حضرت ابراہیم کی قربانی کا واقعہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ پڑھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے یہ کوئی فیری ٹیل ہے ایسی فیری ٹیل جس کا حقیقت سے کوئی گمان نا ہو،مگر یہ کہانی حقیقت کا پر تو ہے ایسی حقیقت اس سے پہلے چشم فلک نا دیکھی ایک باپ کی آزمائش جسے کبھی کسی اور باپ کو پالا نا پڑا
،یہ مقام ابراہیم علیہ اسلام تھا جن کو یہ فریضہ سونپا گیا کہ آپ اپنی محبوب زترین چیز کی قربانی کریں۔خگواب دیکھا سوچ میں پڑ گئے ،جب سمجھ آیا یہم خواب کس طرف اشارہ کر رہا ہے اٹھے بیٹے سے حقیقت بیان کی ،بیٹا بھی کس کا تھا بولا ابا جان جو حکم ملا ہے بجا لیجیے پھر وہ مقام آیا واللہ جس کو سوچنا بھی ہم جیسوں کے بس کی بات نہیں،
یہ بھی پڑھیں
ہاتھ میں۔چھری ،جو بیٹے کی گردن کاٹنے کو تیار،دل کہیں نرم۔نا پڑ نائے حضرت ابراہیم علیہ اسلام آنکھوں پہ پٹی باندھ لیتے ہءں۔اور تکبیرہ پڑتے ہوئے چھری چل پڑتی ہے ۔زمین و آسمان کا مالک ہم سب کاپروردگار اس منظر کو دیکھتا ہے اور امتحان میں پاس کی مہر لگا دیتا ہے مہر لگنے کی دیر تھی کہ ایک مینڈھا چھری تلے آکر ذبح ہو جاتا ہے۔
حضرت اسماعیل علیہ۔اسلام سامنے کھڑے مسکرا رہے ہوتے ہیں سوچیں زرا ایک باپ کے لیے بیٹے کا زندہ سلامت بچ جانا کیا مقام ہوگا خوشی کا،اور اس سے بھی بڑھ کر امتحان مءں کامیابی کا،حضرت ابراہیم علیہ السلام جتنی بڑی شخصیت ہیں ان کے حصے میں۔امتحان بھی بڑے آئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ ہمیں بتاتاد ہے کہ اللہ سے دوستی کا تعلق مضبوط کریں
وہ کبھی آپ کو گرنے نہیں دے گا۔نا دنیا کی نظروں میں اور نا ہی خالق کی نظروں میں، اللہ نے حضرت ابراہیم کو تین بڑے مذاہب کے ماننے والوں کی نظر میں معتبر بنا دیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ رہتی دنیا تک عیدالاضحی کی صورت میں زندہ کر دیا۔حضرت ابراہیم علیہ کی دعا ربنا اتنا فی الدنیا حسنہ ازبر کریں اور صبح وشام اس کا ورد کریں۔