شیطان، کائنات کا پہلا جھوٹا صحافی | سبق آموز افسانہ
شروع: جنت کی ہریالی اور پہلا صحافی
جنت کی ہریالی میں، جہاں ہر پھول میں اللہ کی رحمت کی خوشبو تھی، ایک دن ایک عجیب مہمان آیا۔ نہ پرندہ، نہ فرشتہ—بلکہ ایک وجود جو اپنی آنکھوں میں چالاکی اور لبوں پر جھوٹ کی مہک لیے آیا تھا۔
یہ شیطان تھا، کائنات کا پہلا صحافی، مگر ایسا صحافی جو خبریں نہیں، بیانیے بیچتا تھا۔ آج اس کی رپورٹ تھی: آدم اور حوا کی “خیرخواہی” کے نام پر آزمائش۔
بیانیہ کی طاقت
شیطان نے جنت کے سبز راستوں پر قدم رکھا اور اپنے الفاظ کا جال بُننا شروع کیا۔ ہر لفظ سچ کے روپ میں لپیٹا گیا، ہر جملہ خیرخواہی کی چادر میں چھپا دیا گیا۔
حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے پاس پہنچ کر اس نے کہا:
“یہ تمہارے بھلائی کے لیے ہے، مگر خبردار، اگر یہ نہ مانا، تو نقصان ہوگا۔”
الفاظ نرم تھے، مگر اثر زہر کی طرح دلوں میں اتر گیا۔ آدمؑ اور حواؑ نے سوچا، “کیا یہ واقعی ہمارے بھلے کے لیے ہے؟”
جنت سے زمین تک کا سفر
شیطان کی رپورٹ نے حقیقت کا روپ بدل دیا، اور سچ کی جگہ ایک بیانیہ نے لے لی۔ وہ بیانیہ تھا—ایسا بیانیہ جو جنت کے دروازے کو زمین کی خاک میں بدلنے کی طاقت رکھتا تھا۔
اور پھر ہوا وہ جو ہونا تھا: ایک قدم، ایک فیصلہ، اور جنت سے زمین کا سفر شروع ہو گیا۔
سبق آموز اختتام
آج بھی، ہر خبر، ہر لفظ، ہر بات اگر نیت کے زہر سے لکھی جائے، تو وہ زہر بن کر دلوں میں اتر جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے خبردار کیا:
“اور جھوٹی بات نہ سنو اور نہ پھیلاؤ” (الحجرات: 6)
شیطان کا صحافتی امتحان ہمیں یہ سکھاتا ہے: ہر بات سچ نہیں، ہر خبر حق نہیں۔ بیانیہ کی طاقت اتنی بڑی ہے کہ حقیقت کو جھوٹ میں بدل سکتی ہے، اور انسان کی تقدیر کو موڑ سکتی ہے۔
اور یہی سبق رہ گیا: لفظوں کی طاقت کو نیت کی روشنی سے پرکھو، ورنہ زہر بھی سچ کے روپ میں بیچا جا سکتا ہے۔
—
—