246

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کہانی

تحریر شئیر کریں

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کہانی بچپن سے بڑھاپے تک بہت دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ آئیے اسے سادہ اور دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں

حضرت ابراہیم علیہ السلام کابچپن:

حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت قدیم زمانے میں عراق کے شہر بابل میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام آزر تھا، جو بت تراش تھے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ جب ابراہیم علیہ السلام چھوٹے تھے، تو وہ اکثر اپنے والد سے پوچھتے تھے کہ یہ بت کیا ہیں اور یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے، پھر لوگ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟ ان کے سوالات سے ان کے والد ناراض ہو جاتے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جوانی:

جوانی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے غور کیا کہ یہ بت کچھ بھی نہیں کر سکتے، نہ وہ کسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی فائدہ۔ انہوں نے لوگوں کو بت پرستی سے روکنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن جب سب لوگ شہر سے باہر میلے پر گئے ہوئے تھے، تو ابراہیم علیہ السلام نے تمام بتوں کو توڑ دیا اور بڑے بت کے گلے میں کلہاڑا لٹکا دیا۔ جب لوگ واپس آئے اور انہوں نے دیکھا کہ بت ٹوٹے ہوئے ہیں، تو وہ بہت غصہ ہوئے۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ یہ بڑے بت نے کیا ہوگا، کیونکہ کلہاڑا اسی کے گلے میں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ بڑے بت کو تو حرکت بھی نہیں آتی، وہ کیسے کر سکتا ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ پھر تم کیوں ان کی عبادت کرتے ہو جو کچھ بھی نہیں کر سکتے؟

حضرت ابرہیم علیہ السلام کا امتحان:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عمل سے لوگ بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے انہیں آگ میں جلانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک بہت بڑی آگ جلائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس میں پھینک دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ “اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی بن جا!”۔ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے پھولوں کی طرح ٹھنڈی اور خوشگوار ہو گئی اور وہ محفوظ رہے۔

بیٹے کی قربانی:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر کافی زیادہ ہو چکی تھی لیکن ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی خوشخبری دی۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو قربان کر دو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور جب وہ اپنے بیٹے کو قربان کرنے لگے، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک مینڈھا بھیج دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جان بچ گئی۔ یہ قربانی کا واقعہ ہمیں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر یاد دلایا جاتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بڑھاپا:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زندگی اللہ کی عبادت اور اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے گزاری۔ ان کی زندگی میں کئی امتحانات آئے، لیکن انہوں نے ہر امتحان میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ‘خلیل اللہ’ یعنی اللہ کا دوست کا لقب دیا۔ ان کی عمر بہت لمبی ہوئی اور وہ اللہ کے قریب رہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چاہیے، برائی سے دور رہنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ان کی زندگی کا ہر حصہ ہمیں ایمان، صبر اور تقویٰ کی تعلیم دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں