237

دو عظیم ستارے

تحریر شئیر کریں

سیالکوٹ کی دھرتی واقعی ایک عجیب فیض یافتہ سرزمین ہے۔
یہی مٹی ہے جس نے دو ایسے نایاب ستارے امت مسلمہ کو دیے جنہوں نے علم، فکر، کردار اور جرأت میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔
ایک طرف شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال، جنہوں نے امت کو خودی، آزادی اور اسلامی احیا کا پیغام دیا،
اور دوسری طرف علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید، جو عقیدۂ توحید اور سنت کے مجاہد بن کر باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر گئے۔
ایک قلم کے میدان کا فاتح، تو دوسرا منبر و محراب کا شہسوار۔

دونوں کا تعلق ایک ہی سرزمین سے — سیالکوٹ — مگر دونوں کے اسلوب جدا، مقام و مرتبہ جدا، مگر اصل مشن ایک:
دین حق کا فروغ اور امت کو بیداری دینا۔

علامہ محمد اقبال کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ ان کے اشعار نے ایک غلام قوم میں آزادی کا ولولہ پیدا کیا۔
جرمنی کے شہر ہیڈل برگ کی گلیوں میں اقبال کے اشعار آج بھی دیواروں پر کندہ ہیں۔
ایک بار جب برلن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ان کے کلام کا ترجمہ کیا تو بے اختیار کہہ اٹھا:
“یہ صرف شاعری نہیں، یہ ایک تہذیب کی روح ہے!”
ایسی قوتِ بیان، ایسی حکمت، ایسی جرأت اقبال کے قلم میں تھی۔

دوسری طرف علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید، جنہیں دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کیسے ایک جوانمرد عالم، باطل کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہو گیا۔
ایک ایمان افروز واقعہ یاد آتا ہے کہ ایک بار شام کے شہر دمشق میں جب ان کے لیکچر کے دوران بعض باطل مکتبۂ فکر کے علما نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی،
تو علامہ نے ایک ایک کا جواب قرآن و حدیث کے دلائل سے ایسا مضبوط دیا کہ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
پھر وہ عالم حیرت سے پوچھنے لگا:
“کیا آپ صحابہ کے دور سے آئے ہیں؟”
علامہ نے مسکرا کر جواب دیا:
“نہیں، میں پاکستان کے شہر سیالکوٹ کا ہوں!”

ایک طرف اقبال، جنہوں نے خودی کا فلسفہ پیش کیا اور مسلمانوں کو بتایا کہ
“اپنے اندر کے جوہر کو پہچانو، اللہ کے بندے بنو، کسی دنیاوی طاقت کے غلام نہ بنو۔”
اور دوسری طرف احسان الٰہی ظہیر، جو فرقہ واریت کے اندھیروں میں وحدت اور توحید کا چراغ روشن کرتے تھے۔
ایک بار لاہور میں ایک مجلس کے دوران جب کسی نے دبے الفاظ میں کہہ دیا کہ یہ بات فلاں مسلک کے خلاف ہے،
تو علامہ نے نہایت مضبوط لہجے میں کہا:
“اگر حق کہنا کسی کے خلاف ہے تو میں ہر لمحہ یہ حق دہراتا رہوں گا، چاہے اس راہ میں جان بھی دینی پڑے۔”
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ اپنے اسی مؤقف پر شہادت پا گئے۔

ایک تقابلی نگاہ ڈالیں تو اقبال نے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا اور احسان الٰہی ظہیر نے منبر اور تحریر دونوں کو۔
اقبال نے امت کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہونے کا راستہ دکھایا،
جبکہ احسان الٰہی ظہیر نے عقیدہ کی پاکیزگی کے لیے اپنا لہو دے دیا۔

دونوں کی زندگیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ جب ایمان دل میں جاگزیں ہو اور اخلاص نیت میں ہو، تو علم و کردار کے میدان میں وہ چراغ روشن ہوتے ہیں جنہیں زمانے کی آندھیاں بجھا نہیں سکتیں۔
اقبال نے کہا تھا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے؟
اور احسان الٰہی ظہیر نے عملی طور پر یہی خودی کا سبق دیا کہ اپنی جان دے دی مگر حق پر سمجھوتہ نہ کیا۔

آخر میں بس یہی دعا نکلتی ہے کہ:
اللہ تعالیٰ سیالکوٹ کی ان دو عظیم ہستیوں کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،
اور ہمیں بھی دین کے لیے سچ بولنے اور جرأت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

دو عظیم ستارے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں