173

حکایتِ طوفانی جزیرہ

تحریر شئیر کریں

حکایتِ طوفانی جزیرہ

(قلیلہ و دمنہ — جدید حکایات سے انتخاب)

جنگل کے مشرقی کنارے پر ایک نہایت خوبصورت جزیرہ تھا۔ سرسبز میدان، چمکتے پانی، جھلملاتے پھول، تتلیاں، نرم ہوا، اور ایک چمکتا ساحل — یہ سب کسی جادوئی خواب کی مانند لگتا۔

اسی جنگل میں ایک پرانا، دانا ہاتھی رہا کرتا تھا۔ وہ کئی بار اس جزیرے کو دور سے دیکھ چکا تھا۔ اس نے طوفانوں کو آتے دیکھا تھا، لاشوں کو بہتے، اور چیخوں کو خاموش ہوتے سنا تھا۔

ہاتھی جب بھی جنگل کی مجلس میں بیٹھتا، جوانوں کو نصیحت کرتا:
“اُس جزیرے کی ریت پر قدم نہ رکھنا، وہ خوبصورت ضرور ہے مگر چھلنی زمین ہے۔ وہاں موجوں نے سچ کو دفنا دیا ہے۔”

لیکن نوجوان ہرن، چالاک لومڑی، ضدی بکریاں اور شوخ خرگوش اس کی بات کو ہنسی میں اڑا دیتے۔
ہرن کہتا:
“ہمیں تیرنا آتا ہے!”
لومڑی مسکرا کر کہتی:
“ہم وقت پہ لوٹ آئیں گے!”
بکری کہتی:
“ہم سب ساتھ ہوں گے، کچھ نہیں ہوگا!”
اور خرگوش شرارت سے کہتا:
“زندگی ایک بار ملتی ہے، جینا تو بنتا ہے نا!”

یہ سب فطری تھا۔ جوانی تھی، دل میں جذبے تھے، کانوں میں شور، اور آنکھوں میں خواب۔

چند دن بعد، جب موسم سہانا ہوا، وہ سب ساحل کی طرف نکل پڑے۔ ان کے قدموں کے نشانات پیچھے رہ گئے اور ان کی پشت پر بزرگ پرندوں کے آخری پکار سنائی دیتے رہے:
“رکو! وہ ریت نہیں، موت ہے! وہ لہریں نہیں، دغا ہیں!”

لیکن وہ سب جا چکے تھے۔

🌊 منظر: ساحل کی دوپہر

ساحل پر پہنچ کر وہ خوشی سے جھوم اٹھے۔ پانی کے چھینٹے، دھوپ کی چمک، قہقہوں کی بازگشت۔ ایک گیت سا چل رہا تھا، جو انہیں اور بہا لے جا رہا تھا۔

اور تب… اچانک آسمان پر بادل گرجے۔
لہروں نے شکل بدلی۔
پانی نے زمین کھینچ لی۔
اور منظر… ماتم میں بدل گیا۔

ہرن سمندر کی گہرائی میں کھو گیا۔ بکری چٹانوں سے ٹکرا کر بے ہوش ہو گئی۔ خرگوش کی چیخ گرجدار طوفان میں دب گئی۔ صرف لومڑی کسی لکڑی کے سہارے بے ہوش واپس لائی گئی۔

🕸️ دوسری کہانی: مکڑی کا جال

اسی جزیرے کے پچھواڑے میں ایک خاموش وادی تھی۔ وہاں ایک مکڑی اپنے جال میں چمکدار قطرے ٹانک کر بیٹھی رہتی۔
وہ مکھیاں، بھنورے، اور ننھے کیڑے دیکھ کر نرم آواز میں کہتی:
“میں تمہاری خیرخواہ ہوں، تھک گئے ہو، آؤ کچھ دیر ٹھہر جاؤ۔”

ایک ننھی مکھی بولی:
“مجھے تو لگتا ہے تمھارے جال میں روشنی ہے۔”
مکڑی نے ہنس کر کہا:
“یہ روشنی ہی تو زندگی ہے، جو دیکھتا ہے، وہی سمجھتا ہے!”

مکھی جا کر بیٹھ گئی۔ پھر کوئی نہیں جانتا وہ کہاں گئی۔

اسی دوران، ایک تجربہ کار شہد کی مکھی نے دیکھا اور کہا:
“یہ جال چمکتا ضرور ہے، مگر یہ قاتل ہے۔”
لیکن دوسری مکھیاں بولیں:
“تم پرانی ہو چکی ہو، ہمیں آزادی پسند ہے!”

اور یوں جال میں ایک کے بعد ایک پھنسنے لگے…

🐘 ہاتھی کی آخری مجلس

جنگل کے بیچ ہاتھی خاموش کھڑا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آج بھی کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:

“موت اپنی گھڑی پر آتی ہے، مگر عقل کا تقاضا ہے کہ خود موت کو نہ بلایا جائے۔ ہر وہ جگہ، جو دل کو لبھاتی ہے، ضروری نہیں کہ روح کو بچا بھی سکے۔”

پھر اس نے دعا مانگی:
“اے اللہ! ہمیں ایسی موت عطا فرما جو ایمان پر ہو، شرم و حیا کے ساتھ ہو، ایسی حالت میں ہو جب ہم تیرے سامنے لوٹنے کے لیے تیار ہوں۔”

—

🕯️ عبرت کا پیغام

کبھی کبھی ایک ساحل — صرف ایک ساحل نہیں ہوتا۔ وہ ایک آزمائش ہوتا ہے۔
کبھی ایک جال — صرف جال نہیں ہوتا، وہ گناہ کا خوشبو دار پردہ ہوتا ہے۔
اور کبھی ایک کلک، ایک ملاقات، ایک ہنسی — پوری زندگی کو بدل دیتی ہے۔

اللہ ہمیں ایسے لمحات میں عقل، صبر، استقامت اور سچائی کے ساتھ جینے اور مرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

—حکایتِ طوفانی جزیرہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں