382

خزانے کی تلاش 13

تحریر شئیر کریں

قسط وار کہانی خزانے کی تلاش از قلم ساجدہ بتول قسط 13

اس نے قرآن کا نسخہ کھولا ۔ آج وہ آزاد تھا ۔ زابیل اسپتال میں پڑا تھا ۔ خزانے کے انجانے دشمن بھی شاید اب صرف وقت گزرنے کا انتظار کر رہے تھے اور نقاب پوش کے پاس یہ قیمتی چانس تھا ۔ اس نے چند آیات پڑھیں ۔ پھر ایک ٹھنڈی سانس لی
۔ ایک حسرت آمیز نظر اس نے اوپر کی جانب ڈالی اور پھر کہیں دور نکل گیا ۔ اس کا باپ ایک نیوٹرل شخص تھا مگر وہ ایک یہودی کے سانچے میں ڈھلتا چلا گیا ۔ معلوم نہیں کب اور کیسے اس نے مذہب کو اہمیت دینا شروع کی تھی کہ اس کے نصیب نے چکر کھایا تھا ۔


اس دن وہ اپنی کوٹھی سے پیدل ہی بازار جانے کے لیے نکلا تھا ۔ گاڑی خراب تھی مگر اس کی قسمت کو ٹھیک ہونا تھا کہ وہ پیدل ہی نکل آیا تھا ۔
وہ ایک روشن دن تھا ۔ مگر اس کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دن کتنی گہری تاریکی میں جا کے ڈوبے گا کہ ابھرنا مشکل ہو جاٸے گا اور جب ابھرے گا تو اپنے چہار اطراف روشنی لے کر ابھرے گا ۔ وہ تو اپنے خیالوں میں ہی مگن چلا جا رہا تھا کہ اچانک کوٸی وزنی چیز اس کے سر کے پچھلے حصے میں لگی ۔ اسکا سر ایکدم بری طرح چکرایا تھا اور پھر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا چلا گیا ۔ جب اسے ہوش آیا تو کچھ دیر تو اس کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ وہ ہے کون اور کہاں ہے ۔ تین چار منٹ وہ خلا میں گھورتا رہا ۔ ”میں کون ہوں ؟ “ اس نے خود سے سوال کیا اور پھر اسے سب یاد آنا شروع ہوا ۔ اس کا گھر سے نکلنا۔ بازار جانا اور کسیوزنی چیز کا سر پہ لگنا ۔ ”اوہو “ اس کے منہ سے نکلا اور پھر پہلی بار اس نے ارد گرد نظر دوڑاٸی اور پھر وہ دھک سے رہ گیا ۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عبدالغنی میک اپ کے بعد ایک بالکل نٸے گیٹ اپ میں آ چکا تھا ۔ وہاں سے نکل کر وہ روڈ پہ پہنچا اور ٹہلتے ٹہلتے ایک فون بوتھ کے پاس پہنچ گیا ۔ بظاہر وہ یوں خوش باش تھا گویا بیوی کو میکے بھیج کے آ رہا ہے ۔ احتیاطا اس نے سر پہ ہیٹ پہن کر اسے اتنا آگے جھکا دیا تھا کہ آدھا چہرہ چھپ گیا تھا ۔ دو گھنٹے بعد سعید کی مسڈ کال اس کے موباٸل پہ آٸی تو اس نے فورا فون بوتھ میں داخل ہو کر اس کے پی ٹی سیل سے ایک نمبر ڈاٸل کیا تھا ۔ ادھر سے کال اٹینڈ ہونے کے بعد ہیلو کی آواز سناٸی دی ۔ ”مجھے اطلاع ملی ہے تم نے سن شاٸن میں خزانہ چھپا رکھا ہے ۔ فی الفور وہ خزانہ میرے حوالے کرو ورنہ میں تمہیں ختم کر دوں گا “ کچھ توقف چھا گیا اورپھر دوسری طرف سے زابیل کی لڑکھڑاتی آواز سناٸی دی۔ ”تم کون ہو ؟“

”تمہارا دشمن ؟ “ عبدالغنی نے اتنا کہہ کر کال کاٹ دی ۔ کچھ دیر بعد وہ حسن اور سعید کے پاس تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ لمحوں کے بعد کار کا دروازہ کھلا اور ایکشخص باہر نکلا ۔۔ جب وہ قریب آیا تو اس کے چہرے پہ نظر پڑتے ہی وہسب ہکا بکا رہ گٸے ۔سب کے سب خوفزدہ ہو گٸے ۔ پہرہدار سہم گٸے ۔انجینٸیرز کو اپنے ارادے متزلزل ہوتے محسوس ہوٸے ۔۔ حسن گھبرا گیا ۔ کیپٹن چارلس جیسا با اختیار با اقتدار دولتمند اور ملک کا نامور شخص ان کے سامنے تھا جو اگر چاہتا تو پوری حکومت کو اپنے قدموں میں جھکا سکتا تھا ۔ ان سب کو اپنے پیروں تلے سے زمین نکلتی دکھاٸی دی ۔ ”کیا ہو رہا ہے یہاں ؟ “ وہ گرجا ۔ ”سس سر یہ لوگ ۔۔۔ “

نقاب پوش سے پورا جملہ منہ سے نکالنا مشکل ہو گیا ۔انجینٸیرز کو لگ رہا تھا یہ کوٸی چال ہے ۔ ان کو اپنی زندگیاں ختم ہوتی نظر آٸیں ۔ ۔ کیپٹن چارلس نے سامنے دیکھا جہاں کار کی بتیاں جگمگ کر رہی تھیں ۔ اچانک اس کی آنکھوں میں دھند بھر گٸی ۔ بتیاں مدھم پڑنا شروع ہو گٸیں کچھ دیر بعد ان کی جگہ ترمرے سے ناچنے لگے اور پھر وہ ترمرے نکتے بن گٸے اب وہ نکتے داٸروں میں بدل گٸے تھے اور پھر داٸرے پھیلنا شروع ہو گٸے ۔ ان داٸروں کے اندر ایک منظر حرکت کر رہا تھا ۔ وہ کیپٹن چارلس ہی تھا جو آج چھٹی کو انجواٸے کرنے کے لیے دیر سے اٹھا تھا اور اس وقت اپنے لان میں ناشتہ کر رہا تھا ۔

ایک دم گیٹ پہ بیل ہوٸی اور اس کا ملازم دوڑتا ہوا اس طرف گیا ۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو اس کےچہرے پہ کشمکش سی تھی ”سر کچھ لوگ آٸے ہیں ۔آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ عجیب سے ہیں ۔ “ ”عجیب سے ؟“ وہ حیران ہوا ” لے آٶ ان کو “ ملازم الٹے پیروں واپس ہوا اور کچھ دیر بعد اس کے ساتھ چند آدمی آتے نظر آٸے۔ ان کو دیکھ کر کیپٹن چارلس کے چہرے پہ ناگواری پھیل گٸی ۔ اسے کچھ گھبراہٹ سی ہونے لگی ۔ ( جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں