227

رہائی افسانہ

تحریر شئیر کریں

روبینہ شاہین

بانو، ایک ساٹھ سالہ بیوہ، چار بچوں کی ماں تھی۔ شوہر کو کھوئے ہوئے پندرہ سال گزر چکے تھے، اور ان پندرہ سالوں میں اس نے اپنی ہر خواہش کو بچوں کی پرورش کے لیے قربان کر دیا۔ دن رات کی محنت، بےشمار دعائیں، اور بےشکایت قربانیاں، سب کچھ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے تھیں۔
لیکن آج، جب بچے اپنی اپنی زندگیاں بسا چکے تھے، بانو خود کو شدید تنہائی کا شکار محسوس کر رہی تھی۔ چاروں بچے اپنے گھر اور زندگیوں میں مصروف تھے، اور بانو کے لیے وقت نکالنا کسی کے لیے ممکن نہ تھا۔

—
ایک دن، محلے کی ایک بزرگ خاتون نے بانو کو مشورہ دیا کہ وہ دوسری شادی کر لے۔ “بیٹی، شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، اور تمہارا بھی حق ہے کہ باقی زندگی کسی کے سہارے گزارو۔”
یہ مشورہ بانو کے دل میں اتر گیا، مگر اس کے ذہن میں ایک سوال اٹھ کھڑا ہوا: “میرے بچے کیا کہیں گے؟”

بانو نے ہمت کر کے بچوں سے بات کی۔ بڑی بیٹی نے فوراً کہا، “امی، اس عمر میں یہ باتیں مناسب نہیں۔ لوگ کیا کہیں گے؟”
بیٹا غصے میں بولا، “امی، ہمیں کیا کمی رہ گئی ہے؟ آپ کو ہماری ضرورت نہیں رہی؟”
دوسری بیٹی نے شوہر کے ذریعے پیغام بھجوایا: “امی، اگر آپ نے ایسا سوچا بھی تو ہم سے کوئی تعلق نہ رکھنا۔”

بانو چپ چاپ سب کی باتیں سنتی رہی۔ کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ وہ بھی ایک انسان ہے، اس کے بھی جذبات ہیں، اور وہ بھی companionship کی حق دار ہے۔

—
ایک دن مسجد کے امام صاحب نے ایک خطبے میں بانو کے حالات پر روشنی ڈالی، مگر عمومی الفاظ میں۔ انہوں نے بتایا کہ شریعت کسی بھی عمر میں نکاح کی اجازت دیتی ہے، اور یہ انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس بات نے بانو کے دل میں امید کی ایک کرن جگا دی۔

—
بانو نے ایک فیصلہ کیا۔ وہ بچوں کی ناراضگی کا بوجھ لیے بغیر خود کو شریعت کی رہنمائی میں آزاد کرنے کا ارادہ کر چکی تھی۔ ایک شریف، عمر رسیدہ شخص، جو خود بھی بیوہ تھا، بانو کی زندگی میں شامل ہونے کے لیے تیار تھا۔ بانو نے بچوں کو بتایا، “میرے اس فیصلے کا مطلب تم سے دوری نہیں، بلکہ اپنی زندگی کی تکمیل ہے۔”
بچے ناراض ہوئے، مگر بانو نے خاموشی کے بجائے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی۔

—
بانو کا نکاح ہو گیا۔ اس کی زندگی میں سکون لوٹ آیا، اور وقت کے ساتھ بچوں نے بھی یہ حقیقت قبول کر لی کہ ان کی ماں بھی ایک انسان ہے، جسے تنہائی اور جذباتی سکون کی ضرورت تھی۔

—

افسانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم شریعت کے اصولوں کو سمجھیں اور والدین کو بھی وہی حقوق دیں جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔ جذباتی بلیک میلنگ اور خودغرضی سے نکل کر آسانیاں پیدا کریں، کیونکہ یہی دین کا راستہ ہے۔

رہائی افسانہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں