234

سٹور روم کا راز

تحریر شئیر کریں

میرا شوہر مجھ سے عمر میں بیس سال بڑا تھا۔ زندگی کے دن یونہی لڑائی جھگڑوں میں گزر رہے تھے۔ ہر روز کی تلخی، ہر رات کی کڑواہٹ۔ ایک دن اچانک اسے فالج ہو گیا۔ اب وہ بستر پر پڑا رہتا، اور ہر رات روتے روتے اشاروں سے بار بار سٹور روم کی طرف اشارہ کرتا۔

میں حیران تھی۔ وہاں آخر کیا ہے؟ جب بھی میں سٹور روم جاتی، وہی بوسیدہ کارٹن، پرانے سامان اور مٹی سے اٹے برتن۔ مگر اس کی بےچین نظریں جیسے کچھ اور کہہ رہی ہوتیں۔

کچھ دن بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ میں عدت میں بیٹھ گئی۔ دن جیسے سست اور راتیں وحشت بھری ہو گئی تھیں۔ تیسرے دن رات کو سوتے ہوئے پھر وہی اشارے یاد آنے لگے۔ عجیب سی بےچینی دل میں سمٹ آئی۔

صبح ہوتے ہی میں نے سٹور روم کی صفائی کا ارادہ کیا۔ دروازہ کھولا تو اندر ٹھنڈی باسی ہوا کا جھونکا سا محسوس ہوا۔ دھیرے دھیرے پرانے کپڑوں کے ڈھیر ہٹانے لگی۔ ایک کارٹن کے نیچے زمین کچھ نرم سی لگی۔

میں نے ہاتھ سے کھودنا شروع کیا۔ چند لمحوں بعد ایک پرانا لکڑی کا بکس نکلا۔ دل دھڑکنے لگا۔ جیسے وقت تھم گیا ہو۔ بکس کھولا تو اندر ایک پرانا تھیلا تھا۔ اس تھیلے میں کچھ پیلے پڑے کاغذ، پرانے نوٹ اور زیورات تھے۔

مگر سب سے زیادہ چونکانے والی چیز ایک خط تھا۔ کانپتے ہاتھوں سے کھولا تو لکھا تھا:
“میری جان، میں نے اپنی ساری کمائی تیرے لیے سنبھال رکھی ہے۔ شاید میں کہہ نہ سکا، مگر تجھ سے محبت کرتا تھا۔ میرا قصور معاف کر دینا۔ ان سب کو اپنے اور بچوں کے لیے سنبھال لینا۔ بس اس دن کا انتظار کر رہا تھا کہ تجھے بتا سکوں، مگر بیماری نے مہلت نہ دی۔”

میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جسے میں ظالم، بےحس اور سخت دل سمجھتی رہی، وہ دل میں محبت چھپا کے جی رہا تھا۔

میں نے سٹور روم صاف کیا، بکس کو دعائیہ کلمات کے ساتھ بند کیا۔ آج مجھے احساس ہوا کہ ہم بسا اوقات ظاہری تلخی میں اصل جذبات دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

زندگی میں رشتوں کی قدر کرنا سیکھو۔ کبھی کبھی دیر ہو جاتی ہے۔

رشتوں کی اہمیت صرف الفاظ میں نہیں، دل میں ہوتی ہے۔ جو وقت گزر جائے، وہ لوٹتا نہیں۔ اسی لیے زندہ رشتوں کی قدر کیجئے۔

—

سٹور روم کا راز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں