349

رائٹر مستنصر حسین تارڈ

تحریر شئیر کریں

رائٹر مستنصر حسینن تارڑ کون ہیں ؟ ان کی زندگی کی مختصر داستان


کہتے ہیں اردو ادب اور اس سے جڑے لوگ اب ناپید ہوتے جارہے ہیں ۔ مگر ہم ایک چہرہ کیسے بھول سکتے ہیں جو ادبی دنیا میں آج بھی چمکتا ستارہ ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ جن کو نوے کی دہائی میں ٹی وی سکرین پر دیکھا گیا۔ اور بے حد پسند بھی کیا گیا۔ صبح صبح لوگ اس شخص جسے چاچا جی کہتے تھے ان کی میٹھی اور ادب سے بھری تہذیب یافتہ گفگتو سننے کے لئے بیٹھ جاتے تھے۔ کئی سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ صرف میزبان ہی نہیں رہے بلکہ انہوں نے اداکاری میں بھی اپنے جوہر دکھائے۔


مستنصر حسین تارڑ نہ صرف ایک کامیاب ناول نگار ، افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار ، کالم نویس اور سفر نامہ نگار تھے بلکہ وہ ٹی وی سکرین پر بہترین میزبان اور اداکار بھی تھے۔ ادب کی اتنی صنف سے تعلق کی وجہ سے وہ بہت معروف ادبی شخصیت ہیں۔ جنہیں پورا پاکستان جانتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ لاہور میں 1739 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کسان تھے۔ مستنصر حسین کا بچپن لاہور کے مشہور لکشمی مینشن میں گزرا۔

مستنصر حسین تارڑ صاحب نے انٹر تک لاہور سے پڑھا پھر والد صاحب نے انجئیرنگ کے لئے برطانیہ بھیج دیا ۔ آپ پڑھائی کے علاوہ سیاحت بھی کرتے رہے اور ادب کے پہلو کو بھی سیکھتے رہے۔ برطانیہ سے واپسی کے آپ نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ پی ٹی وی کے ساتھ کئی ڈراموں میں آپ نے اداکاری کی ۔ پھر 1974 میں آپ نے پہلا ڈرامہ آدھی رات کا سورج لکھا۔ اور اس طرح آپ نے بطور مصنف ڈرامہ نگاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ اور بہت سےڈرامے لکھے جن میں فریب ، ایک حقیقت ایک افسانہ ، کیلاش شامل ہے۔

آپ صبح کے شو کی میزبانی میں بھی کئی سال تک نظر آئے مگر ان کا پہلا شوق لکھنا ہی تھا جو ساتھ جاری رہا۔ مستنصر حسین کی پہلی کتاب ” پیار اکا پہلا شہر ” منظر عام میں آتے ہی مشہور ہوئی اور ہاتھوں ہاتھ خریدی گئی۔ ان کی یہ کتاب آج بھی مشہور اور پڑھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ کےمشہور ناول میں تارڑ نامہ ، بہاؤ ، راکھ خش و خاکاک زمانے ۔ کاروان سرائے اور بہت سی کتابیں شامل ہے۔ آپ کے ناول راکھ کو بہترین ناول کا وزیر اعظم ادبی ایوارڈ دیا گیا۔


اس کے علاوہ رائٹر مستنصر حسین تارڑ کو سیاحت اور سفر کا بھی شوق ہے اور آپ زمینی سفر کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ آپ نے زمینی سفر پاکستان کے بعد افغانستان سے شروع کیا پھر ایران ، ترکی اور وہاں سے پورے یورپ کا سفر ریل کے ذریعے کیا۔ اور اس دوران آپ نے بہت سے سفر نامے لکھے جس میں اندلس میں اجنبی ، سنہری الو کا شہر ، شمشال بےمثال اور بہت سے مشہور سفر نامے شامل ہیں۔ ایسے سفر نامے جسے پڑھنے والاخود کو ان کے ساتھ سفر کرتا ہوا تصور کرتا ہے۔رائٹر مستنصر حسین تارڑ جیسے لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں جن کی قدر ان کی زندگی میں کرنا قوم کا فرض ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں