219

حسد سے نجات کیسے؟

تحریر شئیر کریں

انسانی نفس کی سب سے پرانی بیماریوں میں سے ایک بیماری حسد ہے۔ یہ وہ روحانی زہر ہے جو انسان کے باطن میں چھپ کر اس کی عبادات، اس کی دعائیں، اور اس کی نیکیاں دھیرے دھیرے کھا جاتا ہے — ایسے جیسے آگ سوکھی لکڑی کو جلا کر راکھ بنا دیتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“ایاکم والحسد، فإن الحسد یأکل الحسنات کما تأکل النار الحطب”
(سنن ابو داؤد، حدیث: 4903)
“حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔”

—

شیطان کی پہلی لغزش: حسد اور تکبر

قرآن مجید نے شیطان کا جو اولین جرم بیان کیا، وہ یہی تھا:

“أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ”
(الاعراف: 12)
“میں اُس سے بہتر ہوں، تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اُسے مٹی سے۔”

یہ جملہ نہ صرف تکبر کو ظاہر کرتا ہے بلکہ حسد کو بھی — کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جو فضیلت دی، وہ ابلیس کو برداشت نہ ہوئی۔

یہی حسد ہر دور میں انسانوں کو بگاڑتا رہا ہے:
قابیل نے ہابیل کو مارا — حسد کی وجہ سے
یوسف ؑ کے بھائیوں نے اُنہیں کنویں میں پھینکا — حسد کی وجہ سے
یہود نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کیا — حسد کی وجہ سے

—

قرآنی تنبیہ: اللہ کی تقسیم پر اعتراض مت کرو

“أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ”
(النساء: 54)
“کیا وہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا؟”

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اُس کی صلاحیت، حکمت اور آزمائش کے مطابق رزق دیا ہے۔ کسی کے رزق یا مقام پر جلنا دراصل اللہ کے فیصلے سے ناراضی ہے۔

—

حسد کے اثرات: ظاہر بھی، باطن بھی

حسد صرف دل کی کیفیت نہیں بلکہ اس کے نتائج ظاہری اعمال میں ظاہر ہوتے ہیں:

1. بدگمانی:

2. غیبت و بہتان:

3. قطع تعلقی:

4. نفرت اور فتنہ:

امام غزالیؒ “احیاء علوم الدین” میں لکھتے ہیں:
“حاسد دل میں چھپے زہر کو پالتا ہے، جو وقت آنے پر زبان اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔”

—

روحانی تباہی: نیکیوں کا زیاں

جب حاسد کسی کی کامیابی پر دل جلائے، جب وہ غیبت کرے، بہتان باندھے یا سازش کرے، تو وہ دراصل اپنی وہ نیکیاں کھو دیتا ہے جو اس نے نماز، روزہ، زکٰوۃ اور صدقہ سے کمائی تھیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟”
صحابہؓ نے عرض کیا: جس کے پاس مال نہ ہو۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے اور زکٰوۃ کے ساتھ آئے گا مگر کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا… اس کی نیکیاں ان کو دے دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہوں گی تو دوسروں کے گناہ اس پر ڈال کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔”
(صحیح مسلم: 2581)

—

علاج: حسد سے نجات کیسے؟

1. سچے دل سے دعا:
جس سے حسد ہو، اُس کے لیے بھلائی کی دعا مانگو۔ نفس کو توڑو۔
“اللهم بارك له وزدني من فضلك”
“اے اللہ! اسے برکت دے اور مجھے اپنے فضل سے مزید عطا فرما۔”

2. شکر گزاری کی مشق:

روزانہ اپنے رزق، صحت، رشتوں اور علم پر شکر ادا کریں۔
“وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا”
(النحل: 18)
“اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو، تو گن نہ سکو گے۔”

3. موازنہ ترک کریں:

خود کو دوسروں سے نہ تولیں۔ اپنے سفر پر توجہ دیں۔

4. ذکر اور استغفار:
حسد دل کی بیماری ہے، اور دلوں کی صفائی ذکر سے ہوتی ہے۔

—

خاتمہ: جلنے سے جینا بہتر ہے

زندگی چند دن کی ہے۔ جو کچھ دوسروں کے پاس ہے، وہ اُن کا امتحان ہے، اور جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ ہمارا۔ جل کر ہم دوسروں کو شاید نقصان نہ دے سکیں، لیکن اپنی نیکیاں، اپنا سکون، اپنا رب ضرور کھو بیٹھتے ہیں۔

آئیے! آج سے دلوں کو صاف کریں، زبانوں کو محفوظ رکھیں، اور اللہ کی تقسیم پر دل سے راضی ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں