جاسوسی کہانی
انسپکٹر ریحان لاہور کی قدیم گلیوں میں چلتے ہوئےمحسوس کرتا ہے کہ کوئی اس کے تعاقب میں ہے۔ دھند میں لپٹی گلیاں، پرانی عمارتوں کے سائے اور کہیں دور سے آتی بلی کی چیخ سب کچھ غیر معمولی لگ رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا خط ہے، جسے پڑھ کر اس کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے: “اگر زندگی عزیز ہے تو کیس بند کر دو۔ سائے لوٹ آئے ہیں!”
یہ کیس ایک ہفتہ پہلے شروع ہوا تھا، جب شہر کے معروف صنعتکار فیروز ملک کی لاش اس کے ہی بنگلے کے اندر ملی۔ کمرہ اندر سے بند تھا، نہ کوئی انگلیوں کے نشان تھے، نہ ہی کسی جدوجہد کے آثار، بس دیوار پر خون سے لکھا ہوا ایک لفظ تھا: “سایہ”۔ قتل سے ایک دن پہلے اس کا سیکرٹری اچانک غائب ہو گیا تھا، اور اس سے پہلے بھی شہر میں دو اہم شخصیات پر قاتلانہ حملے ہو چکے تھے۔ انسپکٹر ریحان کو یہ سب معمولی اتفاقات نہیں لگ رہے تھے۔
“سر! ایک چوکیدار نے بتایا ہے کہ قتل سے کچھ دیر پہلے ایک سیاہ کوٹ پہنے شخص کو دیوار پھلانگتے دیکھا گیا تھا، لیکن اس کا چہرہ نہیں دیکھا جا سکا۔” سپاہی ناصر اطلاع دیتا ہے۔
اگلی رات، جب ریحان کیس کی تفصیلات دیکھ رہا ہوتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ فیروز ملک کے قتل کی رات ایک پراسرار کال آئی تھی۔ نمبر ٹریس کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کال ایک پرانے، بند ہو چکے گھر سے کی گئی تھی، جو کبھی “سایہ گروپ” کا ہیڈکوارٹر سمجھا جاتا تھا۔ سایہ گروپ؟ یہ نام ریحان کو بچپن کی کہانیوں کی طرح یاد آتا ہے۔ ایک زمانے میں شہر میں ایک خفیہ گروہ سرگرم تھا جو کاروباری شخصیات کو بلیک میل کرتا تھا۔ لیکن کئی سال پہلے پولیس کی کارروائی کے بعد وہ غائب ہو گیا تھا۔
دوسری رات ریحان اور ناصر وہ بند گھر کھولتے ہیں۔ ہر طرف جالے اور دھول ہے، جیسے کئی سالوں سے یہاں کوئی نہیں آیا ہو۔ لیکن جیسے ہی وہ ایک پرانی الماری کھولتے ہیں، اندر سے ایک لاش گر جاتی ہے۔ یہ فیروز ملک کا غائب شدہ سیکرٹری تھا۔
“مطلب یہ آدمی قتل سے پہلے ہی مر چکا تھا!” ناصر ہانپتے ہوئے کہتا ہے۔
تبھی پیچھے سے کوئی سرگوشی کرتا ہے: **”یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…”**
ریحان فوراً مڑ کر دیکھتا ہے، لیکن کوئی نہیں ہوتا۔ اچانک روشنی گل ہو جاتی ہے، اور کمرے میں ایک سایہ حرکت کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ریحان کیس کو مزید کھوجتا ہے اور اسے پتہ چلتا ہے کہ “سایہ گروپ” کا پرانا سربراہ کامران جتوئی پانچ سال پہلے جیل سے رہا ہوا تھا، اور اس کے بعد سے اس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ جب وہ کامران کے پرانے ساتھیوں کا کھوج لگاتا ہے، تو ایک نام سامنے آتا ہے—بشیر چور، جو ابھی بھی شہر میں موجود ہے۔
بشیر کو پکڑ کر سخت تفتیش کی جاتی ہے تو وہ سب کچھ اگل دیتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ فیروز ملک پرانے سایہ گروپ کا حصہ تھا، اور جب گروہ ختم ہوا تو اس نے ان کے پیسے لے کر اپنا کاروبار کھڑا کر لیا۔ لیکن اب کامران جتوئی بدلہ لینے کے لیے واپس آیا ہے۔
“اور تم لوگ اس کے لیے کام کر رہے ہو؟” ریحان پوچھتا ہے۔
بشیر نفی میں سر ہلاتا ہے: “ہم بھی ڈر رہے ہیں، صاحب! کامران کو ہم نے آخری بار جیل جاتے دیکھا تھا… جو اب آیا ہے، وہ کامران نہیں، کچھ اور ہے!
ریحان فوراً کامران جتوئی کے جیل ریکارڈ چیک کرتا ہے، اور حیران کن انکشاف ہوتا ہے کہ کامران جتوئی تو جیل میں ہی مر چکا تھا۔ تو پھر یہ کون تھا جو اس کے نام پر قتل کر رہا تھا؟
ریحان کو اچانک یاد آتا ہے کہ فیروز ملک کے پرانے کیس میں ایک نام بار بار آ رہا تھا—سعد ملک، جو اس کا سگا بھتیجا تھا۔ جب وہ سعد کے بینک ریکارڈز کی چھان بین کرتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اکاؤنٹ میں اچانک بھاری رقم منتقل ہوئی تھی۔
اندھیرے میں ڈوبی ایک ویران فیکٹری میں، جہاں صرف ایک لٹکتا ہوا بلب روشنی دے رہا ہے، سعد ملک ایک کرسی پر بیٹھا سگار پی رہا ہوتا ہے۔
“تو تمہیں آخر کار پتہ چل ہی گیا، انسپکٹر!” سعد طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے۔سائے کی واپسی
“یہ سب تمہارا کھیل تھا؟ تم نے کامران جتوئی کا نام استعمال کر کے قتل کیے؟”
سعد قہقہہ لگاتا ہے۔
“کامران مر چکا تھا، مگر اس کے نام کا خوف آج بھی زندہ تھا۔ میں نے اسے استعمال کیا تاکہ پولیس بھٹک جائے اور مجھے کوئی نہ پکڑ سکے!”
“مگر اب تم پکڑے جا چکے ہو!” ریحان اشارہ کرتا ہے اور پولیس کی ٹیم اندر داخل ہو جاتی ہے۔
سعد بھاگنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن دروازہ پہلے ہی لاک ہو چکا ہوتا ہے۔ جیسے ہی پولیس اسے قابو کرتی ہے، وہ غصے سے چیختا ہے: “یہ ختم نہیں ہوا، ریحان! سایہ ہمیشہ واپس آتا ہے!سائے کی واپسی
ریحان کے ذہن میں اب بھی ایک سوال باقی ہے۔ اگر یہ سب کچھ سعد کا منصوبہ تھا، تو اس رات بند گھر میں سرگوشی کرنے والا کون تھا؟
وہ جیب سے وہی دھمکی آمیز خط نکالتا ہے اور اس پر لکھی آخری سطر پر نظر ڈالتا ہے: “سائے کبھی نہیں مرتے، وہ صرف وقت کے انتظار میں چھپ جاتے ہیں…”
سائے کی واپسی