243

سفر آخرت کی تیاریاں

تحریر شئیر کریں

غسل کا لمحہ…

یہ کوئی عام عمل نہیں…
یہ وہ گھڑی ہوتی ہے جب ایک خاموش جسم دنیا کی آغوش میں پڑا ہوتا ہے
مگر آسمان پر فرشتے احترام سے جھکے کھڑے ہوتے ہیں۔
جو لوگ اس جسم کو غسل دیتے ہیں، انہیں چاہیے کہ نرم لہجے میں اس کے کان کے قریب جا کر کہیں:
“میں تمہارا فلاں ہوں… میں تمہیں غسل دینے آیا ہوں…
تم رب کی بارگاہ کی طرف ایک خوبصورت سفر پر روانہ ہو رہے ہو… گھبرانا مت،
ان شاء اللہ یہ ملاقات تمہارے لیے خوشیوں بھری ہوگی۔”

لمس میں نرمی ہو، ہاتھ میں سکون ہو
اور دل میں اللہ کا خوف۔
ستر کی حفاظت ایسے کہ نگاہ بھی بے ادبی نہ کرے۔
اور اگر ممکن ہو تو میت کا ماتھا چوم لو،
اسے یوں سینے سے لگا لو جیسے وہ ابھی سانس لے رہا ہو۔
کیونکہ وہ سن رہا ہوتا ہے… محسوس کر رہا ہوتا ہے…
بس کہہ نہیں پاتا۔

اس سے دریافت کرو کہ وہ پانی کیسا پسند کرتا تھا
اور اسی درجہ حرارت پر پانی رکھو…
تاکہ اس کی روح اطمینان پائے۔

یقین جانو — یہ لمحے اللہ کی خاص نظر میں ہوتے ہیں۔
جو شخص ان لمحوں میں اللہ سے ڈرتا ہے
اور میت کے لیے محبت اور احترام سے پیش آتا ہے
وہ اللہ کے محبوب بندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔

—

قبر میں اتارنے کے بعد…

جب میت کو قبر میں لٹا دیا جائے
مٹی برابر کر دی جائے
اور سب لوگ واپس پلٹ جائیں
تو اس وقت بھی کسی قریبی کا فرض ہے
کہ قبر کے پاس رک کر نرمی سے کہے:

“اے اللہ کے بندے!
یاد رکھو… ابھی تمہارے پاس دو فرشتے آئیں گے…
تم سے سوال کریں گے:
‘من ربک؟’
تو تم کہنا… ‘میرا رب اللہ ہے’
‘من نبیّک؟’
تو کہنا… ‘میرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں’
‘ما دینک؟’
تو کہنا… ‘میرا دین اسلام ہے۔’

دل مضبوط رکھنا،
یقین رکھنا کہ تم اپنے رب کی بارگاہ میں ہو
اور وہ بڑا مہربان ہے۔”

یہ الفاظ قبر میں لیٹے وجود کے لیے
حوصلہ، تسلی اور اعتماد کا پیغام ہوتے ہیں۔
یقین رکھو — وہ سنتا ہے، محسوس کرتا ہے۔
یہ وہ لمحے ہوتے ہیں
جو بندے اور رب کے درمیان راز اور خشیت سے بھرے ہوتے ہیں۔

اور جو ان گھڑیوں میں اخلاص سے عمل کرے
اللہ اسے بھی ویسا ہی حسنِ انجام عطا فرماتا ہے۔

اللّٰہم ارزقنا حسن الخاتمہ… آمین
اللّٰہم اجعلنا ممن يحسن العمل سرا وعلنا… آمین

سفر آخرت کی تیاریاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

“سفر آخرت کی تیاریاں” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں