378

خزانے کی تلاش 12

تحریر شئیر کریں

*خزانے کی تلاش

*قسط 12*

اس کے ساتھ موجود شخص نے سرگوشی میں کچھ کہا اور پھر وہ دونوں دوبارہ اس کھڑکی پہ جھک گٸے درز میں سے اندر کا منظر نظر آ رہا تھا ”سر یہ ہیں وہ لوگ جو ہمارے بڑوں کے ارادے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں لیکن یہ ہیں کون ؟؟ مسلمز چلو دیکھتے ہیں کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ اتنا کہہ کر اس نے اندر کے منظر پہ نگاہیں گاڑ دیں ،آواز صاف آ رہی تھی پھر اب کیا سوچا ہے ان میں سے ایک نے کہا قرآن کے نسخوں میں خزانہ ڈال دیتےہیں ۔ پتہ ہی صاف ہو جاٸے گا اس کام کا ہاٸیں وہ کیسے”


یہ پادری جتنے بھی مضبوط ہو جاٸیں ان کی کرنسی ان کے عقیدے سے بڑی نہیں ہے اور ہم اسی کا فاٸدہ اٹھاٸیں گے“ وہی شخص دوبارہ بولا ہم انکو دھمکی دیں گے لیکن دراصل وہ جھانسہ ہو گا واہ واہ ہاہاہا کیا کہنے سر“ وہ ” ” ””سب“““ “ لوگ محظوظ ہونے لگے تھے ” بھٸی وضاحت بھی تو کرو “ ”اچھا تو پھر سنیں! ہم وہاں کھیل کھیلیں گے لیکن یہ کوٸی کھیل نہیں ہو گا ۔ کام بہت خطرناک ہے“ ”بھٸی لفظوں کے کھلاڑی ہو “ جہاں ایک نے لقمہ دیا وہاں باقی سب دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے ۔وہ دونوں تا حال کھڑکی پہ جھکے ہوٸے تھے ” لیکن سر میری چھٹی حس ۔۔۔۔۔۔۔۔ اف اوٸے! باہر کوٸی ہے“ وہ یکدم چیخا اور وہ دونوں فورا پیچھے ہٹ گٸے ” سر ابھی نکل چلیں “ اس نے کہا اور وہ دونوں داٸیں طرف ہو کر دوسری دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہو گٸے ”سر ان کی میٹنگز ابھی جاری رہیں گی ۔ آج انہوں نے دس افراد بلاٸے ہیں دس کل بلاٸیں گے اور دس پرسوں ۔ حفاظت کے پیش نظر زیادہ لوگ اکٹھے نہیں ہو رہے ورنہ ان کی تعداد شاید بہت زیادہ ہے میں نے سنا تھا وہ کہہ رہا تھا ہم پانچ سو ہیں ۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔


نقاب پوش نے آج ہر حال میں خزانہ ڈھونڈنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ زابیل تو ہاسپٹل پہنچ گیا تھا اب میدان صاف تھا ۔ رات کا پچھلا پہر تھا جب وہ پاٸپ پہ قدم جماٸے اوپر ہی اوپر چلا جا رہا تھا چھت پہ پہنچ کر اس نے تھوڑی دیر سانس درست کی اور پھر سیڑھی کے راستے نیچے آ گیا اس نے آرام سے تالا کھولا اور ہال میں داخل ہو گیا بلب جلا کر اس نے الماری کے قریب جا کر ایک نسخہ نکالا اور پھر اس کے اوپر لکھے جلی حروف دیکھ کر سہم گیا لا یمسہ الا المطہرون وہ پہلے ہی اس کی تفسیر پڑھ چکا تھا کیونکہ اس سے پہلے بھی اس نے ان نسخوں کو کٸی بار دیکھا اور پھر ان کی تفسیر انٹرنیٹ سے دیکھی تھی ۔ ہر اگلی آیت اسے کوٸی نہ کوٸی جھٹکا لگا رہی تھی کہیں اس کو مشرک کہا گی کہیں ناپاک اور کہیں دوزخی بالخصوص سورت کہف کی آیات نے تو اس کو ہلا ہی دیا تھا


جب سے اس کو معلوم ہوا تھا وہ ناپاک ہے وہ ان نسخوں کو کپڑے کی مددسے کھولتا تھا ۔۔حسن سعید وقاص اور دیگر کچھ انجینٸیرز آج کل باقی انجینٸیرز سے مشاورت کر رہے تھے ۔ روزانہ دس افراد کی میٹنگ بلاٸی جاتی ۔ آج اس مشاورت پہ عمل درآمد کا پہلا قدم اٹھانا تھا میری اطلاع کے مطابق آج زابیل سن شاٸن میں جاٸے گا تو پھر بسم اللہ کیجیے وقاص نے کہا سعید اور وقاص نے فورا وہاں جانے کی تیاری پکڑی ادھر چند ساتھی الرٹ ہو کر بیٹھ گٸے دو گھنٹے بعد سعید کی مسڈ کال ایک ساتھی کے نمبر پہ آٸی تو اس نے فورا ایک نمبر ڈاٸل کیا ۔”تم جلدی سے اندر داخل ہو جاٶ“ کال کٹ گٸی تھی اورکال سننے والا اسی وقت ایک فون بوتھ میں داخل ہو گیا تھا


مجھے اطلاع ملی ہے تم نے سن شاٸن میں خزانہ چھپا رکھا ہے ۔ فی الفور وہ خزانہ میرے حوالے کرو ورنہ میں تمہیں ختم کر دوں گا ۔ اس نے اندر داخل ہو کر کسی کو کال کی اور یہ الفاظ کہے تھے ۔۔۔۔۔۔ کچھ توقف چھا گیا اور پھر دوسری طرف سے زابیل کی لڑکھڑاتی آواز سناٸی دی .تم کون ہو ۔ تمہارا دشمن ۔ اس نے اتنا کہہ کر کال کاٹ دی ۔ کچھ دیر بعد وہ ان کے پاس تھا لیں جی یہ مرحلہ تو مکمل ہوا ۔ اب آگے کیا کرنا ہے حسن بھاٸی! زابیل کی نقل و حرکت پہ نظر رکھنا ہی اگلا کام ہے ۔ یہ یاد رہے کہ ہمارا مقصد اسکو قرآن کے نسخوں کی اہمیت جتانا ہے اور ساتھ ہراساں کرنا بھی لہذہ ایک دو ساتھی اس کی نگرانی شروع کر دیں اور جہاں موقع ملے اسے دھمکیاں دینے سے گریز نہ کریں ۔ کہیں اس کے ارادے خطرناک نظر آٸیں توکوٸی مزید سخت قدم بھی اٹھانا ہو گا (جاری ہے )

خزانے کی تلاش 12

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں