286

تقدیر کے فیصلوں کی رات

تحریر شئیر کریں

روبینہ شاہین

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر تقدیر کے فیصلے شبِ برات میں ہوتے ہیں، تو پھر لیلۃ القدر کی حقیقت کیا ہے؟ جبکہ سورۃ القدر میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ہر فیصلہ اسی رات میں ہوتا ہے:

“تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ”
*(اس میں فرشتے اور روح (جبریل) ہر امر کے ساتھ نازل ہوتے ہیں، اپنے رب کے حکم سے۔)
(سورۃ القدر: 4)

یہ آیت خود ایک مضبوط دلیل ہے کہ تقدیر کے تمام فیصلے شبِ قدر میں ہی ہوتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے درج ذیل نکات پر غور کریں۔

1. شب قدر میں فیصلے نازل ہوتے ہیں

قرآن میں ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:

“إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ ۝ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ”
*(ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا، بے شک ہم خبردار کرنے والے ہیں۔ اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔)* (الدخان: 3-4)

یہ “بابرکت رات” درحقیقت لیلۃ القدر ہی ہے، کیونکہ قرآن کی دیگر آیات سے یہ ثابت ہے کہ قرآن رمضان میں نازل ہوا:

“شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ”
(رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔) (البقرہ: 185)

پس، سورۃ الدخان کی یہ آیت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ تقدیر کے فیصلے لیلۃ القدر میں ہوتے ہیں، جو کہ رمضان میں آتی ہے۔

2. فرشتوں کا نزول اور فیصلوں کی تنفیذ

سورۃ القدر میں بتایا گیا ہے کہ شبِ قدر میں فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور ہر طرح کے فیصلے لے کر آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ *یہی وہ رات ہے جب اللہ تعالیٰ بندوں کی تقدیر سے متعلق امور کو عملی شکل دیتے ہیں۔

3. حدیث کی روشنی میں شبِ قدر کا مقام

رسول اللہ ﷺ نے شبِ قدر کی فضیلت کے متعلق فرمایا:

*”جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔” (بخاری، مسلم)

یہ رات ہزار مہینوں سے افضل ہے، اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ تقدیر کے فیصلے کسی اور رات میں ہوں اور اللہ تعالیٰ شبِ قدر کی ایسی فضیلت بیان فرمائیں؟

4. کیا شبِ برات میں فیصلے ہوتے ہیں؟

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تقدیر کے فیصلے 15 شعبان کی شب یعنی شبِ برات میں ہوتے ہیں، لیکن:

1. قرآن میں کہیں بھی شبِ برات کا ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ شبِ قدر کا واضح ذکر ہے۔
2. سورۃ الدخان اور سورۃ القدر دونوں میں ذکر ہے کہ فیصلے اسی بابرکت رات میں ہوتے ہیں، اور وہ رمضان میں ہے، نہ کہ شعبان میں۔
3. کوئی صحیح حدیث موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ شبِ برات میں تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔

تقدیر کے فیصلے شبِ قدر میں ہی ہوتے ہیں

تمام دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ **شبِ قدر ہی وہ رات ہے جس میں انسانوں کی تقدیر کے فیصلے لکھے اور نازل کیے جاتے ہیں۔

– قرآن اسی رات میں نازل ہوا۔
– سورۃ الدخان اور سورۃ القدر میں واضح تصریح ہے کہ تقدیر کے فیصلے اسی رات میں ہوتے ہیں۔
– فرشتے اور جبرائیل علیہ السلام اللہ کے احکام لے کر زمین پر اترتے ہیں۔
– شبِ برات میں تقدیر کے فیصلے ہونے کا کوئی مستند ثبوت نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شبِ برات ایک حقیقت ایک کہانی

تقدیر کے فیصلوں کی رات

لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ رمضان کے آخری عشرے
میں شبِ قدر کو تلاش کریں،نا کہ شب برات میں ،یہ بدعت ہے ۔اس کی کوئی مستند دلیل قرآن وحدیث میں موجود نہیں ہے پوری دنیا میں کتنے مسلم ممالک ہیں ان میں کہاں کہاں شب برات منائی جاتی ہے؟دماغ کھولیں ریسرچ کریں پھر دیکھیں صحیح اور غلط کیا ہے اللہ ہمیں صحیح راستے پہ چلنے والا بنائے۔آمین

تقدیر کے فیصلوں کی رات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں