200

حکایتِ “الو اور چکور”

تحریر شئیر کریں

ایک گھنے جنگل میں ایک الو رہتا تھا۔ اس نے دن کے اجالے سے بیر لگا لیا تھا اور کہتا تھا:
“دن تو کم عقلوں کے لیے ہے، عقلمند تو رات کو جاگتے ہیں!”

چکور، جو صبح دم اٹھتا، سورج کی کرنوں سے آنکھیں کھولتا اور دن بھر رزق تلاش کرتا، الو کی باتیں سن کر حیران ہوتا۔
ایک دن چکور نے الو سے کہا:
“دوست! یہ جو سورج دن میں چمکتا ہے، ہوا میں تازگی ہوتی ہے، پرندے چہچہاتے ہیں، یہ سب یوں ہی تو نہیں! قدرت نے ہر شے کا ایک وقت مقرر کیا ہے۔ رات آرام کے لیے، دن عمل کے لیے۔”

مگر الو ہنسا:
“ارے چکور میاں! یہ سب دقیانوسی باتیں ہیں۔ ہم نئے زمانے کے پرندے ہیں، رات کو جاگیں گے، دن کو سوئیں گے۔”

دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کے کئی نوجوان پرندے الو کی راہ پر چل نکلے۔ اب رات گئے تک چہچہاہٹ سنائی دیتی اور دن کو جنگل سونا پڑا رہتا۔
کچھ ہی عرصے بعد کیا ہوا؟

وہ پرندے جنھوں نے دن کو چھوڑ کر رات کو اپنا لیا تھا، ان کے پر جھڑنے لگے، جسم کمزور ہو گئے، آنکھیں دھندلانے لگیں۔ اداسی اور چڑچڑا پن ان میں عام ہو گیا۔ جب کوئی مصیبت آن پڑی — سخت سردی، طوفان یا درندے کا حملہ — تو ان میں نہ تو مقابلے کی سکت تھی نہ قوتِ فیصلہ۔

چکور نے پھر الو سے کہا:
“دوست! قدرت کے اوقات سے جنگ خسارے کا سودا ہے۔ رات کی نیند اللہ نے شفا رکھی ہے۔ جو اس شفا کو چھوڑ دے، اس کا دل و دماغ اور جسم سب کمزور ہو جاتے ہیں۔”

مگر الو نہ مانا۔ وہی ضد، وہی انا۔ آخرکار اس کے بہت سے ساتھی بیمار پڑ گئے، کئی تو جان سے بھی گئے۔

یوں جنگل میں یہ کہاوت مشہور ہو گئی:
“جو رات کی نیند قربان کرے، وہ دن کی برکت سے محروم رہے!”

یہ بھی پڑھیے
حکایتِ فاختہ و فجر
—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں