304

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہامشعل رہ

تحریر شئیر کریں

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہامشعل رہ


آمنہ راجپوت اسلام آباد پاکستان

ام المومنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ
رضی اللہ عنہا ہجرت سے68 سال پہلے مکہ میں پیدا ہوہیں۔ آپ کا خاندان حسب نسب کے لحاظ سے بہترین تھا۔ آپ کی امی فاطمہ بنت زائدہ ہیں ان کا شمار مکہ کی پارسہ اور فیاض دہی میں شمار ہوتا تھا ان کو ہر جگہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ انہوں نے سیدہ طاہرہ کی تربیت بھی ان اصولوں پر کی تھی۔

حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے والد کا نام خویلد تھا اور قبیلہ اسد سے تعلق رکھتی تھی۔ اس قبیلے کی لڑی قصی پر جا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کا انتقال جنگ فجار میں ہوا تھا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے گھر دولت کی ریل پیل تھی لیکن ان میں غریب پروری اور فراخدلی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، آپ کے دروازے پر کوئی خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا تھا۔ اخلاق، عفت، حیاء، پاکیزگی خیال و افکار کی ایسی خوبیاں آپ میں نمایاں تھی کے اس وقت کے مکہ کے سب قبائل کے سردار اپنے گھر کی بہو بنانا چاہتے تھے

۔آپ کے والد محترم کی خواہش تھی آپ کی صفات میں برابری کرنے والا ساتھی ملے اس لئے اپ کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کا انتخاب کیا گیا۔ کیونکہ اس وقت مکہ میں نیک اور اعلی صفات عظیم انسان کے طور پر جانے جاتے تھے تورات اور انجیل کے عالم تھے ہر کوئی ان کی کردار کی ضمانت دیتا تھا۔ والد گرامی نے شادی کی بات چلائی مگر تقدیر میں کچھ اور لکھا تھا آپ کا عقد ابو ہالہ سے ہوگیا اللہ تعالی نے دو بیٹوں سے نوازا ایک کا نام ہند اور دوسرے کا نام حالہ رکھا مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ابو ہالہ کا انتقال ہوگیا۔

حضرت خدیجہ طاہرہ اپنے دو بچوں کے ساتھ تنہا رہ گئی آپ کا دوسرا نکاح عتیق بن حاہد سے کیا گیا اللہ تعالی نے آپ کو اپنی بیٹی کی رحمت سے نوازا عتیق نہایت بیمار ہوگیا اور کچھ دن بیمار رہنے کے بعد داغ مفارقت دے گیا۔ ایک بار پھر زندگی کی ساری خوشیاں بھی ساتھ لے گیا، آپ کے والد گرامی کو دوبارہ آپ کی فکر ستانے لگی مگر حضرت خدیجۃ الکبرہ ایک جواب دیتی کہ آپ شادی نہیں کرنا چاہتی۔

عرب الفجار کا آغاز ہوگیا آپ کے والد گرامی کو شرکت کرنا ضروری تھا دوران جنگ ان کا انتقال ہوگیا۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اکیلی رہ گئی انہوں نے خود تجارت کرنے کا فیصلہ کیا اور تجارت شروع کر دی اس دوران کئی سرداروں تاجروں کے آپ کو نکاح کے پیغام آئے آپ نے سبھی کو انکار کر دیا۔

آپ کی تجارت دیانت اور امانت کا تزکرہ عرب میں گونج رہا تھا اپ اپنے بچوں کی پرورش بھی کر رہی تھی۔ایک دن حضرت ابو طالب کو علم ہوا خدیجۃالکبریٰ خویلد کی بیٹی ہے وہ اپنا مال تجارت کے لیے کسی کو دے کر بھیجنا چاہتی ہے تو آپ نے اپنے بھتیجے کی رضامندی معلوم کرنا چاہی حضرت محمد صلی وسلم نے رضامندی ظاہر کر دی آپ کی دیانت و امانت داری اور سچائی سے متاثر ہو کر

حضرت خدیجۃالکبرہ نے اپ کے لے نکاح کا پیغام بھیجا جو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول کرلیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کے بعد حضرت خدیجہ کے گھر ہی رہائش اختیار کر لی مکہ میں پیارا گھر خدیجہ رضی اللہ عنہا اور محمد کا ہے یہ بات پورے مکہ میں گونج رہی تھی صبح غرباء فقراء حاجت مندوں کو معلوم تھا کوئی بھی خالی ہاتھ اس گھر سے نہیں جاتا بن مانگے ملتا ہے۔

اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورحضرت خدیجتہ الکبریٰ کو بیٹا قاسم عطا کیا اس کے بعد بیٹی زینب پیدا ہوئی اس کے بعد تین بیٹیوں سے نوازہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سب سے چھوٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی اور چہیتی بیٹی تھی قاسم کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا آپ کو اللہ تعالی نے ایک اور بیٹے عبداللہ سے نوازہ عبداللہ بھی بچپن میں وصال کر گئے سیدہ طاہرہ رضی علیہ عنہا نے اپنی بیٹیوں کی تربیت بہت پیار محبت بلکہ سیرت کا کمال بخشا۔

تاریخ کی ورق گردانی کر یے تو بہت سے ایسے نام ملتے ہیں جو تاریک رات میں آسمان کی وحشت میں رونق پیدا کرنے والے چاند اور ستاروں جیسے آب و تاب سے چمک رہے ہوتے ہیں ایسی پاک سیرت شخصیات کی کمی نہیں جس کے عظیم کارناموں سے انسانیت فخر سے جھوم اٹھتی ہے انہیں میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاہیں، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکی سیرت ہماری بیٹیوں کے لئے بہترین مشعل رہ ہے۔ اسلام کی اشاعت کا سلسلہ جب بڑھنے لگا اعلانیہ تبلیغ کا اعلان کردیا گیا روزانہ کوئی جماعت اتی اسلام قبول کر لیتی مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق سے ہر کوئی متاثر ہو رہا تھا سیدہ طاہرہ جس نجابت و شرافت کی مالکہ تھی حضور کی صحبت کی وجہ سے اس سے بھی چار چاند لگ گئے تھے خواتین کو دعوت دیتی اپنے اخلاق اور ایمان کی قوت کے بل بوتے پر بہت سی خواتین کو مشرف باسلام کر چکی تھی۔

شعیب ابی طالب کے مشکل دور میں تین سال کے قیام سے سیدہ طاہرہ کی صحت بھی خاص متاثر ہوئی آپ جب گھر واپس لوٹی تو کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے بیمار پڑ گئی یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا آخر کار 10 رمضان المبارک کو 65 سال کی عمر میں آپ وصال فرماگہی۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہامشعل رہ ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں