.حیا معاشرے کی اہم ضرورت کیوں ہے؟نوجوان نسل اپنی سب سے قیمتی چیز کی حفاظت کرنے سے قاصر کیوں ہیں
حیا حیات سے ہے حیات زندگی کو کہتے ہیں۔حیا وہ کوالٹی ہے جو اگر معاشرے سے رخصت ہوجاۓ تو ایسا معاشرہ زندہ معاشرہ کہلاۓ جانے کا حق دار نہیں ہے۔حیا سے قومیں پہچانی بھی جاتیں ہیں اور اسی سے تباہ و برباد بھی ہوتیں۔قوم لوط کیوں تباہ و برباد کر دیں گئیں۔ان کا گناہ کیا تھا؟اتنی سخت سزا آسمان سے پتھر برساۓ گۓ۔۔۔آج بھی زمین کا یہ خطہ نشان عبرت بنا لوگوں کو چیخ چیخ کر کہہ رہا کہ حیا سے ہے حیات اگر حیا کا راستہ چھوڑو گے تو زندہ میں رہو گے نا مردوں میں۔۔۔
14 فروری 2021 ء یوم حیا کے طور پر منایا جا رہا ہے۔یہ دن نوجوان نسل کی یاد دہانی کا دن ہے۔نوجوان نسل تو کجا جن کے ہاتھوں میں جوانوں کی باگ ہے ان کے لیے بھی بطور خاص یاد دلاتا ہے کہ حیا سے پر معاشرہ کیوں ضروری ہے۔حیا معاشرے کی اہم ضرورت کیوں ہے؟بے حیائی کیسے عفریت بنے ہماری نسلیں نگل رہی ہے۔ویلنٹائن ڈے اس معاشرے میں کیا کر رہا ہے جہاں زراسا بڑے ہوتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ جب حیا نا رہے تو جو چی چاہے کرو”حیا ایمان کا حصہ ہے۔اور بے حیائی نفاق کا۔۔۔
یہ بھی پڑھیے
☘️میری زندگی میں حجاب کی اہمیت ☘️
جب تک بچے اور بچیوں کو حیا سکھایا پڑھا اور اوڑھایا نہیں جاۓ گا۔اور عملا اس کو کر کے دکھایا نہیں جاۓ گا۔شرفاء کی بیٹیوں کو ٹک ٹاکر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔گرل فرینڈ کلچر کے خاتمے کے لیے ضروری ہے سستے نکاح کو پرموٹ کیا جاۓ۔نکاح عصمت کی حفاظت کرتا اور ناجائز تعلقات سے بچاتا ہے۔حیا معاشرے کی اہم ضرورت ہے۔اس سے گریز گھر اور سوسائٹی دونوں کے لیے موجب ہلاکت ہے۔
مجھے بہت افسوس ہوتا ہے ان ماؤوں پر جو بیٹیوں کو بے حجاب بنا کر فخر محسوس کرتیں اور بڑے فخر سے بنا سنوار کر گھر سے نکالتیں اور بھوکے بھیڑیوں کی پرواہ کیے بغیر یہ سب کرتے چلی جاتی ہیں۔جب تک وہ بیٹی کو ئی چاند نا چڑ ھا دے تب تک انھیں ہوش نہیں آتا۔جب ہوش آتا تب تک خاندان کی عزت لٹ چکی ہوتی ہے۔عزتوں کا خون کیوں ہو رہاہے۔کیونکہ ماؤں نے اپنے فرض سے آنکھیں بند کر رکھیں ہیں۔تہجد گزارباپ کی بیٹی برہنہ سر پھرتی ہے ۔کیوں؟یہ سوال سوسائٹی کی ان ماؤں سے ہے جو اپنی بیٹی کو ماڈرن بنانے کی تگ و دو میں انھیں نازن بنا رہیں ہیں۔