470

خزانے کی تلاش

تحریر شئیر کریں

خزانے کی تلاش کی نویں قسط ملاحظ کیجیے۔

قسط 9

رات اپنی تمام تاریکیوں کے ساتھ چھاٸی ہوٸی تھی
نقاب پوش تیز تیز چلتا عمارت کے قریب پہنچا ۔ اور پاٸپ پہ قدم جما کر احتیاط سے اوپر چڑھنے لگا ۔ قدم در قدم چڑھتے چھت پہ پہنچا اور کچھ ہی دیر بعد وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر چکا تھا
وہ جانتا تھا آج کوٸی رکاوٹ حاٸل نہ ہو گی ۔ لہٰذہ اطمینان سے ہال کا لاک کھول کے اندر داخل ہوا ، لاٸیٹ جلاٸی اور پھر دروازہ بند کر کے اندر سے لاک کر دیا ۔ اس کے بعد اس نے چادر کے اندر ہاتھ ڈالا ۔ جو باہر آیا تو اس میں ایک کپڑا تھا ۔ پھر دوسرا ہاتھ اندر کسی دوسری جیب میں ڈالا ۔ اور ایک پینسل کے ساتھ باہر نکال لیا ۔ اب اس نے اس کپڑے کی مدد سے قرآن کا ایک نسخہ چن کے نکال لیا ۔ انداز بتا رہا تھا ، وہ اس سے واقفیت رکھتا ہے اور پہلے بھی اسے دیکھ چکا ہے
کپڑے میں لپیٹ کر اسے وہ ایک ساٸیڈ پہ رکھی ٹیبل تک لایا ۔ اور ٹیبل پہ رکھ کر اسے چھوٸے بنا ہی کپڑے کی مدد سے کھول کر کرسی پہ بیٹھا اور اس پہ جھک گیا ۔ جو ورق کھلا ، اس نے اسے جمانے کے لیے اس پہ پینسل رکھ دی
عربی کی تو اسے خاک سمجھ نہ آٸی مگر اس کے نیچے لکھا انگلش ترجمہ دیکھ کر اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گٸی
” اور اللہ کی عبادت کرو ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراٶ ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، نیز رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، قریب والے پڑوسی ، دور والے پڑوسی ، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے ) ہوٸے شخص اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتاٶ رکھو) ۔ بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا “
سورة النساء آیت نمبر 36

اس کی آنکھیں چندھیا گٸیں ، شرک کا درد اس کے دل کو مٹھی میں بھینچنے لگا
یہ تو کہہ رہا ہے والدین سے ،
رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور پڑوسیوں سے بھی ۔۔۔۔۔ اچھا سلوک ؟
اف ماٸی گاڈ
پھر دہشت گرد کون ہے ؟

کچھ دیر وہ سوچتا رہا ، پھر اپنا خیال جھٹک کر اس نے نظر آگے کی جانب دوڑانا شروع کی
ایک اور آیت پہ پیاسی نظروں کا خشک تالاب رک گیا
” اور جو لوگ ایمان لاٸے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ، ان کو ہم ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ وہاں ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی ، اور ہم انہیں گھنی چھاٶں میں داخل کریں گے “
سورة النساء آیت نمبر 57

اس کے سینے سے ایک کراہ نکلی ۔ سر کو بے بسی سے داٸیں باٸیں جھٹک کر اس نے پینسل چھوڑی اور سر کرسی کی پشت سے ٹیک دیا
ایمان ۔۔۔۔ ایمان
یہ ہوتا ہے ایمان! او گاڈ
تو میں کیا ہوں ؟ مشرک ؟

منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے وہ دوبارہ جھک گیا اور نظر آگے لے گیا
” (مسلمانو!) یقینًا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں تک پہنچاٶ ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ۔ یقین جانو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے ۔ بیشک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے “
سورة النساء آیت نمبر 58
ہاٸیں! مسلمان انصاف کرتا ہے ؟ تو میں نے کیا سنا ؟
غلط تھا وہ سب ؟
سوچتے سوچتے اس نے اس آیت سے کچھ پیچھے نظر دوڑاٸی ۔
” بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ہے ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے ۔ جب بھی ان کی کھالیں جل جل کر پک جاٸیں گی ، تو ہم انہیں ان کے بدلے دوسری کھالیں دے دیں گے تا کہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں ۔ بیشک اللہ صاحب اقتدار بھی ہے ، صاحب حکمت بھی ۔“
سورة النساء آیت نمبر 56

اف گاڈ
ایک دم اس کے منہ سے نکلا ۔ اس اپنے حلق میں کوٸی گولہ سا محسوس ہوا ، شاید آنسٶوں کا ، یا شاید اذیت کا ۔۔۔ اس نے اس گولے کو نگلنے کی کوشش کی مگر وہ نجانے کیسے اوپر اٹھ کر اس کی آنکھوں میں سمٹ آیا ، اندر سے کوٸی درد تھا جو اسے دھکا دے رہا تھا اور وہ باہر نکلنے پہ بے تاب تھا ۔اسے لگا اس کی آنکھوں کے آگے دھند چھا رہی ہے ۔ آخر صبر آخری کنارے جا لگا ۔۔ درد نے تمام حدیں کراس کیں اور اس نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا ۔ اگلے ہی لمحے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ۔۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بڑے سے خوبصورت ہال کی ہر چیز ہی بین کرنے لگی ، منقش فرنیچر ، خوبصورت سینریاں ، بیش قیمت قالین ، پردے اور وہ تہہ خانہ جو اس نے کل غصے سے بے تاب ہو کر اپنے پیروں تلے روندا تھا ، ہر چیز رو رہی تھی ، بچوں کی طرح بلک بلک کر ۔ دوزخ نے شاید بہت گہرا سانس کھینچا تھا اور اس کی ساری خوشیاں نگل گٸی تھی ۔
”یا خدا تجھے تیرا ۔۔۔۔ ہاں تیرا واسطہ مجھے اس اذیت سے نجات ۔۔۔“ آگے وہ کچھ نہ کہہ سکا ۔ لفظ آنسُو بن گٸے ۔۔ وہ تڑپ رہا تھا ، مچل رہا تھا ، بلک رہا تھا ۔ ، فریاد کر رہا تھا ، سراپا درد بن گیا تھا ، اپنی عاقبت کے خوف سے بے حال ہو کر وہ بلک بلک کر رو رہا تھا ، اور اس خدا کے سامنے سراپا فریاد بن گیا تھا جس کے ساتھ اب تک وہ کسی اور کو شریک ٹھہراتا آیا تھا ۔۔۔ وہ اس سے معافی مانگ رہا تھا ۔ بخشش کی التجا کر رہا تھا ، جہنم سے رہاٸی مانگ رہا تھا ، عذاب سے نجات مانگ رہا تھا اس کے باوجود کہ وہ ۔۔۔ مسلمان نہیں تھا!
”ہاں تجھے تیرا واسطہ ، تیرے جلال کا واسطہ ، تیری بڑاٸی کا واسطہ ہے ، تیری آیات کا واسطہ ہے اور تیرے اقتدار کا واسطہ ہے مجھے اس آگ میں نہ ڈالنا مالک مجھے نکال لے دیکھ میں تیرے سامنے ہاتھ جوڑ رہا ہوں ، تیری منت کر رہا ہوں ، تیرے پیر پکڑ رہا ہوں ،تیرے قدموں میں اپنا سر رکھتا ہوں ، تیرا دوست بن رہا ہوں ، تیری مان رہا ہوں ، تجھے یکتا تسلیم کر رہا ہوں ، مجھے اس عذاب سے نکال لے آہ اب نکال لے ۔
اللہ میں خود کو نہیں جلا سکتا ۔ سالن گرم کرتے میری انگلی کا پورہ بھی گرم برتن سے ٹچ ہو میری چیخ نکل جاتی ہے ۔ میں کہاں تیری دوزخ سہوں گا ۔ کیسے اپنی کھال جلواٶں گا ۔ پھر نٸی کھال جلواٶں گا ۔ پھر اور کھال ۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔ میں یہ نہیں سہہ سکتا ۔ اللہ میں تو بہت نازک ہوں ، بہت کمزور ہوں ، میں اس آگ میں نہیں جل سکتا ، نہیں جل سکتا ۔تو اب مجھے معاف کر دے ۔ دیکھ میرا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لے ۔ مجھے اس عذاب میں سے نکال لے ۔ اپنے نبی کی خاطر نکال لے ۔ اپنے آخری نبی کی خاطر ۔ اپنے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی خاطر ۔ اپنے محبوب کی خاطر ۔۔۔ اپنے پیارے کی خاطر “
اس کی بولنے کی ہمت تک جواب دے گٸی ۔ اب بس اس کی سسکیاں اور ہچکیاں گونج رہی تھیں ۔
(خزانے کی تلاش جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں