خاموش گواہ
رات کی تاریکی میں چاند بھی دبک کر بادلوں کے پیچھے چھپ گیا تھا، شاید وہ بھی یہ منظر دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا۔ لاہور کے مضافات میں، جہاں وقت تھم سا جاتا ہے، ایک معصوم زندگی نے موت کی دہلیز پر قدم رکھ دیا۔ زارا کے خواب، امیدیں اور وہ ننھی جان جو ابھی دنیا میں سانس لینے کی تیاری کر رہی تھی، سب ظالم رسم و رواج اور خود غرضیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔
زارا، جو اپنے والد کی لاڈلی تھی، بڑی محبتوں سے قدیر کے ساتھ بیاہی گئی۔ رخصتی کے وقت اس کے والد کے چہرے پر فخر اور آنکھوں میں آنسو تھے، جن میں یہ یقین جھلکتا تھا کہ ان کی بیٹی اپنے گھر میں خوشیوں کا گلدستہ بنے گی۔ لیکن وہ گلدستہ نفرتوں کے کانٹوں میں بکھر گیا۔
قدیر، اپنی ماں اور بہنوں کا اکلوتا سہارا، زارا کو محبت تو دیتا تھا، مگر ان کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہمت نہ کر سکا۔ ساس اور نندوں کا گمان تھا کہ ان کا بیٹا ساری کمائی زارا پر لٹاتا ہے، اور یہ بات انہیں کانٹے کی طرح چبھتی تھی۔ زارا، جس نے دل کے دروازے کھول کر اس گھر کو اپنا سمجھا تھا، روز بہ روز خود کو بیگانہ محسوس کرنے لگی۔
قدیر اسے اٹلی لے گیا تاکہ ان جھگڑوں سے نجات ملے، مگر واپسی پر وہی نفرتیں زارا کے لیے موت کا پروانہ بن گئیں۔ ایک رات، جب زارا گہری نیند میں تھی، وہ اپنے پیاروں کے ہاتھوں زندگی کی آخری سانس لے رہی تھی۔
زارا کی ساس اور نندوں نے نہ صرف اسے قتل کیا بلکہ اس کی لاش کے ساتھ ایسا ظلم کیا کہ انسانیت بھی کانپ اٹھے۔ وہ سر، جس پر کبھی زارا کے والد نے دعائیں کی تھیں، جلا دیا گیا تاکہ شناخت ختم ہو جائے۔ جسم کے ٹکڑے بوریوں میں ڈال کر دور پھینک دیے گئے۔ اس ظلم کو چھپانے کے لیے کہانی بنائی گئی کہ زارا کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی۔
یہ صرف ایک گھر کا المیہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے، جہاں رشتوں کی حرمت خودغرضی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ ساس بہو کی چپقلش اور نند بھابی کی رقابت کئی گھروں کو اجاڑ دیتی ہے۔ ہمارا یہ کہنا کہ “اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں ڈالے گا” محض ایک خوش فہمی ہے۔
زارا کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ رشتے خون کے نہیں، احساس کے محتاج ہوتے ہیں۔ اگر محبت اور عزت نہ ہو تو خون کا رشتہ بھی سانپ کا ڈسا لگتا ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کے لیے ایسے گھر منتخب کرنے ہوں گے جہاں وہ صرف دلہن نہیں، ایک انسان کے طور پر قبول کی جائیں۔
زارا تو چلی گئی، لیکن وہ سوال چھوڑ گئی:
کیا ہم اپنی بیٹیوں کو ایسے ہی بے بسی کی موت مرتے دیکھتے رہیں گے؟
خاموش گواہ