جذبہ قربانی قوموں کی بقا کا ضامن
تحریر:شازیہ رانا
ہم لوگوں کو جذبہ قربانی کی بس یہی سمجھ آتی ہے کہ پہلے محبت سے اگلے کے ساتھ پیش آؤ اتنے میٹھے ہو جاؤ کہ حرف حرف شیرہ ٹپکاتا ہوا محسوس ہو اور جب وہ غریب پوری طرح آپ کے دام میں آ جائے تو اس کے نرخرے پر چھری چلا دو۔۔ یہ تو میں نے وہ بتایا جو ہم لوگ کرتے ہیں ورنہ قربانی کا جذبہ تو میرے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں تھا ۔۔ جو پاس ایک روٹی ہوتی اور دروازے پر کوئی سوالی آ جاتا تو اسے دے دیتے اور خود بھوکے پیٹ سو جاتے ۔۔ کسی بھی غزوہ سے کوئی مال غنیمت آتا تو اپنی جان سے پیاری بیٹی حضرت فاطمہ کو دینے کے بجائے مدینہ کی نادارو غربا میں تقسیم کر دیتے ۔۔
کیا ویسی کہیں قربانی کی مثال ملتی ہے ۔۔ ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زندگی تو ایسی قربانیوں سے بھری پڑی ہے آپ تو تھے ہی قربانی کا پیکر ۔۔ بچپن عام بچوں سے بہت مختلف تھا جس میں نہ کوئی ضد اور نہ کوئی لڑائی تھی بلکہ اپنی چیز بھی کسی اور کو دے دیتے ۔۔ تمام انبیاء میں یہ خوبی پائی جاتی ہے لحاظ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں بھی یہ چیز کوٹ کوٹ کر ڈال دی گئی تھی ۔۔
اللّٰہ کو اپنے حبیب سے اسی لیے شدید محبت ہے کہ انہوں نے اپنی ہر ضرورت کو پس پشت ڈالا اور خود کو اللّہ کی مخلوق کے لیے وقف کر دیا ۔۔ میرے خیال میں اس سے بڑی کوئ قربانی کی مثال ہے ہی نہیں
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا بچپن ، جوانی ، بڑھاپا غرض کہ زندگی کا ہر دور ہی قربانی کا پیکر تھا۔۔ اللّٰہ نے آپ کو بہت سی آزمائشوں سے گزارا لیکن میرے رسول نے اف تک نہ کی۔۔ بلکہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بڑے سے بڑا امتحان اور قربانی دی ۔۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے آمین