244

شہید مردہ نہیں ہوتا

تحریر شئیر کریں

تابعی عبداللہ بن مبارک کے مشہور اشعار ہیں جو انہوں نے عابد کبیر فضیل بن عیاض کو لکھے تھے۔ یہی اشعار مجاہد کمانڈر ابو عبیدہ نے گذشتہ دنوں اپنے بیان میں کہے

*”یا عابد الحرمین لو ابصرتنا لعلمت انک فی العبادۃ تلعب”*

اے حرمین شریفین کے عابد اگر آپ ہم مجاہدین کو دیکھ لیں
تو آپ جا ن لیں گے کہ آپ تو عبادت کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

*”من کان یخضب خدہ بدموعہ فنحورنا بدمائنا تتخضب”*

اگر آپ کے آنسو آپ کے رخساروں کو تر کرتے ہیں
تو ہماری گردنیں ہمارے خون سے رنگین ہوتی ہیں

*”او کان یتعب خیلہ فی باطل فخیولنا یوم الصبیحۃ تتعب”*

اور لوگوں کے گھوڑے فضول کاموں میں تھکتے ہیں
مگر ہمارے گھوڑے تو حملے کے دن تھکتے ہیں

*”ریح العبیر لکم ونحن عبیرنا رھج السنابک والغبار الاطیب”*

عنبر وزعفران کی خوشبو آپ کو مبارک ہو جبکہ ہماری خوشبو تو
گھوڑے کے کھروں سے اڑنے والی مٹی اوراللہ تعالیٰ کے راستے کا پاک غبار ہے

*”ولقد اتانا من مقال نبینا . قول صحیح صادق لایکذب”*

ہم آپکو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان سناتے ہیں
ایسا فرمان جو بلاشبہ درست اور سچا ہے

*”لا یستوی وغبار خیل اللہ فی انف امری ودخان نارتلھب”*

جمع نہیں ہوسکتی اللہ کے راستے کی مٹی
اور دوزخ کی بھڑکتی آگ کسی شخص کی ناک میں

*”ھذا کتاب اللہ ینطق بنینا لیس الشھید بمیت لایکذب”*

یہ اللہ کی کتاب ہمارے درمیان اعلان فرمارہی ہے کہ
شہید مردہ نہیں ہوتا یہ فرمان بلاشہ سچا ہے…..
شہید مردہ نہیں ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں