379

حد بے حد

تحریر شئیر کریں

افسانہ حد بے حد

میں سخت دوپہر میں ننگی چوکی پر بیٹھی آسمان پر اڑتی چیلوں کو دیکھ رہی تھی ۔وہ بےقرای سے چکراتی تھیں ۔جانے کیا کھوجتی تھیں ۔میں کیا سوچ رہی تھی؟پتہ نہیں ۔اب مجھے خود خبر نہیں ہوتی کہ کیا سوچ رہی ہوں،کیا کر رہی ہوں ۔عجیب سی بے خبری ہے۔بس کبھی کبھی لگتا تھا کہ سامنے ایک پردہ ہے اور اس پر سائے متحرک ہیں ۔میرے کانوں میں اپنے گنگنائے کی آواز آئی ۔کیا گا رہی ہوں؟
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں ۔
حق۔

جب دل صنم کدہ ہو تو پھر وہاں رب کہاں؟

لو وہ سائے پھر متحرک ہو گئے ۔

اف زری اتنی میٹھی چائے؟ کیا پورا شکر دان ہی الٹ دیا تھا؟
ارے تو چائے میٹھی ہی ہوئی ہے نا!
میٹھاس میں کیا برائی ہے۔میں نے مسکراتے ہوئے نعیم کے بگڑے منہ کو دیکھا۔کوئی بھی حد سے زیادہ ہو جائے تو اچھی نہیں لگتی. نعیم نے اپنے لئے دوسری کپ میں چائے دانی سے چائے ڈالتے ہوئے کہا۔
کیا مطلب! محبت تو بےحد ہی اچھی لگتی ہے ۔
اب کیا بنئے کی طرح محبت میں بھی حساب کتاب ہو گا؟ میں نے تنک کر

پوچھا ۔
ہاں توازن اور حد زندگی کے برتاؤ میں بہت ضروری ہیں ۔
بقول جلال الدین رومی ہر زاید چیز زہر ہے۔ نعیم نے تحمل سے جواب دیا ۔
کیسی بات کر رہیں ہیں واحد محبت ہی تو ہے جو بےحد و حساب اچھی لگتی ہے ۔
بلکل اچھی لگتی ہے اگر حقیقی ہو تو۔ ورنہ مجازی محبت اپنے دائرے میں ہی تیرتی رہے تو بہتر ہے ورنہ بھٹک جائے گی ۔
اچھا چلیں چھوڑیں اس بحث کو. کل میرا ڈاکٹر سے سوا تین بجے اپامئنٹ ہے یاد ہے نا؟
بلکل سرکار میں کیسے بھول سکتا ہوں ۔
میں دل ہی دل میں نعیم کی محبت پر نازاں چائے کے برتن سمیٹ کر کچن کی جانب بڑھ گئی ۔
میری زندگی خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتی تھی۔میکے کی لاڈلی اور سسرال کی من چاہی ۔ کبھی کبھی تو میں خود اپنی خوش قسمتی سے ڈر جاتی تھی ۔
میری شادی کو چھ سال ہونے والے تھے ۔ سسرال سمجھ دار،

یہ بھی پڑھیے

شب گزیدہ سحر

شوہر دل دار ،معقول آمدن، زندگی میں توازن ۔جتنا شکر بجا لاتی کم تھا۔ نعیم بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے ۔ ایک بڑی بہن تھیں اور وہ عرصے سے جدہ میں مقیم تھیں ۔ سال کے سال چکر لگاتیں چونکہ ان کی سسرال اسلام آباد میں تھی سو بمشکل دس بارہ دن ہی کراچی میں قیام کر پاتیں ۔میری ساس کو اللہ غریق رحمت کرے نہایت شفیق و نفیس خاتون تھیں ۔ عرصے دو سال قبل مختصر سی علالت کے بعد وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ۔میں تو اپنے گھر کی لاڈلی چھوٹی بیٹی تھی، سارا گن سلیقہ اپنی ساس سے سیکھا۔
ان کی طبیعت کا تحمل اور رکھ رکھاو مثالی تھا اور نعیم اماں بی کا پرتو تھے ۔

نعیم کی خوشی میری مسکراہٹ میں اور ان کا تکدر میری پیشانی کے بل میں تھا۔اب بھلا بتاو یہ بے پناہ چاہت تھی کہ نہیں ۔
میری زندگی کا ایک ہی دکھ تھا اور وہ تھا اولاد سے محرومی ۔ جس کی وجہ سے میں بے کل تھی۔مگر نعیم اس معاملے میں بھی توکل کی مثال تھے ۔ڈاکٹروں کے مطابق یہ اللہ کی مرضی تھی ورنہ ہم دونوں میڈیکلی فٹ تھے ۔ یہ واحد دکھ تھا میری زندگی کا مگر نعیم اس میں بھی دکھی نہیں رہنے دیتے تھے اور اب تو اللہ تعالی نے اپنا کرم کر دیا تھا۔اگلے مہینے کے تیسرے ہفتے ان شاء اللہ میرے گھر چاند نے اترنا تھا۔ میرا آنگن روشن اور بھرپور ہو جانا تھا۔ میں تو ایک ایک دن گن رہی تھی ۔روز کیلینڈر پر دن کو کراس کرتی شدت سے اس خوش آئند گھڑی کی منتظر تھی۔


پھر وہ ساعت خوشگوار بھی آ گئی اور اللہ تعالی نے بامراد کیا ۔ہم نے بڑی چاہت سے اپنے بیٹے کا نام مراد رکھا۔ مراد کی پیدائش پر کچھ ایسی پیچدگی ہوئی کہ ڈاکٹر نے آئیندہ ماں نہ بن سکنے کی بد خبری دی۔ پر جو سچ پوچھو تو میں مراد کو پا کر اس قدر خوش تھی کہ اس خبر بد نے بھی مجھے اداس نہیں کیا ۔میں اپنے مراد میں گم ہوتی چلی گئی، اس حد تک کہ کبھی کبھی نعیم کو شکایت ہو جاتی ۔
میں واقعی ان کی طرف سے لاپرواہ ہوتی جا رہی تھی ۔کیا کرتی مراد کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔اس کے لاڈ نخرے ،اس کی جا و بیجا فرمائش ۔ کئی دفعہ نعیم نے مجھے ٹوکا، وہی انکا حد والا لیکچر ۔اب تو وہ لیکچر مجھے ازبر ہوگیا تھا اور میں دانستہ اس بحث سے گریز کرتی تھی کہ یہ ایک بند گلی کا سفر تھا۔

میرا جنون تھا کہ مراد کی ہر چیز اعلی کوالٹی کی ہو. میری تقریبا ساری کمیٹی مراد پر خرچ ہوجاتی تھی ۔دن دیکھتے ہی دیکھتے ہوا ہو گئے اور مراد اور نعیم کے جوتے کا ناپ برابر ہو گیا بلکہ مراد قد میں نعیم سے بھی نکل گیا ۔ میرا ننھا مراد میڈیکل کے فائنل میں آ گیا۔
میرا شہزادہ،میرا منو چہر، میں تو اس کو نظر بھر کر دیکھتی بھی نہیں تھی۔ ۔میرے گھر کا مینو، انٹریر، گاڑی ہر ہر چیز مراد کی من پسند تھی۔ بس ایک بار بلکہ زندگی میں پہلی بار نعیم واقعی مجھ سے خفا ہو گئے تھے جب ان کی مرضی کے خلاف میں نے مراد کو اس کی بے پناہ فرمائش پر ہیوی بائیک لیکر دی تھی ۔آج بھی یاد کرتی ہوں تو دل کٹتا ہے نعیم نے پورے ایک ہفتے مجھ سے بات نہیں کی تھی اور میں ماہی بے آب تھی۔ بڑی مشکلوں سے ہاتھ جوڑ کے معافی مانگ کر ان کو راضی کیا تھا۔ پھر میں محتاط ہو گئی تھی. اس ایک ہفتے کی خاموشی نے مجھے بتا دیا تھا کہ نعیم میرے لئے کیا تھے۔ نعیم نے میرے اتنے لاڈ اٹھائے تھے کہ مجھے صرف وصولنا یاد رہ گیا تھا اور دینا بھول گئی تھی ۔


پھر مراد نے فائنل ایر میں ٹاپ کیا ۔وہ ہمیشہ سے پڑھائی میں بہت اچھا تھا۔ خوش شکل، خوش اطوار جوان راعنا تھا۔اس کے ڈاکٹر بنتے ہی میرے خوابوں میں رنگ بھرنے کا وقت آ گیا تھا۔ میں روز خیالوں ہی خیالوں میں اس کی دلہن سلکیٹ و ریجیکٹ کرتی۔ نعیم کا دل اپنی بھانجی کے لئے تھا اور بلاشبہ سمیرا لاکھوں میں ایک تھی۔خوبصورت، پڑھی لکھی سمجھ دار ۔وہ اپنی نانی کا پرتو تھی۔
وہ ایک بہترین انتخاب تھی۔


ایک سہہ پہر چائے پیتے ہوئے مراد نے باکل عام انداز میں اپنی کلاس فیلو نوین سے شادی کا عندیہ دیا اور ہمیں نوین کے گھر رشتہ لے کے جانے کہا۔ میں یہ تو نہیں کہوں گی کہ بجلی گر گئی یا آسمان اور زمین گھوم گئے مگر سچ ہے کہ بہت عجیب لگا۔وہ بچہ جو آپ کو اپنے خوابوں اور خواہشوں میں شریک رکھتا تھا یکدم اتنا دور کیسے چلا گیا؟
رائے تو دور کی بات. اس بات کا سرسری سا ذکر بھی نہیں کیا ۔میں کم مگر نعیم بہت ہرٹ ہوئے۔


برا تو باجی کو بھی لگا مگر وہ پی گئیں ۔
کیا کرتے ہم سب کہ کوئی اور چارہ بھی نہ تھا۔

مراد نے اس محل کے سامنے جب گاڑی روکی تو میری تو سانسیں ہی گھٹ گئی ۔یہ لوگ تو اور ہی دنیا کے باسی تھے ۔ہمھارا اور ان کا کوئی جوڑ ہی نہیں تھا۔ نوین کسی صورت بھی ہمھارے گھر میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتی تھی ۔اتنا عظیم طبقاتی فرق ۔


ہم وہاں سے گنگ واپس آئے ۔نوین کے والد یک طرفہ ہی سارا معاملہ طے کرتے رہے ۔ہمھاری کوئی رائے تھی نہ مشورہ ۔انہوں نے بیٹی کا من پسند گولڈ میڈلسٹ بر مول لیا تھا۔ میں تو شوکڈ تھی ۔
نعیم نے ایک آخری کوشش کی بیٹے کو سمجھانے کی مگر مراد کسی اور ہی آسمانوں کی اڑان میں تھا۔پتہ نہیں یہ نوین کے حسن کی ہوش ربائی تھی یا اس کے باپ کی دولت کی کرشمہ سازی ۔ مجھے تو خود یقین نہیں آتا تھا کہ یہ نعیم جیسے خود دار کا ہی بیٹا ہے؟


نعیم کے ساری نصیحت اور دلائل تار عنکبوت ثابت ہوئے۔ نہ میری خاموشی اور نہ ہی نعیم کی باتوں میں کوئی وزن تھا۔ ہیلیم گیس بھرے غبارے کی طرح ساری باتیں ہوا برد ہو گئ۔


مراد نے ہم دونوں کو اندھیرے میں رکھا تھا کہ شادی کے بعد وہ دونوں ہمشہ ہمشہ کے لئے امریکہ چلے جائیں گے۔ یہ تو میں نے انجانے میں ان دونوں کی گفتگو سن لی اور میرے حواس میرا ساتھ چھوڑ گئے۔ مجھے لگا کہ مجھے سانس ہی نہیں آ رہی۔


میرا ذہن یہ قبولنے کو تیار ہی نہیں تھا کہ میری زندگی میں کوئی ایسی صبح بھی ہو گی جو مراد کے روشن چہرے کے بغیر ہوگی۔ میری آنکھیں ہسپتال میں کھلیں۔ نعیم اور مراد دونوں میرے سرھانے تھے ۔نعیم سفید پڑتے چہرے کے ساتھ میرا ہاتھ تھامے ہوئے تھے مگر انکا ہاتھ میرے ہاتھوں سے زیادہ سرد تھا ۔ مراد نے میرا سر سہلاتے ہوئے کہا کہ یہ کیا امی!
آپ تو دل ہی چھوڑ بیٹھیں ہیں ۔جلدی سے ٹھیک ہوجائیں اتنے کام رہتے ہیں. ابھی تو آپ کو بری بھی تیار کرنی ہے۔ پھر میں نے اپنی ساری ہمت بروئےکار لاتے ہوئے دل سے اپنے بیٹے کی خوشی میں شرکت کی تیاری کر ڈالی مگر میں بھول گئ تھی کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ۔ابھی میرے لبوں نے جیوے بنرا عمر ہزاریاں مکمل بھی نہیں کیا تھا کہ ایک شام نوین ہماری طرف آئی اور کہنے لگی کہ آنٹی آپ پلیز بری کا تکلف مت کیجئے گا، میرا ٹیسٹ بہت مختلف ہے۔اس لئے پلیز میں اپنی شاپنگ خود کرنا چاہتی ہوں. سو نعیم نے خاموشی سے اسے تین لاکھ کا چیک پّکڑا دیا۔ پھر میں شادی تک ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بےکار بیٹھی رہی سب کچھ ان کی مرضی کا تھا۔ کیا ہال ،کیا ڈیکور ۔


مراد کی شادی میں ہم نے مہمانوں کی طرح شرکت کی۔ شکر ہے کہ رشتہ دار پہلے ہی کم تھے اور زیادہ تر ملک سے باہر تھے۔ دلہن رخصت ہو کر ہوٹل گئی اور وہیں سے دوسرے دن لمبے ہنی مون پر روانہ ۔ روانگی سے تھوڑی دیر پہلے مراد اکیلے ملنے آیا تھا۔

میں کئی دن بولائی بولائی پھری. لگتا تھا کہ دنیا ساکن ہو گئی ہے ۔سارے کام دھندے بند ہو گئے ہیں ۔مجھے سمجھ میں ہی نہیں آتا تھا کہ کروں تو کیا کروں؟ زندگی بے معنی ہو گئی تھی ۔عرصے سے میرا مرکز مراد تھا۔ وہ میری اولین اور دل پسند مصروفیت تھا۔
پھر ہنی مون سے واپسی کے ایک ہفتے کے بعد وہ دونوں ہمشہ ہمشہ کے لئے امریکہ روانہ ہو گئے ۔


چلتے ہوئے مراد نے بہت وعدے کئے۔ روز فون کرنے کی یقین دہانی اور یہ تسلی بھی کہ امریکہ کون سا دور ہے. چھ ماہ پر چکر لگا لیا کروں گا ۔
پر اب میرا دل ان تسلیوں سے اوبھ چکا تھا ۔میرا دل اس سفاک حقیقت کو قبول کر چکا تھا۔ پھر بھی مجھے حیرت تھی کہ میرا دل اب تک کیسے دھڑک رہا ہے؟


میں تو سمجھتی تھی کہ دل کی دھک دھک مراد کے ساتھ ہم آہنگ ہے پر واقعہ یہ ہے کہ انسان خود کو بھی نہیں جانتا۔ میں جو سمجھتی تھی کہ مراد کے بغیر مٹی ہو جاویں گی میں تو جھیل گئی مگر نعیم نہیں سہار سکے۔ انہوں نے مراد کی جدائی کو دل سے لگا لیا ۔باتونی تو وہ پہلے بھی نہیں تھے پر اب تو معاملہ ہوں ہاں تک رہ گیا تھا ۔ وہ ہمھارا شام کی چائے پر کسی کتاب پر تبادلہ خیال کرنا، کسی آرٹیکل پر بحث کرنا، وہ بیگم اختر کی غزلوں پر سر دھنا، سب خواب و خیال ہو گیا۔ میرے گھر میں خاموشی اور اداسی کا ڈیرا تھا۔

پھر ایک کہر میں بھیگی شام میں نعیم نے مجھے ایک فائل پکڑائی اور بتایا کہ گھر انہوں نے میرے نام کر دیا اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیل بھی اس فائل میں ہے۔اس فائل کو پکڑتے ہوئے میں اندر تک لرز گئی تھی ۔نعیم نے مجھے تاکید کی کہ گھر کو کسی حال میں مت بیچنا کہ یہ تمھارا آخری سہارا ہے۔ میں دہل گئی ۔


اللہ نہ کرے نعیم ! کیسی باتیں کر رہے ہیں ۔
اللہ آپ کو اور مراد کو سلامت رکھے ۔
نعیم نے کوئی جواب نہیں دیا، بس خاموشی سے میرا ہاتھ تھامے مجھے دیکھتے رہے۔


اس کے ایک ہفتے بعد میری زندگی کی سیاہ ترین اور طویل ترین صبح نمودار ہوئی ۔نعیم فجر کی نماز کے لئے نہیں اٹھے ورنہ وہ مسجد کے لئے نکلتے ہوئے مجھے آواز دیتے ہوئے جاتے تھے ۔ میں بلکل پتھرا گئی ۔مراد صرف تین دن کے لئے آیا ۔
مجھے نہ دن کا پتہ تھا نہ رات کا۔پہروں بیٹھی ایک ٹک دیکھے چلی جاتی ۔ کیا دیکھتی تھی؟


کیا سوچتی تھی کچھ پتہ نہیں تھا ۔ایک مکمل بے خبری تھی بلکہ اب تو میں نے مراد کا فون سننا بھی چھوڑ دیا تھا۔

ایک دن عاتکہ میری خالہ زاد بہن نے بتایا کہ مراد کے سسر کرپشن کے الزام میں دھر لئے گئے ہیں ۔بڑے آدمی ہیں جلدی ہی ہر الزام سے بری ہو جائیں گے مگر ایسا ہوا نہیں، شاید پکڑ میں آ گئے تھے ۔
ایک کے بعد ایک کیس کھلتا چلا گیا ۔وہ گردش میں آ چکے تھے ۔

ایک زرد دوپہر مراد کا فون آیا کہ بہت پریشان ہوں، مجھ پر بہت قرضہ چڑھ گیا ہے ۔پتہ نہیں اس نے قرض کیوں لیا تھا بقول اس کے اس کی پریکٹس بہت اچھی تھی ۔اس کو فوری رپوں کی ضرورت تھی ۔میرے پاس کوئی بہت سرمایہ تو تھا نہیں ۔ نعیم کے انتقال کے بعد جو ان کے واجبات تھے وہ اور ان کی پینشن کی رقم ہی تھی ۔مراد نے کہا امی یہ ناکافی ہیں ۔پھر مراد نے جھجکتے ھوئے کہا کہ پلیز آپ گھر بیچ دیجئے ۔ ویسے بھی تو میں آپ کو اسپانسر کرنے والا ہوں ۔وہاں آپ اکیلی کیا کرینگی؟ ۔میں سکتے میں رہ گئی ۔
کیسا بیٹا تھا میرا؟


پھر میں نے پراپرٹی ڈیلر سے بات کی۔ بہترین لوکیشن پہ ہونے کی وجہ سے سارا معاملہ ترنت ہی فائنل ہو گیا ۔ اس بیچ میں نے عاتکہ سے بات کی. اس کے گھر کی تیسری منزل پر ایک کمرہ اور باتھ روم تھا۔ وہ میں نے کرائے پر لے لیا گو کہ اس کمرے کی چھت asbestos کی تھی مگر میرا وجود گرم سرد سے بے نیاز ہو چکا تھا۔
گھر کی یہ ڈاون سائیزنگ(down sizing ) قیامت تھی ۔ہر چیز سے یادیں جڑی تھیں.


پینتیس چھتیس سالہ گھر گرہستی تھی۔
گھر کا کونا کونا، ایک ایک بوٹا، پودا اور درخت لگتا تھا کہ دامن پکڑ رہا ہے۔ کبھی موتیا سسکتی کبھی چمبیلی دھائی دیتی، کبھی نیم دامن گیر ہوتا۔
سب سے مشکل جدائی تو برامدے میں لگے جھولے سے تھی۔ گھر کی ایکسٹنشن کے دوران نعیم نے خاص طور پر برامدے کی چھت پر کڑے لگوائے تھے اور چنیوٹ سے یہ جھولا میری سالگرہ کے تحفے طور پر منگوایا تھا۔ یہ جھولا میری اور نعیم کی خوشگوار شاموں کا گواہ تھا۔ اس پر ہم دونوں نے پینگ لیتے ہوئے کئی کتابوں کو ڈسکس کیا تھا،
کتنی غزلیں سنی تھیں. مراد کے لئے کتنے خواب بنے تھے ۔حالانکہ میں اس گمان میں تھی کہ میں اب مکمل طور پر بے حس ہو چکی ہوں.
کاش ایسا ہی ہوتا۔لیکن دل کی مصیبت یہ ہے کہ یہ صرف pumping station نہیں ہے ۔کمبخت یادوں کا کولڈ اسٹورج بھی ہے۔مجھے تو اب پتہ چلا تھا دیواریں بھی دکھ سے کرلاتی ہیں. اپنے مکین کے لئے بین کرتیں ہیں ۔
بہرحال ہر چیز کا سودا ہو گیا.
خسارہ یادوں کی صورت میں میرے حصے میں آیا اور سرمایہ مراد کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو گیا ۔
میں عاتکہ کے گھر کی تیسری منزل پر منتقل ہو گئی ۔مراد نے ایک دو بار رسمی سا بلانے پر اصرار کیا مگر میں نے کہا نہیں! سب کچھ تو تم پر وار دیا ہے. بس صرف نعیم کی مٹی کی ڈھیری رہ گئی ہے اس کو نہیں چھوڑ سکتی۔

پھر میرا دل عبادت میں لگنے لگا اور مجھے یاد آیا کہ مراد کی محبت میں گم ہو کر میں نے اللہ تعالی کو بھی سکینڈری کر دیا تھا۔ کتنی عصر مراد کی ٹہل سیوا کی نظر ہو گئی ۔ بھاگتے دوڑتے نماز پڑھی ۔کبھی صرف فرض پڑھ کر اٹھ گئی سنت رہ گئی ۔میں نے جس کی محبت میں رب کو بھلا دیا تھا۔رب نے اسی کے ہاتھوں مجھے ریزہ ریزہ کروا دیا۔
واقعی نعیم صحیح کہتے تھے کہ دنیاوی محبت کو حد کے اندر رہنا چاہیے ورنہ انسان بھٹک جاتا ہے۔صرف اللہ تعالی کی محبت ہے جو بے حد و حساب جچتی ہے۔ میرا دل تو صنم کدہ تھا، صنم آشنا تھا ۔مجھے حضوری کیسے نصیب ہوتی۔

تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں ۔

میں نے تو راہ ہی کھوٹی کر لی۔
خسارہ سا خسارہ۔

از قلم شاہین کمال ۔

حد بے حد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں