دانت صاف کرنا جدید مگر قدیم روایت ہے۔جانیے قلم۔کتاب پر دانت برش کرنے کے حوالے سے دلچسپ و عجیب معلومات
دانت انسانی جسم کا وہ حصہ ہیں۔جسے صاف کرنے کا فن انسان نے بہت پہلے ہی سے سیکھ لیا تھا۔اس معاملے میں بھی عراق بابل کی تہذیب ٹاپ پہ کھڑی نظر آتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے 3500 قبل۔مسیح میں بابل کے لوگ دانت صاف کرتے تھے مگر اس مقصد کے حصول کے لیے درختوں کی چھال استعمال کی جاتی تھی۔درخت کے حصول کے لیے یہ لوگ کافی تگ ودو کرتے تھے کہ خوشبودار لکڑی کا حصول ممکن بن سکے۔جو ان کے دانت صاف کرنے کے ساتھ ساتھ انکی سانسوں کو بھی مہکا سکیں۔
انسانیت ایسے ہی دانت صاف کرتی رہی۔۔۔مختلف مذاہب نے بھی دانتوں کو صاف کرنے کی تعلیمات ملتی ہیں۔جن میں اسلام سرفہرست ہے۔یہاں بھی مسواک وہی طریقہ دکھائی دیتا ہے جو بابل اور نینوا کی تہذیبوں میں ملتاہے۔جدید سائنس آج اس طریقے کی معترف ہے۔اور یہی سب سے بہترین طریقہ بھی گردانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دانتوں کی بیماریاں اور انکے عمومی صحت پر اثرات
برش سے دانت صاف کرنا
پندرھویں اور سولہویں صدی میں چین میں دانت صاف کرنے کی غرض سے پہلا برش بنایا گیا۔اور اس برش کو بنانے میں جانوروں کی ہڈیاں بانسے اور خنزیر کے بال استعمال کیے گۓ تھے۔اس کے بعد 1780 میں انگلینڈ میں بڑے پیمانے پر اسء طرز پر۔برش بناۓ گے۔1885 میں امریکہ میں بڑے پیمانے پر برش تیار کیے گۓ۔1938 میں نائیلون کے دھاگے سے بنے برش نے بڑی مقبولیت حاصل کی۔
برش بن گیا اور مقبول ہونا شروع ہو گیا۔اب اس میں جدت آتی گی۔بجلی سے چلنے والا برش 1939 میں سوئزرلینڈ میں بنایا گیا۔1960 میں پہلا برقی برش اسکویپ کمپنی نے فروخت کیا۔ آج بھی برش جدید سے جدید طرز پر بنانے کی تگ ودو جاری ہے۔مگر مسواک کی اہمیت و افادیت ہر دور میں مسلم رہی ہے۔بطور مسلمان اس کا استعمال اجروثواب کا باعث ہے۔دانت صاف کرنا جدید مگر قدیم روایت ہے۔جو انسان کی صفائی ستھرائی کا پتہ دیتی ہے۔