214

 خون سے لکھی وصیت

تحریر شئیر کریں

جاسوسی کہانی

دھوپ میں نہائے اُس شام نے بھی کیا غضب کیا تھا، جب نایاب خوابوں کے تعاقب میں ایک بیٹے نے اپنے باپ کے سینے میں پندرہ گولیاں اتار دیں۔ قاتل نے کام مکمل کیا۔ ہر گولی کے بعد وہ دھڑکتے دل کی آواز سنتا رہا، جو شاید آخری سانس تک بیٹے کا نام پکارتی رہی۔

لاش کو جنگل میں دفن کرتے ہوئے جب وہ قاتل جیب کی تلاشی لینے لگا تو ایک تہہ شدہ پرانا کاغذ اُس کے ہاتھ لگا۔ کانپتے ہاتھوں سے اُسے کھولا۔ دھوپ کی لکیریں کاغذ پر پڑ رہی تھیں اور وہ الفاظ جو خون میں لپٹے ہوئے محسوس ہو رہے تھے:

“میرے بیٹے کے نام،
اگر تو یہ خط پڑھ رہا ہے تو شاید میں اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ مجھے اندازہ ہے کہ میری زندگی میں تمہیں بہت کچھ دینا باقی رہ گیا تھا۔ میں نے ہمیشہ تمہارے خواب بڑے دیکھے، پر میری جیب چھوٹی تھی۔ پندرہ کروڑ کی گاڑی کا وعدہ میں کل پورا کرنے والا تھا۔ میں نے اپنی پرانی فیکٹری بیچ دی ہے، تمام قرض اتار دیے ہیں، اور تمہارے نام پر ایک نئی کمپنی رجسٹر کروائی ہے جس کی مالیت اس وقت بھی سترہ کروڑ ہے۔
کل کی ملاقات اسی سلسلے میں تھی۔
مجھے تم پر ناز تھا کہ تم بڑے خواب دیکھتے ہو، مگر یہ معلوم نہ تھا کہ تمہارے دل میں صبر اور وفا کا سایہ اتنا کمزور ہے۔
میری ایک ہی وصیت ہے—
کبھی محبت کو دولت سے نہ تولو، اور کبھی باپ کو دشمن نہ سمجھو،
تمہارا باپ
زاہد رحیم”

قاتل کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ دل لرز اٹھا۔ زمین کے نیچے ایک باپ لیٹا تھا، اور اُس کے ہاتھ میں ابھی بھی اپنے بیٹے کے خوابوں کا چراغ تھاما ہوا تھا۔

اسی لمحے قاتل نے موبائل نکالا، بیٹے کا نمبر ڈائل کیا، اور بھاری لہجے میں کہا:
“جس لاش کو تم نے دفن کروایا ہے، اُس میں تمہارا مستقبل دفن ہوا ہے۔ اُس کی جیب سے جو خط نکلا ہے، وہ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی سزا بنے گا۔”

نوجوان کی ہنسی خشک ہو گئی، آنکھوں میں اندھیرے چھا گئے۔ ہاتھ سے موبائل چھوٹا اور زمین پر گر کر ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد نہ اُس نے گاڑی دیکھی، نہ گرل فرینڈ۔ روز عدالتوں اور تھانوں کے چکر، دل میں باپ کی آہ، اور راتوں کو وہی خط بار بار پڑھتا۔

جنگل کی زمین ہر روز ایک نئی وحشت اُگلتی ہے، مگر اُس دن، ایک خط نے انسانیت کو آئینہ دکھایا۔ یہ کہانی نہیں، وقت کا طمانچہ ہے—
جو اولاد کو بتاتا ہے کہ باپ کا سایہ جائے تو کچھ نہیں بچتا۔

محبت گولیوں سے نہیں ناپی جاتی، اور خواب، خون سے پورے نہیں ہوتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں