ام سلیمان
آمنہ دیوار سے ٹیک لگائے، گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
“یہ سب کیسے ہوا؟ میں نے تو ہمیشہ سب کی بھلائی چاہی ہے۔ سب کی مدد کی ہے۔ پھر بھی ان لوگوں کے دلوں میں میرے لئے ناپسندیدگی کیسے آ گئی؟ ایسا کیا کر دیا میں نے؟ میرے خدا! میری مدد فرما، میں نے کیا غلط کیا؟ مجھے صحیح بات کی طرف ہدایت دے۔”
آمنہ کی شادی کو 10 سال گزر چکے تھے۔ شادی سے پہلے والدہ کی اچھی تربیت اور دینی تعلیم نے اس کی شخصیت کو بہت مثبت کر دیا تھا۔ بڑوں کی خدمت اور ہم عمر لوگوں سے اچھے سلوک کا سبق سیکھ کر ہی وہ سسرال آئی تھی۔ شادی کے بعد اپنے تئیں وہ سب سے اچھا سلوک کرتی رہی تھی۔ ساس سسر اور شوہر کی ہر بات ماننا اور ان کی خدمت کرنا اس نے خود پر لازم رکھا تھا۔ ان کے علاوہ نند اور جیٹھانیوں کی گھر ہستی میں مدد کرنا اور ان کو گھریلو معاملات اور بچوں کی تربیت کے سلسلے میں مخلصانہ مشورے دینا اس کا معمول تھا۔
آج آمنہ نے اپنی نند اور جیٹھانیوں کو دوپہر کے کھانے پر بلایا ہوا تھا۔ لیکن اِس دعوت پر کی گئی باتوں کی تلخی نے اس کو اندر تک ہلا دیا تھا۔
آمنہ….!
کیا ہوا؟ ایسے کیوں بیٹھی ہو؟ رو کیوں رہی ہو؟
یہ فروہ تھی، آمنہ کی عزیز از جان سہیلی۔
“اٹھو یہاں سے، چلو جلدی سے اٹھو۔ اوپر بیٹھو اور مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے”۔
فروہ آمنہ کو صوفے پر بٹھا کر خود اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اس کے آنسو صاف کر کے بولی،
“چلو اب بتاؤ، ایسا کیا ہوگیا جو تم اس طرح سے رو رہی ہو؟”
یہ بھی پڑھیے
“تم جانتی ہو فروہ کہ میں نے ہمیشہ اپنے سسرال والوں سے اچھا تعلق رکھا ہے۔ ہمیشہ ان کی مدد کی ہے، ان کے کام آئی ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میری سسرالی خواتین مجھ سے انتہائی بدظن ہیں۔ آج میری نند اور میری جیٹھانیاں میرے گھر آئیں تھیں۔ دعوت کے دوران جب میں نے ان کو اپنے کھانوں کی ترکیب بتانا چاہی تو میری نند نے مجھے سختی سے منع کردیا۔ کہنے لگیں کہ میں خود کو بہت سگھڑ اور باقی سب کو پھوہڑ، بیوقوف اور کم تر جانتی ہوں۔ وہ سب کہتی ہیں کہ میں اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتی ہوں۔ وہ سب مجھے مغرور اور خود پسند سمجھتی ہیں۔
تم بتاؤ، کیا واقعی میں ایسی ہوں؟ کیا واقعی میں خود کو برتر سمجھتی ہوں اور ان کو کمتر؟ کیا واقعی میں خود کو عقل مند ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں؟”
آمنہ کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
“نہیں ایسا بالکل نہیں ہے آمنہ، وہ غلط سمجھتی ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے غلط سمجھنے میں تمہارا بھی کچھ قصور ہے۔
میری بہن! روؤ مت اور میری بات کو ٹھنڈے دل سے سنو۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے حالات کو اچھی طرح جانتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا رویہ اپنے سسرال والوں کے ساتھ ہمیشہ مخلصانہ رہا ہے۔ لیکن تم یہ سمجھ نہیں پائی کہ سسرال میں زبان کے معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ سسرال کا معاملہ میکے جیسا نہیں ہوتا۔ شادی سے پہلے بہن بھائیوں سے ہر بات کر لینا کوئی غلط بات نہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب سسرال آکر بھی ہم وہی روش جاری رکھتی ہیں۔ خونی رشتوں کی بات الگ ہے، اللہ تعالی کی طرف سے دلوں میں اپنے خون کی محبت ڈال دی گئی ہے۔ جب ہم اپنے بہن بھائیوں یا والدین سے کوئی بات کرتے ہیں تو وہ اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو بھی بات ہمارے منہ سے نکلی ہے وہ اُن کی بھلائی کے لیے ہے۔ وہاں ہمارا کچھ بھی کہنا، روکنا ٹوکنا حتیٰ کہ ڈانٹ ڈپٹ کرنا بھی ہماری محبت میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن سسرال میں ایسا نہیں ہوتا۔ سسرال میں سب مختلف پس منظر رکھتے ہیں۔ سب کی ذہنیت الگ ہوتی ہے۔ اِن باتوں کے علاوہ بدقسمتی سے یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ سامنے والا ہمارا حریف ہے۔ ایسے میں ہمیں ہر لفظ ناپ تول کر ہی منہ سے نکالنا چاہیے۔ لیکن اکثر خواتین سسرال میں زبان کے استعمال کے معاملے میں بہت لاپروائی سے کام لیتی ہیں۔
دیکھو،،،
اپنی بہنوں سے ہم ہر بات کر لیتی ہیں،
ان کو ان کے گھر کے بارے میں مشورے دیتی رہتی ہیں،
ان کے کپڑوں کی خریداری کے معاملے میں اپنے آئیڈیاز ہر وقت تیار رکھتی ہیں،
ان کی چیزوں پر تبصرہ بھی کر لیتی ہیں۔
لیکن یہ طور طریقے صرف بہنوں کے لئے ہی ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم یہی کام سسرالی خواتین کے ساتھ کریں گی تو ایسی باتیں ہمارے تعلقات کو بگاڑ دیں گی۔ اگر آپ کسی سسرالی خاتون کو ان کے گھریلو معاملات میں کوئی مشورہ دیں گی تو ایک طرف تو خاتونِ خانہ اس کو اپنے گھر میں مداخلت سمجھے گی اور دوسری طرف اُسے محسوس ہو گا کہ اسے پھوہڑ اور بیوقوف سمجھا گیا ہے ۔
پیاری بہن! تمہارا اخلاص اپنی جگہ لیکن حقیقت یہی ہے کہ کوئی عورت بھی اپنی گھر ہستی میں مداخلت برداشت نہیں کرتی۔
تم خود سوچو کیا تم یہ سب برداشت کر سکتی ہو؟ اگر تمہاری نند ہر دوسری ملاقات پر یہ کہیں کہ گھر کی سیٹنگ ایسے نہیں ویسے ہونی چاہیے یا جیٹھانی کہیں کہ تمہیں کھانا ایسے نہیں ویسے پکانا چاہیے تو کیا تم بھی بالکل ویسے ہی نہیں سوچنے لگو گی جیسے تمہاری سسرالی خواتین نے سوچا؟
پیاری بہن! جب تک دوسرا خود مشورہ نہ مانگے تب تک قطعاً دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر بہت ضروری ہو تو ڈھکے چھپے الفاظ میں اشارتاً اپنی بات پہنچانی چاہیے۔ اسی کو حکمت کہتے ہیں۔
ایک اور بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ جِن باتوں پر اختلاف ہو جائے ہم اُن میں اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ یہ عمل بھی دلوں میں بہت فرق پیدا کر دیتا ہے۔ دیکھو آمنہ! جب ہم ان نازک رشتوں سے بحثیں شروع کر دیتے ہیں تو آخر میں بھلے ہم بحث جیت جائیں لیکن باہمی احترام اور وقار کھو دیتے ہیں۔
اب تم خود سوچواور مجھے بتاؤ، کیا ایسی ہی باتوں کی وجہ سے تو اُن کے ذہن میں یہ غلط فہمی پیدا نہیں ہوئی؟”
فروہ نے محبت سے آمنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنی بات مکمل کی۔
فروہ کی باتیں سن کر آمنہ کو اپنا رونا بھول گیا تھا۔ وہ حیرت سے فروہ کا منہ تک رہی تھی۔ کافی دیر بعد وہ بولنے کے قابل ہوئی،
” تم ٹھیک کہہ رہی ہو فروہ، بالکل ایسا ہی ہے۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ میری ایسی باتوں پر ہمیشہ ان کے چہروں کے تاثرات بدل جاتے تھے لیکن میں نے کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
یا اللہ! میں نے اتنی بڑی غلطی کرتی رہی اور مجھے احساس تک نہیں ہوا۔
اب میں کیا کروں؟ کیا یہ سب ٹھیک کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟”
“کیوں نہیں ہے میری جان۔ جب تم اپنی غلطی جان چکی ہو تو اس کو درست کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ جب تم اپنا عمل تبدیل کرو گی تو ان شاء اللہ سب کے دل صاف ہوتے جائیں گے۔ عمل کے علاوہ اللہ تعالی سے دعا مانگنا مت بھولنا۔ وہ ربِ رحیم ہر معاملہ درست کر دے گا ان شاء اللہ۔”
“ان شاء اللہ”
آمنہ کے لہجے میں یقین تھا۔
======================