قسط 8
خزانے کی تلاش کی آٹھویں قسط ملاحظ کیجیے
وہ تینوں پوری رفتار سے دوڑ رہے تھے
دوڑتے دوڑتے آخر سرنگ ختم ہوٸی اور وہ باہر نکلے ۔ پیچھے سے دھپ دھپ کی آواز سناٸی دے رہی تھی لہٰذہ وہ اب پھر دوڑنے لگے ۔ کچھ اور دوڑنے کے بعد سڑک آ گٸی اور وہ اس پہ چڑھ گٸے ۔ اسی دم ایک ٹیکسی ان کے قریب سے گزری ۔ ۔”لفٹ پلیز “
زابیل تیزی سے بولا
ٹیکسی رک گٸی اور وہ اس میں سوار ہو گٸے ۔
ٹیکسی انہوں نے ایک ریسٹورینٹ کے سامنے رُکواٸی تھی ۔ اور کُچھ دیر بعد وہ اپنے گھر سے گاڑی منگوا چکے تھے ۔
”ڈیڈ! ہم تو اُلٹا گھر گٸے ہیں “
کمیل نے کہا
”میری سمجھ میں تو خُود کچھ نہیں آ رہا ۔“
”میرا اندازہ ہے ، وہ شخص ہمیں خزانے کے قریب جانے سے روکنے کے لیے یہ سب کر رہا ہے ۔ موت کی دھمکی بھی اسی لیے دی ۔“ ایمل نے کہا ۔
”مسٸلہ تو یہ ہے کہ وہ فون کال بھی ایک فون بوتھ سے کی گٸی تھی ۔۔۔ اب ہم اس سے اس کا کوٸی سراغ نہیں لگا سکتے ۔“ زابیل نے کہا ۔
”میرے ذہن میں ایک ترکیب آٸی ہے ۔“ کمیل بولا
”وہ کیا ؟“ان دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا
”گھر چل کے بتاتا ہوں “
دوڑتے دوڑتے وہ سرنگ سے نکلا اور پھر دھک سے رہ گیا ۔
قریب میں کوٸی بھی نظر نہ آ رہا تھا اور اِس اندھیرے میں اُن کو ڈھونڈنا لا حاصل تھا ۔
وہ ہاتھ ملتے ہوٸے اب آرام سے چلنے لگا ۔ قتل کا ارادہ بدل کر اب وہ نیا پلان ترتیب دے رہا تھا ۔ اب اسے اگلی رات کا اِنتظار تھا ۔ اور یہ انتظار بہت مشکل تھا
اگلے روز زابیل کمیل اور ایمل کے ساتھ سن شاٸن جانے کے لیے نکلا ۔ انہوں نے میک اپ کا سامان ساتھ لے لیا تھا ۔ اندر پہنچتے ہی وہ تینوں میک اپ کر لیتے اور یوں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی کہ انہوں نے قرآن کے نسخوں کو چھوا ہے ۔
گاڑی عمارت سے کچھ دور کھڑی کر کے وہ تینوں پیدل چلنے لگے ۔
اچانک فاٸر کی آواز سناٸی دی اور ایک گولی تیر کی طرح اُن کی طرف آٸی ۔
زابیل کی چیخ بلند ہوٸی اور وہ گر گیا ۔۔۔ آن کی آن میں وہاں لوگ اکٹھے ہو گٸے ۔
گولی اس کی پنڈلی پہ لگی تھی ، میک اپ اور خزانہ بھول بھال ایمل اور کمیل نے اسے فورًا گاڑی میں ڈالا اور ہاسپٹل کی طرف روانہ ہو گٸے
گولی پِنڈلی سے نکال لی گٸی تھی ۔ وہ گھر آ گیا تھا ، خون کافی ضایع ہوا تھا ، نقاہت بہت ہو گٸی تھی مگر جان بچ گٸی تھی ۔ دفعتًا فون کی گھنٹی بجی ۔ نمبر انجانا تھا ۔۔۔ ان تینوں کے دماغوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں ۔
اس نے اٹینڈ کیا ۔
”ہاں پھر کیا سوچا ؟“ اسی اجنبی کی آواز سناٸی دی
”تم کچھ سوچنے ہی کب دیتے ہو!!“ زابیل جھلّایا
”یہی میں کہنا چاہتا ہوں ، خزانے کے قریب جانے کا سوچنا بھی مت ۔ ورنہ مارے جاٶ گے ۔ یہ گولی تُمہاری گردن یا دماغ میں بھی لگ سکتی تھی مگر ہم نے رحم کھایا ۔ لیکن آٸیندہ کوٸی غلطی برداشت نہیں ہو گی ۔“ “
”ٹھٹھ ٹھیک ہے ۔“ وہ ہکلایا اور دوسری طرف سے کال کاٹ دی گٸی ۔
”کیا کہتا تھا وہ ؟“اُن دونوں نے بے تابی سے پوچھا ۔
زابیل نے ساری بات بتا دی ۔ اور یہ بھی بتایا کہ ہر بار نمبر کِسی فون بوتھ کا ہوتا ہے ۔
”اب کیا کِیا جاٸے ۔ اِس طرح تو ہم نمبر سے بھی اُس کا سُراغ نہیں لگا سکتے “ کمیل بولا
”ہاں یاد آیا! کمیل نے کوٸی ترکیب سوچی تھی ۔“ ایمل نے فورًا کہا ۔
”ہُوں! بتاٶ جلدی“ زابیل نے کہا ۔
”ترکیب یہ ہے کہ آپ قُرآن جلانے کی تاریخ آگے کر دیں۔“
”اِس سے کیا ہو گا ؟“
”ظاہر ہے وہ لوگ ساٸے کی طرح ہمارے پیچھے لگے ہیں تو ہمیں قرآن کے نسخوں کے قریب تو جانے نہ دیں گے ۔ اگر قرآن جلانے کی تاریخ آگے ہو جاٸے تو اپنے ارادے کے مطابق وہ 21 ستمبر کو خزانہ لُوٹنے آ پہنچیں گے ۔ آپ اُس وقت اُن سے دو دو ہاتھ کر لینا ۔ “
”اور اگر اُنہوں نے ہمیں مار دیا ۔۔ “
”ہم پولیس سے رابطے میں رہیں گے سادہ لباس والے اُس دن صُبح سویرے عمارت کے ارد گرد پہنچ جاٸیں ۔ “
”ہاٸیں! مگر اس طرح ہمیں خزانے کا راز کھولنا پڑے گا ۔“
”آپ یہ راز نہ کھولیں ۔ بس حِفاظت کا بہانہ بناٸیں ۔“
اور پھر واقعی اس کے تھوڑی دیر بعد ہی یہ خبر نشر کر دی گٸی کہ کسی وجہ سے قُرآن جلانے کی تاریخ مٶخّر کر دی گٸی ہے ۔ اب یہ کام 22 ستمبر کو ہو گا ۔
(خزانے کی تلاش جاری ہے)