زیادتی کے بڑھتے ہوۓ واقعات لمحہ فکریہ
رابعہ شیخ
السلام علیکم قارئین
بہت دنوں بعد قلم اٹھایا ہے شاید اس لئے سمجھ نہیں پارہی کے شروعات کہاں سے کروں ۔ دن بدن زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے دماغ ماؤف کردیا ہے ۔
ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے مگر میں آج یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ریپ ( زیادتی ) کرنے کے لئے ایک عورت , لڑکی یا بچی کی عمر کیا ہونی چاہیے ؟ یہ سوال دیکھ کے آپ کو میری ذہنی حالت پہ شک ہو رہا ہو گی ؟ مگر میں کیا کروں ؟ میں جس معاشرے میں رہ رہی ہوں وہاں درندگی بڑھتی جارہی ہے ۔ آئے دن زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات لوگوں کی گندی ذہنیت , ہوس پرستی اور ان میں موجود حیوانیت کا جن قابو میں نہیں آرہا ۔
کیا اس دور میں عورت محفوظ ہے ؟ میرے خیال سے نہیں کیونکہ کبھی کسی موٹروے پر اس کی بے حرمتی کی جاتی ہے تو کبھی آفس وغيرہ میں اسے ہراساں کیا جاتا ہے چھوٹی معصوم بچیاں ہر چیز سے ناواقف ہوتی ہیں جانور انہیں بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہے ہیں
کیا ہماری مائیں اپنے بیٹوں کی تربیت کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں ؟ شاید شاید اسی لئے لوگ بیٹی پیدا ہونے پر خوشی نہیں مناتے ؟ بیٹیوں کے ماں باپ اس لئے اتنے حساس ہوتے ہیں کیونکہ انہیں ہر وقت اسے محفوظ رکھنے کے خیالات نے گھیرا ہوتا ہے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ جس طرح کے حالات چل رہے ہیں کوئی چاہے گا کہ اس کے گھر بیٹی
خواتین کے بناؤ سنگھار میں کچن ٹپس کا کرداریہ بھی پڑھیے
پیدا ہو ؟
میرا آج سب سے سوال ہے کہ بتائیں مجھے کہ غلطی کہاں ہو رہی ہے ؟ کیا ہماری مائیں اپنی اولاد کی صحیح تربیت نہیں کر پارہیں جو وہ جانور بن گئے ہیں ؟ یا یہ سب ان فحش سائیٹس کا نتیجہ ہے جن تک رسائی اب نہایت آسان
زیادتی کے بڑھتے ہوۓ واقعات لمحہ فکریہ