وہ خاموشی سے ٹی وی کے سامنے بیٹھی تھی۔ ڈراما چل رہا تھا، کہانی عام سی تھی، مگر ایک منظر نے اچانک دل کے کسی بند کمرے کا دروازہ کھول دیا۔ اسکرین پر شوہر اپنی بیوی کو پرانی چیزیں دکھا رہا تھا اور مسکرا کر کہہ رہا تھا:
“یہ سب میری بچپن کی یادیں ہیں، مگر اب تم میری اپنی ہو، اس لیے یہ سب تمہارا بھی ہے۔”
یہ جملہ سنتے ہی دل میں برسوں سے دبی ہوئی ایک خاموش سی کسک جاگ اٹھی۔
اچانک اسے شادی کے بعد کا دوسرا دن یاد آ گیا۔ نیا گھر، نئی ذمہ داریاں، اور دل میں پلتے ہوئے ان گنت خواب۔ وہ محبت سے الماری سمیٹنے لگی تھی کہ پیچھے سے اس کی آواز آئی:
“میری چیزوں کو ہاتھ نہ لگانا۔”
وہ لمحہ بظاہر معمولی تھا، مگر دل پر گہرا نشان چھوڑ گیا۔ وہ خاموش رہی، کیونکہ نئی دلہنیں سوال نہیں کرتیں، خود کو یہ سمجھا لیتی ہیں کہ شاید وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
مگر وقت گزرتا گیا اور وہ جملہ آہستہ آہستہ ایک اصول بن گیا۔ وہ گھر سنبھالتی رہی، اس کے مزاج، اس کی خاموشیوں اور اس کی حدوں کو سمجھتی رہی۔ اس کی چیزیں، اس کے کاغذ، اس کی پرانی یادیں—سب اس کے لیے ایک ممنوعہ دائرہ بن گئیں۔ وہ جان بوجھ کر ہاتھ روک لیتی، کیونکہ اسے لگتا تھا کہ شاید یہی رشتے کو بچانے کا طریقہ ہے۔
پھر ایک دن وہ اس دنیا سے چلا گیا۔ زندگی جیسے ایک لمحے کو رک گئی۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد، جب دل کا شور تھوڑا تھما، تو وہ پہلی بار سکون سے سوچنے لگی۔ اب اسے سمجھ آنے لگا کہ یہ صرف عادت نہیں تھی، یہ ایک کیفیت تھی—ہر چیز کو اپنے قابو میں رکھنے کی بے چینی، ہر معاملے پر کنٹرول کی خواہش۔ وہ برا انسان نہیں تھا، وہ بیمار تھا۔ اس کا حد سے زیادہ کنٹرول کرنا محبت کی کمی نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی الجھن کا نتیجہ تھا، جسے اس وقت نہ وہ پہچان سکا اور نہ وہ سمجھ پائی۔
اب وہ اس کی چیزوں کو دیکھتی تو دل میں شکوہ نہیں اٹھتا تھا۔ اب وہ جان چکی تھی کہ کچھ لوگ دل سے محبت کرتے ہیں، مگر ذہن کے خوف انہیں بانٹنے نہیں دیتے۔ اس کی خاموشی بے حسی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی کمزوری تھی جو آہستہ آہستہ بیماری بن گئی۔
کچھ دن بعد وہ اس کی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔ وہی الماری، وہی درازیں، جنہیں وہ برسوں چھونے سے رکتی رہی تھی۔ اچانک اس کے کوٹ کی جیب سے ایک پرانا سا پرس ملا۔ وہی پرس جو وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتا تھا۔ ہاتھ ہلکے سے کانپے، مگر اس بار اس نے خود کو نہیں روکا۔
پرس کے اندر تین تصویریں تھیں۔ ایک اس کی ماں کی، ایک اس کی بیٹی کی، اور ایک اس کی—سادھی، خاموش سی تصویر۔ وہ دیر تک انہیں دیکھتی رہی۔ کوئی خط، کوئی وضاحت نہیں تھی، مگر ان تین تصویروں نے وہ سب کہہ دیا جو برسوں لفظوں میں نہ کہا جا سکا تھا۔ اس لمحے دل میں جمع سارے شکوے جیسے خود بخود پگھل گئے۔
اب اسے پوری طرح سمجھ آ گیا تھا کہ وہ محبت کرتا تھا، مگر اپنے ہی انداز میں۔ اس کی محبت میں بانٹنا کم اور سنبھالنا زیادہ تھا۔ وہ چیزوں کو بھی قابو میں رکھتا تھا اور رشتوں کو بھی—کیونکہ اس کے اندر خوف تھا، بیماری تھی، بے رخی نہیں۔ وہ برا شوہر نہیں تھا، بس ایک الجھا ہوا انسان تھا جو محبت کو محفوظ رکھنے کے نام پر قید کر دیتا تھا۔
اس دن سب منظر بدل گئے۔ وہ الماری، وہ درازیں، وہ پابندیاں—سب بے معنی لگنے لگیں۔ اس نے دل سے مان لیا کہ کچھ محبتیں ہاتھ پکڑ کر نہیں چلتیں، وہ خاموشی میں نبھائی جاتی ہیں۔ اور کچھ لوگ “تم میری اپنی ہو” کہہ نہیں پاتے، مگر دل کی جیب میں تصویر رکھ لیتے ہیں۔
اس نے پرس بند کیا۔ آنکھیں نم تھیں، مگر دل ہلکا ہو چکا تھا۔ اب اس کے پاس شکوہ نہیں تھا، بس یہ سمجھ تھی کہ وہ اس سے محبت کرتا تھا—اپنے محدود، بیمار، مگر سچے انداز میں۔ اور کبھی کبھی، یہ سمجھ اگرچہ دیر سے ملے، مگر انسان کو جینے کا حوصلہ دے دیتی ہے۔
خاموش محبت افسانہ کیسا لگ کمنٹ کریں
تبصرے بند ہیں