
جب دل میں سوال جاگتا ہے، راستے خود بنتے ہیں
میں جاپان کے ایک نہ زیادہ مذہبی، نہ زیادہ بے فکر گھرانے میں پیدا ہوا۔
بچپن سے دل میں خدا کو جاننے کی ایک چھوٹی سی پیاس تھی، وہ پیاس جو بڑے ہوتے ہوتے گہری ہوتی گئی۔
کیوٹو کی دوشیشا یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو سوچا:
“شاید میں مذہب کو سمجھ کر وہ سکون پا لوں جس کی تلاش برسوں سے دل میں ہے۔”
لائبریریوں میں بیٹھ کر میں نے بدھ مت، شنتو، عیسائیت سب پڑھا—
لیکن ایک دن میرے ہاتھ ایک ایسی کتاب آئی جس نے پوری زندگی کا رخ بدل دیا۔
وہ کتاب… جس نے پہلی بار دل کو جھنجھوڑا
یہ کتاب خدا، انسان اور روح کے سفر پر ایک صاف، بے تکلف اور اندر اتَر جانے والے لہجے میں لکھی گئی تھی۔
بعد میں پتا چلا کہ یہ ایک جاپانی مسلمان خاتون کی تحریر ہے۔
میں نے اُن سے ای میل پر رابطہ کیا، اور ملاقات طے ہو گئی۔
ایک چھوٹی سی کیفے کی میز پر بیٹھے انہوں نے آخر میں بس یہی کہا:
“اسلام کتابوں سے نہیں سمجھا جاتا، عربی سیکھو… اور مسلمانوں کے درمیان رہو۔”
یہ ایک جملہ میرے اندر کہیں اتر گیا۔
قاہرہ — دو لفظ، ہزار تجربے
میں نے عربی سیکھی، پھر سفر شروع کیا۔
انیس سال کی عمر میں قاہرہ پہنچ
جس شہر میں عبادت بھی ہے، شور بھی، غربت بھی، اور محبت بھی۔
رمضان کا مہینہ تھا۔ میں کلاس سے واپس آ رہا تھا کہ پہلی بار عمارت کے بوّاب سے سامنا ہوا۔
ایک کھیر… اور دل کی دنیا بدل گئی
اس کے پاس افطار کے لیے صرف ایک کھیر تھی۔
صرف ایک۔
مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھا، مسکرایا، اور وہ واحد کھیر میری طرف بڑھا دی:
“تفضل… آپ لے لیجیے۔”
میں جانتا تھا کہ یہ اس کا پورا روزہ افطار تھا، اس کا سب کچھ۔
میں خاموش رہ گیا۔
اس لمحے میرے دل نے پہلی بار کہا:
“یہ اسلام ہے— لفظوں میں نہیں، عمل میں۔”
لوگ آج بھی پوچھتے ہیں:
“آپ نے اسلام کیوں قبول کیا؟”
اور میں جواب دیتا ہوں:
“میں نے اسلام… ایک کھیرے کی وجہ سے قبول کیا۔”
کیونکہ اس کھیر میں
ایثار تھا
محبت تھی
انسانیت تھی
اور سچائی تھی—
جو کسی کتاب میں نہیں ملتی۔
مسلمان ہونا… اور مسلمان بن کر جینا
کلمہ پڑھنے کے بعد آسمان سے نور نہیں اترا،
کوئی کرامت نہیں ہوئی۔
بس دل نے سچ کو پہچان لیا۔
جاپان لوٹا تو کچھ دوست ہنسے، کچھ نے مذاق کیا—
لیکن میں جانتا تھا کہ جاپان کی اصل کمی مذہب نہیں،
محبت، خاندان اور دلوں کا تعلق ہے۔
اسلامی معاشرے میں مجھے وہ گہرائی ملی جو میری اپنی تہذیب میں کھو گئی تھی۔
ترکی — علم اور فن کا نیا سفر
ترکی کے عالم ریسپ سیپ سین ترک سے ملاقات میری اگلی منزل تھی۔
میں ترکی آیا، زبان سیکھی، اسلامی علوم میں ڈوبا،
اور آج میں جاپان و اسلام کے درمیان ایک خوبصورت پل بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔
مَنگا، چائے کی محفلیں، روایتی فنون
میں ہر اظہار کے ذریعے یہ پورا سچ بیان کرتا ہوں:
اسلام خوبصورتی ہے، نرمی ہے، انسانیت ہے۔
کبھی کبھی… حقیقت ایک کھیر میں چھپی ہوتی ہے
میں نے زندگی سے سیکھا:
حق کبھی شور میں نہیں ملتا،
وہ چھوٹی سی نیکی میں چھپا ہوتا ہے۔
اور کبھی کبھی…
ایک غریب مصری بوّاب کی ایک کھیر
کسی کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔
میرا اسلام واقعی اسی ایک کھیرے سے شروع ہوا۔
جاپانی نوجوان قبول اسلام اور کھیرا