کبھی نہ ختم ہونے والی دھند میں چھپی ایک وادی تھی، جسے لوگ “وادیِ فتنہ” کہتے تھے۔ یہاں سب کچھ روشن دکھائی دیتا تھا، مگر درحقیقت ہر چیز پر دھوکہ، لالچ، خود فریبی اور ظاہر پرستی کی دھول جمی ہوئی تھی۔
اس وادی میں ایک نوجوان پرندہ رہتا تھا — نام تھا سچ پَر۔ وہ ہمیشہ حق کی تلاش میں اڑتا، مگر اس دھند نے اس کی آنکھوں کو تھکا دیا تھا۔ ایک دن، وہ نڈھال ہو کر ایک بوڑھے عقاب کے پاس پہنچا جسے سب بابا بصیرت کے نام سے جانتے تھے۔
سچ پَر نے پوچھا:
“بابا، مجھے بتایا گیا تھا کہ اگر میں سورۃ کہف پڑھوں گا تو دجال کے فتنے سے محفوظ رہوں گا، لیکن یہاں تو فتنہ ہر طرف ہے — آواز، لباس، نظریات، سوشل میڈیا، حتیٰ کہ کتابوں میں بھی۔ اب کہف کہاں ہے؟ غار تو پتھر کے نہیں رہے۔”
بابا بصیرت ہنسا، اس کی آنکھوں میں روشنی تھی:
“اے نادان پرندے، غار اب صرف پہاڑوں میں نہیں، اب کہف جدید روپ میں تمہیں ڈھونڈنے ہوں گے۔”
“آؤ میں تمہیں جدید کہف دکھاتا ہوں!”
—
پہلا جدید کہف: خاموشی کا گوشہ
بابا بصیرت ایک شور مچاتے شہر کی طرف لے گیا۔ وہاں ہر فرد کانوں میں ایئرپوڈز لگائے، سکرین پر جھکے ہوئے، اپنی ہی دنیا میں گم تھا۔
“یہ سننے کا دور ہے، مگر دلوں نے سننا چھوڑ دیا ہے۔ پہلا کہف ہے — خاموشی کا گوشہ۔ ایک کمرہ، ایک وقت، جہاں تم سکرین سے الگ ہو کر، اللہ سے بات کرو، اپنے آپ سے بات کرو۔ یہ تمہاری پہچان کی شروعات ہے۔”
—
دوسرا جدید کہف: علم کی محفوظ پناہ
پھر وہ ایک بڑے کتب خانے میں گئے جہاں زیادہ تر کتابیں یا تو فیشن کی تھیں یا خودی پرستی کی۔
“یہاں بھی فتنہ ہے۔ لیکن اگر تم قرآن، صحیح علم، اور نبیوں کے قصے پڑھنا شروع کرو، تو تمہارا ذہن محفوظ ہو جاتا ہے۔ علم جو عاجزی سکھائے، وہی کہف ہے۔”
—
تیسرا جدید کہف: صالح رفاقت
پھر وہ ایک کیفے میں گئے جہاں نوجوان دوستوں میں بیٹھے تھے، مگر باتوں میں غیبت، فحاشی اور دکھاوا تھا۔
بابا نے کہا:
“جس دوست کی مجلس تمہارے ایمان کو تازہ کرے، وہی کہف ہے۔ صالح رفاقت — ایسی صحبت جو تمہیں رب کی یاد دلائے، دجال سے بچانے والی ایک ڈھال ہے۔”
—
چوتھا جدید کہف: ذکر کا خلوت کدہ
پھر وہ ایک پارک میں بیٹھے جہاں ہر کوئی سیلفی میں مصروف تھا۔
بابا بولا:
“تمہارا دل بھیڑ میں بھی تنہا رب سے جُڑ سکتا ہے۔ تسبیح ہاتھ میں ہو یا دل میں — اگر تمہارا دل ذکر کرتا ہے تو وہ دجال کی ملمع کاری سے بچا رہتا ہے۔”
—
پانچواں جدید کہف: مقصد کی پناہ
آخرکار، بابا بصیرت اسے ایک تنہا پہاڑی پر لے گیا، جہاں ایک نوجوان لڑکا بچوں کو قرآن پڑھا رہا تھا، ایک بیٹی بیمار ماں کو دوائی دے رہی تھی، اور ایک بوڑھا درخت لگا رہا تھا۔
“یہ سب وہ لوگ ہیں جن کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے — اللہ کو خوش کرنا۔ یہ کہفِ مقصد ہے۔ جو بندہ دنیا میں اپنا مقصد اللہ کی رضا رکھے، وہ دجال کی چکاچوند سے نہیں ڈرتا۔”
—
واپسی پر…
سچ پَر واپس جانے لگا تو دھند اب بھی موجود تھی، مگر اس کی آنکھوں کے اندر روشنی آ چکی تھی۔
“بابا، اب میں جانتا ہوں — دجال صرف باہر نہیں، وہ نظریہ ہے، تہذیب ہے، خواہش ہے… اور اس سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہر زمانے میں اپنے کہف تلاش کیے جائیں۔”
بابا بصیرت نے آخری بات کہی:
“ہر دور کا دجال نیا ہوتا ہے، اس لیے ہر دور کے کہف بھی نئے ہوتے ہیں۔ مگر جن کے دل اللہ سے جُڑ جائیں، وہ ہر فتنہ سے بچے رہتے ہیں۔”
—
سبق:
اگر تمہیں ایمان بچانا ہے تو جدید کہف تلاش کرو۔ اور یاد رکھو:
“غار صرف پہاڑوں میں نہیں ہوتے، بعض غار دل میں ہوتے ہیں، جنہیں انسان تنہائی، ذکر، علم، اور اخلاص سے تراشتا ہے۔”
حکایتِ جدید کہف