عمل جائز ہے، دونوں میں سے کوئی بھی پڑھیں۔
آہستہ قراءت – امام کے پیچھے خاموش رہیں۔
بچوں کی تربیت – بچوں کو تراویح کی عادت ڈالیں۔
تھکاوٹ کا بہانہ نہ بنائیں – تراویح کا ثواب بہت بڑا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص رمضان میں روزے رکھے اور تراویح پڑھے، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔” (صحیح مسلم: 759)
مستند حوالہ جات
القرآن الکریم
صحیح البخاری، امام بخاری
صحیح مسلم، امام مسلم
سنن ابی داود، امام ابوداود
سنن الترمذی، امام ترمذی
سنن ابن ماجہ، امام ابن ماجہ
مسند احمد، امام احمد بن حنبل
الموطأ، امام مالک
مصنف ابن ابی شیبہ
مجموع الفتاویٰ، ابن تیمیہ
اللہ تعالیٰ ہم سب کو تراویح کی پابندی کرنے اور رمضان کی برکتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
“`