250

 “خاموش دیواریں”

تحریر شئیر کریں

بڑی بہن کی اچانک وفات ایک زلزلے کی طرح ہمارے گھر پر ٹوٹ پڑی۔ وہ گھر کی رونق تھی، میری ماں کی آنکھوں کا نور، اور میرے بہنوئی کی پوری دنیا۔ اس کے جانے کے بعد سب کچھ ویران ہو گیا۔ میرے بہنوئی، جنہیں میں ہمیشہ “بھائی جان” کہا کرتی تھی، چپ چاپ دیواروں سے نظریں ملا کر جیتے رہے۔ اور میں، اُن کی بیوی کی چھوٹی بہن، اُن کی پرانی زندگی کا جیتا جاگتا عکس۔

چالیسویں کے بعد، امّی اور ابو نے فیصلہ سنایا: “اب گھر ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ تمہیں اپنے بہنوئی سے نکاح کرنا ہو گا۔” میں نے کچھ نہ کہا۔ کچھ کہنے کی ہمت بھی نہ تھی۔ اور نکاح ہو گیا۔

مگر نکاح کے بعد ایک اور قسم کی خاموشی نے ہمارے درمیان جگہ بنالی۔ وہ مجھے دیکھتے تو جیسے ماضی کی کوئی کٹی پھٹی فلم آنکھوں میں گھوم جاتی۔ کبھی میں اُن کے ہاتھوں میں اپنی بہن کے نام کی چوڑیاں دیکھتی، کبھی اُن کی نیند میں بہن کا نام سنتی۔ میں اُن کے لیے ایک عورت نہیں تھی، ایک سایہ تھی — اُس کی جو اب نہیں رہی۔

راتیں کمرے میں سسکیوں سے گونجتیں، پر کوئی آواز بلند نہ ہوتی۔ میں اُن کا دکھ سمجھتی تھی، مگر اپنا کیا؟ میں خود کو کھو رہی تھی — ایک ایسی زندگی میں جس میں میری مرضی، میری خواہش، کچھ بھی شامل نہ تھا۔

ایک دن اُنہوں نے کہا، “مجھے معاف کر دو، میں تمہیں وہ نہیں دے سکا جو تمہارا حق تھا۔”

میں نے آہستہ سے جواب دیا، “آپ نے نہیں چھینا، وقت نے چھینا… ہماری زندگی، ہماری پہچان۔”

دیواریں آج بھی خاموش ہیں، مگر اب اُن میں صرف ایک کی نہیں، دو زندگیوں کی آہیں گونجتی ہیں۔

“خاموش دیواریں”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں