499

جڑواں بچے کیوں ہوتے ہیں؟

تحریر شئیر کریں

جڑواں بچے کیوں ہوتے ہیں؟جڑواں بچوں کےراز سے پردہ اٹھ گیا۔جانیے وہ راز جن سے آپ اب تک ناواقف تھے۔

بچوں کا جڑواں پیدا ہونا ایک معمہ تھا جو اب نہیں رہا۔جدید سائنس نے اس سے پردہ اٹھا لیا ہے۔

جڑواں بچے اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ بیضہ دانی میں دو انڈوں کا پیدا ہو جانا یا ایک انڈا ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے بچے جڑواں پیدا ہوتے ہیں۔ماضی کی نسبت زیادہ جڑواں بچے پیدا ہو رہے ہیں۔جس کی وجہ زیادہ عمر میں لڑکیوں کی شادی ہے۔ جڑواں بچوں میں اضافے کی شرح گزشتہ چالیس سالوں میں دوگنی ہوچکی ہے۔
جڑواں بچوں کی پیدائش کی وجوہات درج ذیل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حسین اداکارائیں اور انکی خوبصورتی کا راز

موروثی

جس کپل کے والدین کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہو چکے ہوں۔ان کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہونے کے بہت زیادہ چانس ہوتے ہیں۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جڑواں بچوں کی پیدائش کی بڑی وجہ موروثییت بھی ہے۔

ماں کی عمر زیادہ ہونا

جن عورتوں میں جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں ان کی بڑی وجہ 35 سال سے زیادہ عمر کا ہونا بھی ہے۔اس عمر میں انڈے زیادہ بننا شروع ہو جاتے ہیں۔

باڈی ماس انڈیکس کا زیادہ ہونا


تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جن عورتوں کا باڈی میکس تیس سے زائد ہو ان کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کے چانس زیادہ ہوتے ہیں۔ڈنمارک جرمنی اور فرانس کی تحقیقاتی کمیٹیوں نے اس موضوع پر تحقیق کی تو انھیں جڑواں بچوں کی پیدائش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی دکھائی دی

قد اور وزن میں کمی

جن عورتوں کا قد اور وزن زیادہ ہوتا ہے۔ان عورتوں کے ہاں بھی جڑواں بچوں کی پیدائش کے چانس کم ہوتے ہیں۔یعنی وہ عورتیں جن کا وزن اور قد کم ہوتا ہے ان میں جڑواں بچوں کی پیدائش نسبتا زیادہ ہوتی ہے۔یہ وجہ تھوڑی مختلف اور قدرے عجیب ہے تاہم سائنس دان اس پہ مزید تحقیق کر کے وجہ جاننے کی کوشش میں ہیں۔کہ جڑواں بچے کیوں ہوتے ہیں؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں