239

ذوالجناح کی حقیقت

تحریر شئیر کریں

تحریر:شکیلہ منظور

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ میں اپنی کلاس کی ایک ہونہار اور ذہین طالبہ میں شمار ہوتی تھی۔ میری ایک ہم جماعت سہیلی نے ایک دن مجھ سے کہا، “پتا ہے فاطمہ! میں بھی تمہاری طرح ذھین اور ہوشیار ہوجاؤں گی۔” میں نے حیرانی سے پوچھا، “اچھا وہ کیسے؟”

ذوالجناح کی حقیقت کیا ہے؟

اس نے جواب دیا، “آٹھ ربیع الاول کو ہمارا قافلہ ہے اور اس میں ہمارے سائیں ذوالجناح آئیں گے۔ میں ان سے دعا کرواؤں گی اور وہ دعا قبول ہو جائے گی، جس سے میں ہوشیار ہوجاؤں گی۔” میں نے مزید پوچھا، “آپ لوگوں کے سائیں ذوالجناح کیسے ہیں؟” اس نے بتایا کہ وہ بہت خوبصورت ہے اور اس پر رنگ برنگی دوپٹے ڈالے جاتے ہیں۔ ان کے پاس جو بھی دعا کروائی جائے، وہ قبول ہوجاتی ہے۔

اسلامی تعلیمات اور شرک

جب میں وہاں پہنچی اور ذوالجناح کو دیکھا تو حیران رہ گئی کہ یہ تو ایک گھوڑا ہے۔ میری سہیلی نے مجھے بتایا کہ گھوڑے کو گھوڑا کہنا گناہ ہے۔ میں نے سوال کیا، “گھوڑے کو گھوڑا کہنے سے گناہ کیسا؟” میں نے دیکھا کہ وہاں موجود لوگ گھوڑے کے سامنے دوپٹے پھیلا رہے تھے اور دعا مانگ رہے تھے، جیسے کہ یہ کوئی مقدس ہستی ہو۔

یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ کس طرح لوگ اسلام کی بنیادی تعلیمات کو چھوڑ کر ایسی خرافات میں پڑ گئے ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، *”إِنَّ الشّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ”* (یقیناً شرک ایک عظیم ظلم ہے)۔

شرک کی حقیقت اور اسلام کا پیغام

شرک کی سنگینی یہ ہے کہ یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے برابر کسی اور کو سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔ جو ہستی کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتی، اسے اللہ کے برابر ماننا سب سے بڑا ظلم ہے۔ اسلام نے ہمیں سکھایا کہ ہماری تمام دعائیں صرف اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہئیں، کیونکہ وہی ہر چیز کا مالک ہے۔

صرف اللہ سے مانگنا چاہیے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: “مجھ سے مانگو، میں تمہیں عطا کروں گا۔” اس لیے کسی اور کے پاس جانے کے بجائے ہمیں اپنی تمام حاجات کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے اور نبی ﷺ کی سنت کو اپنانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں